غذر سے چین تک (۲)

تحریر: دردانہ شیر

ہماری گاڑی میں نہ توکیمرے نصب کئے گئے اور نہ ہی دوسری گاڑیو ں کے آنے کا انتظار کیا گیا۔ امیگریشن کے آفیسر کی طرف سے ہمیں جانے کی اجازتملنے پر گاڑی میں موجود تمام مسافر چائینہ حکومت کی نرمی پر بہت خوش تھے۔ بعض کہہ رہے تھے کہ یہ سب کچھ عمران خان کی مہربانی ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ چائینہ حکومت کی پالیسی ہر سال تبدیل ہوتی ہے شاید سی پیک کی وجہ سے یہ تبدیلی آئی ہو!

بہر حال مسافروں کایہ سیاسی بحث تشقرغان تک جاری رہا۔ پانچ بجے کے قریب ہماری گاڑی چائینہ امیگریشن کے مین آفس کے گیٹ میں داخل ہوگئی تھی۔ ڈرائیور گاڑی روک کر نیچے اُترا۔ کافی دیر انتظار کے بعد ڈرائیور واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی۔ ہمیں نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ گاڑی میں جراثیم کش دوائی کا سپرے کیا جائے گا، جس کے بعد ہم امیگریشن کے آفس میں داخل ہونگے انھوں نے کہا کہ گاڑی میں جراثم کش سپرے کے ستر ین لیتے ہیں۔

بہر حال ہماری گاڑی پر جراثم کش سپرے کیا گیا جس کے بعد آگے جانے کی اجازت دی گئی۔ اس سے قبل امیگریشن کے آفس کے قریب مسافروں کو ان کا سامان سمیت لائن میں کھڑے کرنے کے بعد کتے لائے جاتے تھے جو انسان کے ساتھ ساتھ سامان کو بھی سونگھ کر تسلی کرتے تھے  کہ سامان اور انسان میں کوئی نشہ آور چیز موجود نہیں ہے۔ اس دفعہ وہ کتے بھی غائب تھے۔

ہمیں امیگریشن کے ایک آفیسر نے گاڑی سے اُترنے کا اشارہ کیا اور تمام مسافر گاڑی سے اُتر گئے۔ مسافروں کو وہاں سے آفس لے جایا گیا۔ جو مسافر پہلی بار آئے تھے ان کی باقاعدہ طور پر تصویر نکالی گئی اور ساتھ یہ پوچھا گیا کہ چائینہ میں آپ کا کوئی جاننے والا ہے اگر کسی کا کوئی جاننے والا ہے تو وہ اس کا نام پتہ اور موبائیل نمبر ان کے حوالے کرتا تھا۔ ہم سے پوچھا گیا تو ہم نے نا ہی کا جواب دینا مناسب سمجھا جس کے بعد ہم اپنا سامان سمیت کسٹم کے حکام کے پاس پہنچ گئے۔ میری بریف کیس میں چائینہ کے دوستوں کے لئے کوئی دو کلو بادام اور کچھ خشک خوبانی تھے۔ کسٹم آفیسر نے کہا کہ میوہ جات آپ نے چائینہ کیوں لائے ہیں؟ میں نے ان کو بتایا کہ میں نے کھانے کے لئے لایا ہے ان کا کہنا تھا کہ چائینہ پاکستان سے پھل فروٹ لانا منع ہے مجھے ان کی باتوں سے تعجب ہوا  کہ چائینہ سے گوادر کے لئے ٹنوں کے حساب سے سامان روزانہ پاکستان جاتا ہے اور پاکستان میں چائینہ کا اتنا سارا سامان فروخت ہورہا ہے اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ چائینہ سے ٹر کوں کے حساب سے اخروٹ اور بادام ملک کے کونے کونے پہنچ گئے ہیں اور گلگت بلتستان میں چونکہ بادام اور اخروٹ کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے چائینہ کے اخروٹ اور بادام کی وجہ سے یہاں کے ڈرائی فروٹ کی قیمت آسمان سے زمین پر پہنچ گئی ہے اور یہاں کسٹم والوں کو ہمارے دو کلو بادام پاکستان سے چائینہ لے جانا بھی پسند نہیں۔

بہرحال کسٹم آفیسر نے یہ کہہ کر ڈرائی فروٹ میرے حوالے کر دیا کہ آپ پہلی بار آئے ہو آئندہ آگئے تو اپنے ساتھ فروٹ لیکر چائینہ مت آئیے گا۔ میں نے کچھ نہیں کہا اور سیدھے وہاں سے نکل گیا۔

جونہی امیگریشن کے دفتر کے باہر نکلا لہو جمانے والی سردی تھی میرے ساتھی نیت ولی کا بھی سردی سے برا حال ہورہا تھا ہم نے مناسب سمجھا کہ جلدی سے ٹیکسی پکڑ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوتے ہیں مین روڈ پر آئے تو ہمارے دیگر ساتھی بھی ٹیکسی کا انتظار کر رہے تھے وہاں کسی دوست نے بتایا کہ پورے تشقرغان کے کسی بھی ہوٹل میں کمرہ خالی نہیں ہے مجھے بہت ہی تعجب لگا کہ اچانک تشقرغان شہر میں اتنا رش کہاں سے آگیا بقول اس دوست کے کہنا تھا کہ جب سے چائینہ سامان پر سوست میں ٹیکس کی کٹوتی زیادہ ہوئی ہے خطے کے بعض تاجروں نے سینکڑوں افراد کو ان ہوٹلوں میں بیٹھایا ہے یہ لوگ کاشغر اور اورمچی سے سامان لاتے ہیں اور اس کو تاشقرغان میں اُتار دیتے ہیں اور جن لوگوں کو اُنھوں نے ہوٹل میں ٹھرایا ہے یہ ان کے مزدور ہیں یہ لوگ ایک سے دو نگ سامان صج سوست جانے والی بس میں ڈال کر سوست پہنچ جاتے ہیں جہاں مالک ان مزدوروں کو اچھا خاصی مزدوری بھی دیتا ہے اس طرح ان لوگوں کا چکر بھی ہوگیا اور ساتھ ساتھ کچھ پیسے بھی مل گئے اس کے علاوہ کاشغر سے چلنے والے کنٹنیر کو سوست پہنچنے اور سوست پورٹ سے سامان مارکیٹ تک لانے میں ایک سے دو ماہ لگ جاتے ہیں اس لئے یہاں کے تاجروں نے سامان کو بروقت اور کم ٹیکس دیکر مارکیٹ پہنچانے کا یہ حل نکلا ہے۔

ان کی یہ باتیں جاری تھی کہ نیت ولی نے مجھے بتایا کہ ایک ٹیکسی مل گئی ہے اس میں ہوٹل کی طرف نکلتے ہیں ہم نے اپنا سامان ٹیکسی میں ڈالا اور ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے جس بندے نے ہمیں ہوٹل میں کمرے نہ ملنے کی اطلاع دی تھی اس کی بات سو فی صد درست نکلی جن ہوٹلوں میں ہم ایک سو ین میں قیام کرتے تھے اب اسی ہوٹل میں کمرے کا کرایہ ایک سو اسی ین ہوگئے تھے۔ ہم چار سو ین دینے کو بھی تیار تھے مگر کسی بھی ہوٹل میں ہمیں کمرہ نہیں ملا ۔

ایک طرف تاشقر غان کی وہ سردی تھی اور دوسری طرف ہم!  کب تک اس خون جمانے والی سردی میں ہوٹل کے باہر کھڑے رہتے۔  ایک نگر کے دوست نے ہمیں مشورہ دیا کہ کسی بھی طرح سے کاشغر کے لئے گاڑی پکڑتے ہیں اور یہاں سے نکل جاتے ہیں ان کی بات بہت ہی مناسب تھی اڈے میں جاکر پتہ کیا تو پتہ چلا کہ کاشغر جانے کے لئے کوئی گاڑی نہیں ڈبل کیبن میں سیاحوں کے سفر پر پابندی لگا دی ہے جبکہ ایک اور دوست نے یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ ہم لوگ ایک ماہ قبل ڈبل کیبن میں تشقرغان سے کاشغر گئے تھے نصف راستہ طے کیا تھا پولیس والوں نے واپس ہمیں تشقرغان روانہ کر دیا اور ڈرائیور کو بھاری جرمانہ بھی کیا۔

عام دنوں میں تشقرغان سے کاشغر تک کا کرایہ ایک سو بیس ین ہے اگر زیادہ سے زیادہ کرایہ لیا جائے تو ایک سو پچاس ین کرایہ وصول کیا جاتا ہے ہم پریشانی کے عالم میں بیٹھے تھے کہ اب کیا کیاجائے ایک طرف شدید سردی نے ہمارا برا حال کر دیا تھا تو دوسری طرف گاڑی نہ ملنے سے ہماری پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ دیار غیر میں ہم اتنی سرد رات کیسے گزار سکتے تھے؟

ہم پریشانی میں مبتلا تھے کہ نگر والے دوست نے ہمیں آکر بتایا کہ ایک ڈبل کیبن مل گئی ہے اور ڈرائیور ہمیں کاشغر لے جانے پر راضی ہوگیا ہے ہم نے ان کی زبان سے یہ بات کیا سنی کہ خوشی کے مارے پاگل ہوگئے۔ تاہم ہماری خوشی چند منٹوں میں ہی کافور ہوگئی، کیونکہ جب ہم ڈرائیور کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے ہم تین بندوں سے بارہ سو ین کرایہ مانگا۔ ہم حیران ہوگئے کہ چائینہ جیسے ملک میں بھی اتنی لوٹ مار وہ ڈرائیور ہماری مجبوری کا غلط فائدہ اٹھا رہا تھا اور ہمارے پاس اب کاشغر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

ہم نے ڈرائیور کو گیارہ سو ین میں راضی کر لیا جو پاکستانی روپیوں میں اکیس ہزار روپے بنتے ہیں ہمارے نگر کا ساتھی جو ان کی زبان سمجھتا تھا ان سے کافی دیر بات کرنے کے بعد بولا کہ ڈرائیور کہہ رہے ہیں ڈبل کیبن پر سیاحوں کو لیجانے کی پابندی ہے مگر راستے میں جو پولیس چیک پوسٹ ہیں ہم ان کو بھی بھتہ دیکر آپ کوکاشغر لے جارہے ہیں انکی بھتہ والی بات سن مجھے کرنٹ سے لگا کہ چائینہ جیسے ملک میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔

ہم سردی سے کانپ رہے تھے۔ ڈرائیور اپنی گرم گاڑی میں آرام کر رہا تھا ہماری ان کے ساتھ گیارہ سو ین پر بات پکی ہوگئی اور ہم گاڑی میں سوار ہوگئے گاڑی میں ہیٹر چالو تھا۔ سوار ہوتے ہی ہماری جان میں جان آگئی۔

اس دوران ہم نے نگر والے ساتھی کو بتایا کہ اس ڈرائیور سے کہنا کہ راستے سے اگر پولیس نے ہمیں واپس کیا تو کرایے کا ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔ ڈرائیور نے خوشی سے ہماری شرط منظور کر لی۔ کاشغر کی طرف سفر شروع ہوے ابھی آدھ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اچانک پولیس نمودار ہوئی، اور ہماری گاڑی روک لی۔ (جاری ہے )

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments