میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔قیوم استاد نایاب نہیں تو کم یاب شخصیات میں سے ایک ہیں 

تحریر: شمس الحق قمر بونی 

یہ انیس سو چوراسی پچاسی( ۱۹۸۴) کی بات ہے جب سردیوں میں قیوم استاد کی رہائش گاہ واقع ٹیک لشٹ بونی ایک جامعہ کی شکل اختیار کر جاتی ۔ اور مفت تعلیم کا سلسلہ دسمبر سے مارچ تک جاری رہتا ۔ ادب و زبان کا، استاد تو استاد ہی ہیں لیکن ریاضی جیسے خشک اور بے لطف مضمون پر بھی خوب دست رس رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اپنے بچوں کو آپ کے پاس بھیجتے اور علم کی دولت سے مالا مال کراتے ۔ اُس زمانے میں قیوم استاد جوانی کے سن میں تھے، جذبہ تھا ، جنون تھا ، پڑھانے ، سکھانے میں مشین کی طرح مصروف عمل رہتے ۔ ایک گروپ کو پڑھا کر دوسرے اور دوسرے کو پڑھا کر تیسرے کے پاس پہنچ جاتے اور یوں یہ سلسلہ دن ڈھلے جاری رہتا آپ تھکتے اور نہ آپ ہماری نا اہلی ذہنی ناپختگی پر غصہ آتا ۔ ٓ پ کو اپنے پیشے سے دیوانہ وار محبت تھی آجکل اس کام کو ٹویشن کہا جاتا ہے جہاں ایک استاد اس پاک پیشے کی اصل روح کو پامال کر کے ایک سہوکار کی بھیس میں طبہ کو معاشی طور پر لوٹ رہا ہوتا ہے لیکن قیوم استاد اسے عبادت اور نیکی سمجھ کر کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک والد اپنے این ناہنجار بچے کو پڑھانے کے لئے آپ کے پاس لاکر احسان مدنی کا ذکر تو قیوم استاد نے فرمایا کہ میں ایک استاد ہوں اور یہ میرا کام ہے اس میں شکریہ ادا کرنے کی کیا بات ہے شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہئے کہ مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا ۔ شاید اُن کے ذہن پر اپنے دور کے انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا ایک جنون سوار تھا۔ میری کم مایہ کھوپڑی میں اب اب یہ بات آنے لگی ہے کہ کہ قیوم استاد کتنے اہم کام میں مگن تھے۔ آپ ہر مضمون کی اڑ میں زندگی سے نبرد آزمائی سکھایا کرتے تھے اردو ادب میں اقبال ، غالب، مومن ، ذوق ، داغ، ولی پر اتنا عبور رکھتے ہیں کہ شاید وہ خود بھی اپنی شاعری کی گہرای سے اُس حد تک اشنا نہیں تھے ۔ انگریزی کے اُن کی سکھائی ہوئی قواعد اب بھی اُسی طرح سے یاد ہیں ۔ اُپ نے خود انگیزی شاہ کریز صاحب سے سکیھی تھی جس کا ذکر بعد میں آئے گا ۔ اُس وقت کے حالات اور قیوم استاد کی محبت اور آج کے زمانے میں اُسی پیشے میں اپنے وجود اور اپنی زمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہی زبان پر آتا ہے:

؎ یا وہ جوہر ہی الگ تھا جوہرِ انسان سے یا نکلتے اب نہیں ایسے جواہر کان سے

اب آپ سے ملواتے ہیں : گول مٹول چہرہ ، فربہ اندام جسمانی خدو خال ، متبسم چہرہ ،ابھرے رخسار، میانہ قد ، سفید ریش ، کھلتی آنکھوں پر بولتی آبرو اور کشادہ و نور افشاں پیشانی پر سدا بہار چترالی ٹوپی کا وجود عبد القیوم استاد کی شخصیت میں سونے پر سہاگے کی مثال ہے۔آپ کی شخصیت کی چند خصوصیات ایسی ہیں کہ ہر ملنے والے کو آپ کی سحرانگیز شخصیت کے اسیر بنا لیتی ہیں ۔ مصافحے سے قبل آپ کی پر خلوص مسکراہٹ اپنی تمام تر محبتوں کے ساتھ ملنے والے کو احساس مسرت و شادمانی کا تحفہ دے جاتی ہے ۔ معانقے کے دوران دونوں ہاتھ ایک ساتھ ملاتے ہیں جس سے اُن کی انکساری کی خوب پہچان ہوتی ہے پھر دھیمے اور پُر سکون انداز میں زندگی کا حال احوال دریافت فرماتے ہیں ۔ مجھے جب بھی دیدار کی سعادت حاصل ہوتی ہے تو میں دست بوسی کی کوشش کرتا ہوں لیکن استاد اپنا دست مبارک فوراً چھین کر میرے چہرے پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ۔ اُنہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ اُن کے ہاتھ چومنے سے مجھے کتنی ذہنی آسودگی اور روحانی سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ ۲۰ اگست ۱۹۴۹ کو بونی ٹیک لشٹ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سن ۱۹۵۴ کو بونی پولوگرونڈ سے متصل جمعہ مسجد سے سے ملحقہ کمرے میں گورنمٹ سکول تھا جس میں ڈوکو قاضی مولانا فضل الرحمان رحمت االلہ علیہ ( مرحوم) ، قاسم خان استاد ( مرحوم )بونی گول اور عبدالعزیز استاد ( مرحوم ) معروف بہ اسم گوچھو استاد کے سامنے ذانوئے ادب تہہ کیا ۔ اُس زمانے کے پڑوسی ہم جماعتوں میں مہر ربی ، غلام قادر اور دینار عالم تاج قابل ذکر ہیں ۔ یہاں داخلے کے کوئی چار سال بعد جب گورنمنٹ پرائمری سکول بونی کی عمارت تیار ہوئی تو مذکورہ چار اساتذہ نے ایک چادر پر قران شریف رکھ کے اُس چادر کو چار کونوں سے پکڑ کر اُ س کے نیچے سے دورودو سلام کی ورد کرتے ہوئے طلبہ کےجس گروہ کو گزار کرسکول کی سرکاری عمارت میں بٹھا دیا اُس ٹولی میں قیوم استاد بھی شامل تھے ۔ موجودہ ہائی سکول بونی کے طلبہ کی پہلی کھیپ میں میر سلیم استاد، گلاب ماسٹر ، جاے بل استاد ،شاوٹ بونی گول اور دوسری کھیپ میں شمسیارخان ، افسر خان بونی گول ، اموخت علی اور مشرف بونی گول قیوم استاد کو یاد ہیں ۔ ایک سال بعد سکول کو میڈل کا درجہ دیا گیا ۔ سکول کی لیڈر شپ سردار علی سردار امان اور اور سردارحسین استاد چترال نے سنبھالی ۔ لیکن دونوں میں کافی عرصے تک پیشہ وارانہ ان بن رہی دونوں اساتذہ میں سرد جنگ کی توجیہ، بقول قیوم استاد ، میر سلیم استاد ( مرحوم ) نے یہ بتائی تھی کہ دونوں بیک وقت اپنے آپ کو ہیڈ ماسٹری کی ایک پوسٹ پر قابض سمجھتے تھے ۔ بعد میں جناب شاہ صاحب ( مرحوم ) نے فیصلہ صادر فرماتے ہوئے سردار حسین کو پیشہ وارانہ تربیتیافتہ گردانتے ہوئے ہیڈ ماسٹر مقرر کیا اور سردار علی ( پی ایم جی ) بونی کو خیر باد کہ کر راہی شہر ہوئے ۔ سردار علی کے بارے میں قیوم استاد کہتے ہیں کہ وہ اُس زمانے میں ڈان اخبار پڑھتے تھے( یاد رہے کہ ملک کے مشہور انگریزی اخبار ڈان کا اجرا سن ۱۹۴۱ میں ہوا تھا) اور انگریزی کے مشکل الفاظ الگ نوٹ بک پر لکھ کر خود یاد کرنے کے واسطے بچوں کو سنایا کرتے تھے ۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اُن کے اخبار سے لئے گئے الفاظ بچوں کو بھی یاد ہوتے تھے۔

قیوم استاد ایک ایسے بہادر آدمی کا نام ہے جو زندگی کے پر پیچ مد و جزر سے گزرے ہیں ۔ مشکلات سے کھیل کر اپہنے آپ کو منوانے والے آہن ہمت لوگوں کو غالب نے کچھ اس انداز سے بیان کیا ہے :

؎ دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

قیوم استاد کی مثال اُسی بہادر قطرے کی کی جو ہر خطرے سے بغل گیر ہوکر نکلتے رہے اور اپنے لئے ایک مقام بناکے رکھا ۔ذہن رسا تھا لیکن جماعت ہشتم پاس کرنے سکول کی جھنجھٹوں سے اپنے آُ پ کو آزاد کیا ۔ لیکن بونی لوٹ دور کی نامور شخصیت سونوموڑو لال اتفاقاً ان کے گھر تشریف لے گئے اور سکول سے سکول سے باغی ہونے کی خبر سن کر وہ سیخ پا ہوئے اور قیوم استاد کو ڈرا دھمکا کے ہی دوبارہ تعلیم کی جانب راغب کیا ۔ یو ں قیوم استاد نے دوبارہ کتابوں سے یارانہ شروع کیا اور ہائی سکول بونی سے سن ۱۹۶۶ کو میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کیا۔ لیکن آگے تعلیم کے راستے مسدود تھے ۔ اسی سال شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور والد صاحب کا سایہ بھی اُسی سال سر سے اُٹھ گیا ۔مالی حالات بھی ناگفتہ بہہ تھے لیکن قیوم استاد کو معلوم تھا کہ تمام مسائل کا حل تعلیم میں مضمر ہے لہذا ڈوکو قاضی استاد مولانا فضل الرحمان رحمت اللہ علیہ ( معفور) سے گلستان ، بوستان ، سکندر نامہ اور مثنوی مولانا روم کے شش دفتر کے علاوہ عربی اور پشتو کی تعلیم بھی حاصل کی ( یاد رہے کہ قیوم استاد کے مطابق اُس زمانے میں سکولوں میں پشتو زبان پڑھائی جاتی تھی) اس کے علاوہ ایونو مولانا سے بھی صرف و نحو میں فیض حاصل کی ۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں معلوم ہوا کہ چترال کالج میں کچھ ملازمتیں آئی ہیں ۔ لیکن قیوم استاد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کونسی ملازمتیں ہیں۔ بہر حال انہوں نے قسمت ازمائی کی تو آخر میں معلوم ہوا کہ جس پوست کے لئے انہوں نے انٹر ویو دیا تھا وہ عہدہ چوکیداری کا تھا ۔ اُن کے ساتھ کئی اور امیدواروں نے بھی انٹرویو دیا تھا جن میں ایک امید وار شاکریز آف چرون بھی تھے( شاکریز خان چترال کی وہ شخصیت ہیں جنہیں سماجی ادروں کو سمجھنے کے حوالے سے ملک کے مایہ ناز پیشہ ور جناب شعیب سلطان صاحب سے موازنہ کیا جائے تو دونوں کا پلڑا پیشہ وارانہ وزن کے حوالے سے ہمیشہ برابر رہے گا) لیکن چونکہ اُن کی تعلیم زیادہ تھی لہذا انہیں سنئیر کلرکی کی ملازمت ملی ۔ قیوم استاد کی زندگی کی کامیابی میں دو لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ہے پہلی شخصیت بونی کے سونو موڑو لال ہیں جنہوں نے اُنہیں دوبارہ پڑھائی کی جانب راغب کرایا تھا اور دوسری اہم شخصیت شاکریزخان صاحب اف چرون ہیں ۔ شاہ کریز صاحب چونکہ انتہائی ذہین و فطین نوجواں تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ مردم شناس بھی تھے ۔ انہوں نے قیوم استاد کو نیک مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ میں علم حاصل کرنے کی پیاس نظر آتی ہے لہذا آپ دو کاموں کا التزام کرو : پہلا کام یہ کہ آپ ملازمت کے ساتھ ساتھ کمرہ جماعت میں بیٹھا کرو اور دوسرا کام یہ کہ مجھ سے انٹر کی انگریزی کی کتابیں پڑھا کرو ۔ قیوم استاد کے مطابق اُنہین انگریزی سکھانے میں شاہ کریز خان کا بڑا ہاتھ ہے ۔ قیوم استاد کو کالج میں چوکیداری کی ملازمت اگر نہ ملتی تو شاید شاکریز خان بھی نہ ملتا، انگریزی نہ سیکھتے اور نہ ایف اے کرتے اور نہ ہی دوسری ملازمت ملتی ۔ چوکیداری کی ملازمت میں انہیں شاہ کریز خان سےانگیریزی میں مستفید ہونے کا اہم موقعہ ہاتھ آیا اور موصوف نے اُس موقعے سے کما حقہ فائدہ لیا ۔ لہذا اسی اثنا میں جب ٹیچر کی ملازمتیں آئیں تو شاہ کریز نے انہیں دوبارہ مشورہ دیا کہ وہ ٹیچر کی پوزیشن کے لئے بھی دوخواست جمع کرے اور آگے پڑھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے۔ قیوم استاد نے اپنی درخواست جمع کی یوں آپ کو ٹیچر کی ملازمت مل گئی ۔ قیوم استاد کہتے ہیں کہ شاہ کریز صاحب سے بہت سارے لوگوں نے انگریزی میں فیض حاصل کیا ہے جن میں اسسٹنٹ کمشنر ریٹائرڈ حید علی بھی شامل ہیں ۔

سن۶۰ کے اوخر میں قیوم استاد نے زانگ لشٹ تورکہو میں پرائمری استاد کی حیثیت سے جب ایک مہینہ مکمل کیا تو پورے مہینے کام کرنے کا معاوضہ مبلغ ۸۷ یعنی ستاسی روپیہ رائج الوقت پاکستانی تنخواہ ملی ۔ سن ۷۰کی دہائی میں تمام ملازمین کی خدمات کو اسٹیٹ کی تحویل سے نکال کر حکومت پاکتسان کو سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا ۔لہذا تنخواہوں میں بہت بڑا اضافہ ہوا یوں پی ٹٰی سی ٹیچر کی تنخواہ ۷۸ سے بڑھ کر ۱۵۰ روپے ہوگئی جو کہ ایک بڑی تبدیلی تھی جبکہ اُس زمانے میں دو روپے میں شلوار قمیض کی مکمل پوشاک تیار ہوتی تھی ۔ قیوم استاد کو شہرت دوام بخشنے میں اُن کی اپنی سخت کوشی اور عرق ریزی شامل حال رہی ہے ۔ سن ۱۹۸۰ میں بی اے کا پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے امتحان دیا اور امتیازی نمبروں سے اول پوزشن لیکر پاس ہوئے ۔ اس کے بعد بچلر اف ایجوکیش کا امتحان دیا اُس میں بھی امتیازی مقام رہا ۔۔ اس کے بعد عربی اور اسلامیات میں اعلی تعلیم کی ڈگری بھی امتیازی نمبروں کی حامل رہی ۔ دوران ملازمت چترال اور چترال سے باہر مختلف سکولوں میں مختلف ٹیچنگ پوزیشنز پر خدمات انجام دیتے رہے اور ۶۰ سال کی عمر میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر ملازمت کی مدت ممکل کرکے سبکدوش ہوئے ۔ تاریخ ایسی شخصیات ضرور گزری ہوں گی مگر وہ بہت کم یاب ہوں گے ۔

ہماری دعا ہے آپ پر اللہ تعالی کی مہربانیوں کی بارش ہوتی رہے ۔ آمین۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments