راہ پُرخار

تحریر: کریم مایور

ایک تو ہمارے ہاں کے یہ پہاڑی راستے اُوپر سے میں جس راستے پہ چل رہا تھا وہاں جھاڑیاں تھیں اور ستم بالائے ستم موسلادار بارش بھی ہو رہی تھی میں محو سفر تھا۔ بارش کی وجہ سے بھیگ چکا تھا چلتے وقت جھاڑیوں سے الجھ کر کپڑے پھٹ چکے تھے منزل پہ پہنچنےمیمں تاخیر ہو رہی تھی اور اس راہ پُرخار پر چلتے چلتے ذہنی طور پہ درہم برہم ہو گیا تھا۔

آخر کار ایک جگہ بیٹھ کر سوچنے لگا کہ یہاں سے نکلنے کے فوراً بعد جھاڑیوں کے خلاف ایک دھواں دار پریس کانفرنس کرونگا سوشل میڈیا پر واویلا مچاونگا، جھاڑیوں، اور بارش کے خلاف دھواں دار بیانات شائع کرونگا، اخبارات میں کالم لکھونگا اور اقوام متحدہ سے درخواست کرونگا کہ دنیا بھر کے جھاڑیوں کو ختم کیا جائے اور بارش کے اُوپر بھی کوئی قانون لاگو کردیا جائے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ جب چاہے وقت بے وقت برس کے انسانوں کو تکلیف میں مبتلا کرے!

میں جانتا تھا کہ کوئی سنجیدہ اور باہوش انسان اس طرح کی احمقانہ باتیں نہیں سوچ سکتا۔ شاہد چند لمحوں کی تکلیف نے مجھے اس طرح کی باتیں سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس کے برعکس اگر میں عقل و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی نادانی کا احساس کرتا جب اللہ پاک نے مجھے دو آنکھوں کی نعمت سے نوازا ہے تو میں ایسے راستے کا انتخاب ہی نہ کرتا جس میں جھاڑیاں ہوں۔ اگر چلنا ہی مقصود تھا تو کانٹوں سے اپنا دامن بچا کر چلتا۔ بارش سے بچنے کے لیے کوئی انتظام کر کے چلتا تو جسم بھی محفوظ رہتا اور منزل تک پہنچنے میں دیر بھی نہ ہوتی، شاہد اللہ پاک نے درختوں اور جھاڑیوں کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ انسان اُن نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اُن سے سبق بھی سیکھے لیکن یوں گمان ہوتا ہے کہ حضرت انسان نے اس نشانی پر غور نہیں کیا، خدا کی اس پیغام کو سُن کر اس سے سبق حاصل نہیں کیاً

آج کی اس پُرآشوب دنیا میں آپ کو ایسے بے شمار لوگ ملیں گےجو انسانی کانٹوں کے درمیان بے احتیاطی سے چلتے ہیں اور اپنا جسم لہولہان کر دیتے ہیں، اور جب یہ کانٹے اُن کی جسم سے لگ کے اُنہیں تکلیف میں مبتلا کر تے ہیں تو ایک لمحہ سوچے سمجھے بغیر کانٹوں کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی غلطی کو دوسروں کے خانے میں ڈالنے کی بے فائدہ کوشش کرتے ہیں، ایسے تمام لوگوں کو جاننا چاہیے کہ جس طرح درختوں کی دنیا سے کانٹے دار جھاڑیاں ختم نہیں کی جاسکتی بلکل اسی طرح ہماری دنیا سے بھی کانٹے دار انسان کبھی ختم نہیں ہونگے اس دنیا میں محفوظ اور کامیاب رہنا ہے توہمیں کانٹے دار انسانوں سے بچ کے چلنے کا سلیقہ سیکھنا پڑے گا ورنہ بے فائدہ اور نادانی سے بھری ہوئی شکوے اور شکایتیں ہونگیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments