امپورٹڈ گورنر قبول نہیں کرینگے، تحریک انصاف کے تمام دھڑوں‌کا مطالبہ

اسلام آباد ( پ ر) پی ٹی آئی گلگت بلتستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس مورخہ 23 ستمبر کو گلگت بلتستان ہاوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے تمام دھڑوں کی سینئر قیادت سے سابق کوارڈینیٹر حشمت اللہ ، آمنہ انصاری ڈاکٹر محمد زمان ، اجمل حسین صاحب، نوشاد عالم صاحب، محمد شاہد سابق وزیر اعظم یوتھ پارلیمنٹ اور سوشل ایکٹوسٹ انجینئر تحسین علی رانا سمیت متحرک کارکنوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
شرکاء کانفرینس نے گورنر کی تعیناتی اور پارٹی میں دھڑے بندی سمیت گلگت بلتستان میں آنے والے الیکشن کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ گورنر کو پارٹی سے ہی اہلیت کی بنیاد پر نامزد کیا جائے ۔ پارٹی سے باہر سے امپورٹڈ گورنر کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی کیونکہ یہ گلگت بلتستان میں پی ٹی کو بے انتہا نقصان پہنچانے اور حفیظ الرحمٰن کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مرکزی قیادت گلگت بلتستان سے متعلق فیصلے مسلط کرنے کی بجائے گلگت بلتستان کی قیادت کو اعتماد میں لیکر فیصلے کریگی۔ گلگت بلتستان میں تنظیم میں گروپ بندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا ۔ شرکاء نے دھڑے بندی کو پارٹی سمیت گلگت بلتستان کے لئے سخت نقصاندہ قراردیا اور قرار دیا کہ آئیندہ اجلاس میں ان رہنماوں کی شرکت بھی یقینی بنائی جائیگی جو آج موجود نہیں اور پھر ایک مشترکہ لائجہ عمل ترتیب دیا جائیگا۔ تاکہ وفاق سے گلگت بلتستان کے مسائل حل کروانے اور گلگت بلتستان کے حقوق بشمول حق حکمرانی کے حصول کے لئے ایک مظبوط آواز بنائی جائے۔ تمام سینئیر قیادت اور کارکنوں نے پرزور مطالبہ کیا گلگت بلتستان میں صوبائی سطح پر پارٹی عہدوں پر سیلیکش کی بجائے کارکنوں کو انتخاب کا حق دیا جائے یا گلگت بلتستان کی قیادت کو ملکر صوبائی عہدوں کی تشکیل کیلئے اختیار دیا جائے۔ کیونکہ ماضی کا رتجربہ ثابت کرچکا کہ کارکنوں کے انتخاب یا مقامی قیادت کے مشورے کے بغیر جب بھی پارٹی عہدے دئیے گئے وہ پارٹی کے لئے نقصاندہ رہا ہے ۔ کارکنوں اور قیادت پر انکی رائے کے بغیر کسی کو بھی مسلط کرنے سے پارٹی کو آئیندہ بھی سخت نقصان کا اندیشہ ہے جس کی پارٹی متحمل نہیں ہوسکتی۔ میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ ملکر چلنے میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کیا جائیگا اور کسی بھی فرد واحد کی طرف سے خلل آنے کی صورت میں باقی سب کا ملکر آگے بڑھا جائیگا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جلد اگلی میٹنگ بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائیگا اور اسکے بعد مرکزی قیادت سے ملاقات کی جائیگی جس میں گلگت بلتستان کی تمام سینئر قیادت موجود ہوگی اور گلگت بلتستان کے ایشوز پر بات ہوگی۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments