ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ متاثرین کے کے ایچ کے لئے مختص 12 کروڑ‌روپے دبائے بیٹھی ہے، راجہ شہباز خان

ہنزہ (اجلال حسین ) مختلف بہانے بنا کرشاہراہ قراقرم توسیع منصوبے کے زد میں آنے والی زمینوں کا معاوضہ ادا نہیں کیا جارہا ہے ، جبکہ ہم اپنے لئے این ایچ اے کے اعلی حکام اور وفاقی حکومت کی مدد سے 12کروڈ روپے ضلعی انتظامیہ ہنزہ تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار راجہ شہباز خان سابق امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی کی زیر قیادت بالائی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے کے کے ایچ متاثرین کے نمائندہ وفد نے میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہنزہ گنش تا ناصرآبادزمین مالکان کو 60فیصد رقم ادا کردی گئی ہے، جبکہ ہمیں ایک روپیہ نہیں دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بالائی ہنزہ ششکٹ تا گلمت سانحہ عطاآباد کی وجہ سے شاہراہ قراقرم مکمل طور پر متبادل زمینوں پر تعمیر کی گئی ہے ۔ 10سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر ہمیں ایک روپیہ ادا نہیں کیا گیا ہے، جو ہمارے ساتھ یکسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کے اعلیٰ حکام ، پاک فوج اور وفاقی حکومت کے تعاون سے ہم نے اپنے لئے 12کروڈ سے زائد روپے ضلعی انتظامیہ ہنزہ تک پہچانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، اور اس وقت ضلعی انتظامیہ کے پاس یہ رقم موجود ہے ۔

راجہ شہباز خان کی سربراہی میں کمیٹی کے ارکین نے کہا کہ اس مسلے پر ہم نے ڈپٹی کمشنر ہنزہ سید علی اصغر کو آگاہ کر دیا ہے جنہوں نے ہمیں امید دلایا ہے کہ محرم الحرام کے فورا بعدبالائی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے کے کے ایچ متاثرین کوکم از کم 60فیصد معاوضہ ادا کر دیا جائیگا جس پر ہمیں اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے بعد اگر ہمارے معاوضے ادا کرنے میں تاخیر کی گئی تو مجبور شاہراہ قراقرم پر نکلیں گے جس کی پوری  ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments