لمحہ فکریہ

عجیب ستم ظریفی ہے کہ معاشرے میں معاشی ناہمواریوں اور عدل و انصاف کی عدم فراہمی کے باعث لوگوں نے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرنا اپنا حق سمجھ لیا ہے، اسلام دین فطرت ہے اور یہ دین ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ معاشرے سے ایسی تمام برائیوں کا خاتمہ کر دیا جائے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہوں، آج جہاں بہت سی برائیاں تیزی سے پروان چڑھ رہی ہیں ان میں ایک برائی گداگری یا بھیک مانگنے یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بھی ہے۔

بھکاری یا فقیر سے مراد وہ شخص جو اپنی معیشت کے لیے دوسروں کا محتاج ہو، یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے خواہ وہ جسمانی نقائص، بڑھاپے یا بیماری کے باعث مستقل طور پر محتاج ہوگئے ہوں یا عارضی سبب سے فی الوقت مدد کے محتاج ہوں اور اگر انہیں سہارا مل جائے تو آگے چل کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں، مثلاً یتیم بچے، بیوائیں، بے روزگار افراد جو وقتی حوادثات کا شکار ہوگئی ہوں، ایسے تمام افراد دینی نقطۂ نظر سے ہماری امداد کے مستحق ہیں اور ان کی مدد کرنا معاشرے کے مخیر افراد کا بالخصوص اور متوسط افراد کا بالعموم فرض ہے، لیکن ایسے مستحق افراد جو اپنی خود داری بالائے طاق رکھ کر پیشہ ور بھکاریوں کا روپ دار لیں، دین اسلام نے ایسے بھکاریوں کی شدید مذمت کی ہے، ہمارا دین اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان ہمیشہ حلال روزی کمائے اور نہ صرف خود کھائے بلکہ اپنے گھر والوں کی بھی حلال روزی سے کفالت کرے، احکامات خداوندی اور احادیث نبویؐ کے تحت ہمیں پابند کیا گیا ہے کہ ہم اپنا اور ضرورت مندوں کا حصہ الگ کریں اور ساتھ ہی انہیں تلاش کرکے ان تک یہ حصہ پہنچائیں، یہ مالی مدد ان لوگوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے جو معاشی طور پر کمزور ہوں اور اپنی خود داری کے باعث اپنی مجبوریاں نہ کسی سے بیان کرتے ہیں اور نہ کسی قسم کی امداد آسانی سے قبول کرتے ہیں، ہم میں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جو اپنی آمدنیوں میں سے ضرورت مندوں کا حصہ الگ کرنے کی پابندی سے ہی ناآشنا ہیں یا جانتے بوجتے ایسا نہیں کرتے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ بھی اپنی مصروفیت کی مجبوری ظاہر کرکے ان سفید پوش خود دار ضرورت مندوں کو تلاش کرنے کی زحمت سے اپنا دامن بچاکر بھکاریوں کی امداد کرکے اپنے کاندھوں سے بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں، اس طرح گداگروں کی حوصلہ افزائی کرکے معاشرے کی بگاڑ کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ برائی بڑی تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔

گداگری اختیار کرنے والے یقیناًبہت مجبور ہوکر اس سمت راغب ہوتے ہوں گے، لیکن مجبوری نہ رہنے کے باوجود اسے بطور کاروبار جاری رکھنا اور جھوٹ بھول کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا ایسا فعل ہے جس کی شدید حوصلہ شکنی ہونی چاہئے، انہیں بھیک دینے کی بجائے ہمدردی سے سمجھایا جائے کہ یہ دین اسلام کی رو سے اور معاشرتی و اخلاقی لحاظ سے بھی بڑا قبیح فعل ہے، کیونکہ صدقہ کسی غنی یا مالدار کے لیے جائز نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کے لیے جائز ہے جو توانا و تندرست ہو، یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم معاشرے سے بھیک و گداگری کے خاتمے کے لیے نہ صرف آواز اٹھائیں، اس میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، مثلاً معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کا خاتمہ کریں، لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد دیں،انہیں کوئی نہ کوئی ہنر سکھائیں، معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں، ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام الناس کو یہ احساس دلائیں کہ اس کے معاشرے پر کس قسم کے برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ہم سب لوگوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ پیش ور بھکاریوں کو بھیک نہ دیں تاکہ وہ اس عادت سے تائب ہوکر اسے ترک کرسکیں۔

کہتے ہیں کہ کسی کو اگر مچھلی پکڑ کر دو تو صرف ایک وقت کا کھانا دے سکتے ہو لیکن اگر کسی کو ایک مچھلی پکڑنا سکھاتے ہو تو گویا اس کو عمر بھر کا کھانا دیتے ہو۔

اس حوالے سے انتظامیہ اپنا بھرپور رول ادا کرے تاکہ گلگت جیسے چھوٹے شہر میں گداگروں اور بھیگ مانگنے والوں کی بہتات کم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محنت کرکے رزق حلال کمانے کی توفیق دے۔ آمین!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments