سانحہ کوہستان میں‌ جان بحق ہونیوالے افراد کو کھائی سے نکالنے میں‌کوہستان انتظامیہ اور عوام کا شاندار کردار

کوہستان (نامہ نگار) لوٹر کوہستان کے مقام پہ کوسٹر حادثے میں جا بحق ہونے والے تمام 17 افراد کی لاشیں لواحقین تک پہنچادی گئیں۔ ڈی سی کوہستان کے مطابق لاشیں کوہستان کی ضلعی انتظامیہ ،پولیس اور مقامی لوگوں نے کھائی سے شاہراہ قراقرم تک نکالا اور وہاں سے ریسکیو 1122 گلگت  کے ذریعے لواحقین کے قصبوں تک پہنچا دیاگیا۔

ڈپٹی کمشنر کوہستان حامد الرحمن نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کی جگہ پہاڑی اور دشوار گزار ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں دشواری ضرور تھی مگر پولیس ، انتظامی عملے اور رضاکاروں نے جواں مردی کا مظاہرہ کرکے لاشوں کو کھائی سے نکالا اور لواحقین تک پہنچا دیا۔تفصیلات کے مطابق بدقسمت کوسٹر نمبر (ایس ۔ ایل ۔ یو ) 297 گلگت بلتستان کے علاقے گوپس سے آتے ہوئے لوٹر تھانہ کے قریب شاہراہ قراقرم سے لڑھک کر سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جاگری جس میں سوار 17 افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ ڈی پی او کوہستان راجہ عبدالصبور نے کوہستان میڈیا سنٹر سے کو فون پر بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہم  ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ موقع پر پہنچے جہاں مقامی رضاکاروں اور پولیس نے امدای کاموں کا آغاز کیا تھا ، چونکہ علاقہ دورافتادہ ،پہاڑی اور اندھیرے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر موقع پر موجود لوگوں نے ہمت کر کے لاشوں کو کھائی سے نکالا کوسٹر میں سوار ایک خاتون معجزانہ طورپر بچ گئی ۔ ادھر آر ایچ سی داسو میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹرز نے بتایا کہ داسو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ممکنہ زخمیوں کی آمد پر ابتدائی طبی امداد کیلئے پورے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے ہسپتال حاضری یقینی بنائی گئی ہے ۔ڈاکٹر نوشیروان ، ڈاکٹر محمد شیر اور ڈاکٹر ابوبکر نے بتایا کہ معجزانہ طورپر بچ جانے والی زخمی خاتون کی حالت خطرے سے باہر تھی اور اسے حادثے کے چند لمحوں بعد چلاس منتقل کیا گیا ۔ معجزانہ طورپر بچ جانے والی خاتون نے انہیں بتایا کہ کوسٹر کا ٹائیز پھٹنے سے کوسٹر اُلٹ کر کھائی میں جاگری۔ دوسری جانب کوہستان اور دیامر کے انتظامی افسران موقع پر موجود تھے اور آپریشن کی نگرانی کررہے تھے ۔ علی الصبح  ریسکیو آپریشن مکمل ہوا اور  تمام لاشوں کو سینکڑوں فٹ گہری کھائی سے نکال کر لواحقین کے قصبوں کو روانہ کردیا گیا۔ جاں بحق افراد میں بیشتر کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے گوپس سے بتایا جاتاہے۔

واضح رہے کہ ضلع کوہستان ایک پہاری اور دورافتادہ علاقہ ہے یہاں ماضی میں بھی اس طرح کے ناگہانی حادثات پیش آئے مگر ہمیشہ سے ہی ریسکیو میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس سے قبل اتھور باڑی میں سیلابی ملبے تلے دبے پچیس لوگوں کو تین روز بعد نکالا گیا تھا۔ یہاں ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی حادثات سے نمٹنے کیلئے سہولیات کا فقدان ہے حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہئے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments