ہنزہ، 1960 سے پہلے اور اس کے بعد

تحریر: میر باز میر

ہنزہ آج پوری دنیا میں مشہور ہے۔ لوگ دنیا بھر سے ہنزہ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں، حالانکہ پاکستان، اور بالخصوص گلگت بلتستان میں ہنزہ سے بہت زیادہ خوبصورت مقامات موجود ہیں۔ آج ہنزہ کے لوگ دنیا بھر میں مختلف اہم اداروں میں قائدانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ہنزہ پاکستان کی حد تک ترقی کا حوالہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں اور بچوں میں شرح خواندگی 100 فیصد ہے، بچوں کہ شرح اموات نہ ہونے کے برابر ہے، اور جرائم کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔

ماضی میں ہنزہ ایک خودمختار ریاست تھا، جس کا سربراہ میر کہلاتا تھا۔ تاریخ میں ہنزہ کی سرحد نومل سے شروع ہو کر پامیر (سریقول) تک پھیلی ہوئی تھی۔ موجودہ ضلع ہنزہ کے حدود میون شناکی سے لے کر درہ کلک تک رہ گئے ہیں۔

ماضی میں ہنزہ سے گنے چنے لوگوں نے بطور ڈاکیا یا ایلچی چائنا کا دورہ کیا تھا۔ میر کے دربار سے وابستہ افراد بمبئی تک بھی گئے تھے، لیکن عام شخص کی رسائی انتہائی محدود تھی۔ زیادہ تر افراد گلہ بانی اور کاشتکاری سے وابستہ تھے۔ مشکل سے گزارہ کرتے تھے۔

یہ لوگ کسی بھی علاقے میں ایک محفوظ اور نسبتاً ہموار جگہے کا انتخاب کر کے گاوں بساتے تھے۔ گھروں کے ایسے مجموعے کو بروشسکی میں کھن اور وخی میں قلعہ کہتے تھے۔ ہنزہ کے زیادہ تر باسی گھروں میں مویشیوں کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ بیت الخلا کے لئے ایک کمرہ استعمال کیا جاتا تھا، جس میں پاخانہ کرنے کے بعد اوپر مٹی ڈالا جاتا تھا۔

ہنزہ کے باسی جانوروں کا کھال سُکھا کر اس سے کوٹ اور جوتے (پاپوش) بناتے تھے اور اون سے کپڑے اور ٹوپی بناتے تھے۔ گرمیوں میں ان کا زیادہ تر وقت چراگاہوں میں بھیڑبکریوں کے ساتھ گزرتا تھا اور اس کے علاوہ سردیوں کے لیے راشن اور لکڑی وغیرہ جمع کرنے میں گزرتا تھا ۔

سردیوں میں جانوروں کا گوشت ،دودھ ،مکھن اور خشک میوہ جات استعمال کرتے تھے یا انہی اجزا کو استعمال کر کے سوپ بناتے تھے، جسے احتیاط کے ساتھ بچا بچا کر استعمال کیا جاتا تھا۔ سردیوں میں ذخیرہ شدہ خوراک استعمال کر کے زندہ رہنے والے ماضی کے ہنزائی شدت کے ساتھ پھلوں کے پکنے کا انتظار کرتے تھے۔ شہتوت پک جاتا، تو لوگوں کے پیٹ بھرتے تھے۔ شہتوت کو پرندوں اور انسانوں سے بچا بچا کر استعمال کیا جاتا تھا۔

سردیوں میں روشنی اور حرارت کے لئے گھروں کے درمیان بڑا سا الاو جلایا جاتا تھا، جس کے گرد بیٹھ کر لوگ باتیں کرتے تھے۔ آگ سے اٹھنے والے دھواں سے ان کی آنکھیں لال ہو جاتی تھیں۔ سونے سے پہلے الاو بجھا دیا جاتا تھا، کیونکہ رات بھر جلانے کے لئے لکڑی میسر نہ تھی۔ گھپ اندھیرے میں سونے والے یاک یا بکری کے بالوں سے بنے نمدے (قالین) کو بچھونے اور اوڑھنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ رضائی اور تُلائی کا کسی عام گھرانے میں کوئی تصور نہیں تھا۔ بلکہ خواص بھی ایسے ہی حالات میں رہتے تھے۔

اس زمانے میں فقط زندہ رہنا ایک تکلیف دہ عمل تھا۔

معمولی بیماریوں کی وجہ سے  یا سفر  اور کام کے دوران پہاڈ سے گر کر یا دریاکو پار کرتے ہوئے لوگ مرجاتے تھے۔ علاج کے لیے فقط دیسی جڑی بوٹیاں میسر تھیں، یا پھر تعویز، اور دعائیں۔

اس زمانے میں تعلیم کا کوئی تصور تک نہیں تھا۔ شرح خواندگی صفر تھی، اور شرح اموات 98 فیصد۔ ہر گھر میں متعدد بچے موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔

ریاست ہنزہ میں اس وقت بروشسکی ریاستی  زبان کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن حکمران بھی خط وکتابت کے لئے فارسی استعمال کرتے تھے، کیونکہ مقامی زبان کے لکھنے کا کوئی رواج نہ تھا۔ کچھ لوگ ترکی زبان جانتے تھے، جو مشرقی ترکستان سے آنے والے تاجروں اور حاجیوں  کے ساتھ رابطے کی زبان تھی۔  انگریزی کے بارے میں شائد کسی نے سنا بھی نہیں تھا۔

جائیداد اور مال  مویشی کی شناخت کے لئے علامتیں استعمال کی جاتی تھیں۔ مثلا میر آف ہنزہ کے درختوں اور ان کے مویشیوں پر ایک خاص نشان لگا ہوتا تھا۔

صدیوں تک ہنزہ اسی طرح اندھیروں میں ڈوبا رہا۔

22اکتوبر1960 کو جب پرنس کریم آغاخان ہنرہ کے لیے روانہ ہوگئے تو انھوں نے گلگت میں فرمایا۔

“مجھے ہنزہ دیکھنے کا بہت شوق تھا اور آج میں بہت خوش ہوں کہ میں ہنزہ جارہا ہوں”

شاہراہ قراقرم کی غیر موجودگی میں اس طرح کے پلوں اور راستوں سے ہو کر جانا ہوتا تھا (تصویر: عبدل محمد اسماعیلی)

پرنس کریم آغا خان ہنزہ کے لیے  ایک پچاس ماڈل کی کھلی جیپ میں روانہ ہوگئے ۔ دشوار گزار راستوں کو صاف کرنے کے لیے اور جبپ کو کھنچنے کے لیے ہنزہ سے والنٹیرز کو مختلف جگہوں پہ تعنات کیا گیا  تھا ۔ راستے میں کچھ جگہوں پر عارضی پل بھی تعمیر کئے گئے تھے۔ اس وقت شاہراہ قراقرم ابھی تعمیر نہیں ہواتھا ۔ شاہراہ  قراقرم  1978 میں مکمل ہوا ۔

ہنزہ میں لوگوں کے پاس سوائے جذبے اور امام کے دیدار کے شوق  کے کچھ نہیں تھا ۔یہ لوگ موسم کی سختی اور بھوک کی پروا ہ کئے بغیر ننگے پاوں دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے سنٹرل ہنزہ پہنچے ۔شمشال کے باسی  22 مقامات پر  دریا کو پار کرتے ہوئے التت پہنچے ۔بچوں اور خواتین کے لیے گھوڑوں اور خوش گائے کا انتظام کیا گیا تھا۔

دیدار کی تیاریوں میں حصہ لینے والے رضاکاروں کی تصویر (بشکریہ عبدل محمد اسماعیلی/ سیمرغ)

ہنزہ میں والٹیرز اسٹیج  کے کام میں مصروف تھے۔  التت اور بلتت میں جشن کا سماں تھا ۔ مقامی لوگوں نے مہمانوں کے لیے اپنے گھروں کو خالی کردیا تھا ۔ پتھر ،لکڑی اور گارے  سے سٹیج بنایا جارہا تھا۔ لوگوں کے پاس اوازار کم تھے۔ دیدار کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔ والنٹئیرز نے سٹیج کی تعمیر کی رفتار دیکھتے ہوے اس وقت کے  میر آف ہنزہ ، جمال خان، کے ذریعے پرنس کریم آغاخان سے درخواست کی  کہ وہ پہلے بلتت چلے جائیں،کیونکہ وہاں سٹیج تیار تھا۔ التت کا سٹیج تیار ہونے میں ابھی وقت تھا۔ب میر آف ہنزہ نے یہ درخواست پرنس کریم آغاخان تک پہنچائی تو انھوں نے فرمایا کہ میں ان کو مزید ایک گھنٹہ دیتا ہوں، کام مکمل کرنے کے لئے  ۔والٹیرز بھاگتے ہوئے بلتت سے پیدل التت آگئے اور کام تیز کیا۔

اسٹیج تیارتوہوا تھا،مگر ابھی سوکھا نہیں تھا۔ اس  کچے ،مٹی اور پتھر سے بنے ، اسٹیج پر دیسی شرما( جس کو وخی زبان میں پلوس کہتے ہے) جو بکریوں اور خوش گائے کے بال سے بناتے ہیں،  ڈالا گيا۔ جیسے تیسے سٹیج تیار کیا گیا۔ اور اسماعیلی فرقے کی تاریخ میں پہلی بار وادی گوجال اور التت کے باسیوں نے التت میں اپنے امام کا دیدار کیا۔

امام نے اپنے خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اپنے ملک اور حکومت کا وفاداررہو۔ تعلیم حاصل کرو۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ آپ لوگوں کی حالت بہت جلد بہتر ہوگی ۔ اور فرمایا کہ میں بہت جلد  دوبارہ ہنزہ آونگا۔ یہ تاریخی واقعہ اکتوبر 1960 کا ہے، جس کی یا د میں شکرانے اور اظہارِ عقیدت کےطور پر ہنزہ کے اسماعیلی تقریبات منعقد کرتے ہیں، اور پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہیں۔

امام کے دیدار کے بعد اے۔کے۔ڈی۔این کے اداروں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا اور پنجاب اور کراچی سے ماہرین تعلیم و طب کو ہنزہ، غذر اور چترال تک لے جایا گیا، جنہوں نے شعور کی بیداری، تعلیم کے فروغ اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔

صحت اور صفائی کے لیے آغاخان ہیلتھ سروس نے کام شروع کیا، تعلیم کے لیے آغاخان ایجوکیشن سروس نے کام شروع کیا۔ لوگوں کو شعور دلانے ان کو ہنر سکھانے کے لیے ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے  اس کے لیے ہرگاوں میں اے۔کے۔آر۔ایس پی نے دیہی تنظمات اور خواتین کے لیے خواتین تنظمیں بنائیں، جہاں ہر جمعے کو خواتین اور مرد ایک بیٹھ کر اجتماعی مسائل حل کرنے لگے، اور ایک مربوط اور مضبوط معاشرے کا جنم ہوا۔ معاشی نظم وضبط اور بچت کے ذریعے علاقے کی معیشت مضبوط ہونے لگی۔ تنظیمات نے گلگت بلتستان میں لاکھوں درخت لگائے۔ دھیرے دھیرے علاقے میں سماجی اداروں کا ایک مربوط جال پھیل گیا، جس نے علاقے کی کایا پلٹ دی۔ نکاسی آب سے لے کر موسیقی، اور حفظان صحت سے لے کر فروغ سیاحت کے لئے نجی اور اجتماعی ادارے قائم ہوے، اور ترقی کا سلسلسہ شروع ہوگیا۔ مضبوط مکانات بنانے سے لے کر فضلہ جات کے انتظام کے لئے، ہر شعبے میں ، اداروں نے اپنی خدمات سرانجام دیں، اور یہ سلسلہ ابھی زور و شور سے جاری ہے۔  اس کام میں حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان انتظامیہ وحکومت نے اداروں کا ہمیشہ ساتھ دیا، اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

آج کا ہنزہ بہت مختلف ہے، اور بہت حوالوں سے ترقیافتہ بھی ہے، لیکن ابھی ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ بچوں کی شرح اموات کو ختم کرنا اے کے ڈی این کی سب سے بڑی کامیابی ہے، جس کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوئیں۔ آج معاشی طور پر ہنزہ کے مکین 1960 کی نسبت ہزار گنا بہتر ہیں۔ کھانے پینے، رہنے سہنے، تعلیم، صحت ، ثقافت، کھیلوں اور زندگی کے تمام شعبوں میں شاندار ترقی ہوئی ہے۔ جنہیں پرائمری تعلیم تک رسائی نہ تھی، آج ہارورڈ ، آکسفورڈ اور کیمبرج سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اور ترقی کے اس عمل پر کسی طبقے کی اجارہ داری نہیں ہے، بلکہ ماضی کے پسے ہوے طبقات بہت سارے معاملات میں حکمران خاندانوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔

آج اگر ہنزہ بدل گیا ہے تو یہ پرنس کريم آغاخان اور اے۔کے۔ڈی۔این کے اداروں کی مہربانی ہے اور اس میں ان لوگوں کی خدمات بھی شامل ہیں جنہوں نے یہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باوجود کام کیا ۔ آج ان بزرگوں کو بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے جنہوں کے امام کے فرامین پہ لبیک کہا اور اے۔کے۔ڈی ۔این کے اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔

ترقی کا عمل جاری رہے گا، اور اس کے لئے ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے مل جل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments