غذر کے لاوارث تاریخی اثاثے

تحریر :ظفراقبال

اقوام کو ان کی عظيم تاریخ کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے،چین کے حکمرنوں نے خونخوار منگول حملہ آوروں کے خوف سے دیوار چین تعمیر کی،تاکہ تاتاریوں کی رسائی بیجنگ تک نہ ہو سکے۔مصر کے فرعونوں نے لاشوں کو حفاظت سے رکھنے کے لئے دریائے نیل کے کنارے اہرام تعمیر کئے،شاہ جہاں نے ممتاز کی یاد میں جو کہ اسکی،، سولہ واں بیوی تھی ،اور اُس کے شوہر کو قتل کر کے شاہ جہاں نے اُسے حاصل کیا تھا،، کی یاد میں تاج محل تعمیر کیا ۔یہ دنیا کے وہ چند ماضی کے آثار ہیں، جو ہمیں اس عہد کی یاد دلاتے  ہیں۔دنیا میں ایسے لاتعداد ماضی کے شاہکار  آج بھی موجود ہیں۔
دنیا میں ایسے بھی تہذیبیں موجود تھیں،جن کی تاریخ تک  رسائی آج کے دور کے انسان نہیں کر سکیں،کیونکہ ان اقوام نے اپنی تاریخ اور اثار کو تحفظ فراہم نہیں کر سکیں،یہی وجہ تھی کہ  انکی عظیم تاریخ زمانے کی دھول میں کہیں گھوم ہو گئی ۔
دریائے سندھ کی تہذیبیں بھی اپنے عروج کے دور میں مہذب تہذیبوں میں شمار ہوتیں تھیں،
دریائے سندھ کے شمالی حصے کے اقوام جن میں گلگت بلتستان کے علاقے شامل ہیں،ان کی تاریخ بھی عظيم رہی ہے ۔لیکن بدقسمتی سے اُن اقوام کی تاریخ تک رسائی بہت مشکل ہیں ۔کیونکہ مختلف اوقات میں حملہ آور قوتوں نے قلعوں اور علاقوں کو تاراج کرنے کے بعد اُنکی کتابی زخیرے کو آگ لگائی یا اپنے ساتھ لے گئیں۔
١٩ ویں صدی عسوی کے وسط میں گلگت بلتستان کی سرزمین کی اہمیت اُس وقت بڑھ گئی، جب دشت پامیر میں سرخ طاقتوں نے سر اٹھايا ۔
اُن طاقتوں نے  صرف دشت پامیر میں حرکت پر اکتفا نہیں کی، بلکہ اپنی طاقت کی گرفت کو گلگت بلتستان تک پھیلاتے رہے۔حالات نے تب کروٹ بدلی جب روسی ایجنٹ گروچاسکی اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ سن ١٨٨٧ میں ریاست ہنزہ کی راج دہانی التیت میں پائے گئے۔اس دورے کے  بعد  میر صفدر علی خان کا جھکاٶ واضح طور پر روس کی طرف ہو گیا،روس کی ان علاقوں میں اس مداخلت کی پالیسی نے انگلشہ سرکار کی راتوں کی نیندیں اڈا دی۔ان حالات کا بغور جائزہ لینے کے لئے برطانوی حکومت نے کرنل ڈیورینڈ سن ١٨٨٩ کو  گلگت میں تعینات کر دیا۔کرنل ڈیورینڈ کے گلگت میں تعیناتی سے لے کر اینگلو بروشو وار تک کے تاریخی واقعات کا زکر گزشتہ کالمز میں ہوچکے ہیں۔فل حال ان حالت و واقعات کا تذکره ہوگا ،اور اُن اقدامات کا ذکر ہوگا، جو  سرخ طاقت کی گلگت بلتستان  تک رسائی کو روکنے کے لئے اٹھائے گئے تھے،  گلگت بلتستان کے شمالی علاقے جن میں پونیال، یاسین،گوپس اور اشکومن کے علاقے شامل تھے،حساس قرار دئے گئے،کیونکہ گلگت بلتستان پر حملہ درکوت یا پھر چترال کے راستے ہونے کے  امکانات موجود تھے۔اس  ممکنہ خطرے کے پیش نظر گلگت سے گوپس تک فوج کی نقل و حمل کو موثر بنانے کے لئے روڈ کو وسعت دی گئی،
گوپس دریائے یاسین اور دریائے پھنڈر کے بلکل سنگم پر واقع ہے،انگریزوں نے دفاعی لحاظ سے گوپس کو زیادہ اہميت دی ۔اور سن ١٨٩٢ میں گوپس فورٹ  تعمیر کیا گیا۔تاکہ درکوت یا پھر چترال کی طرف سے ممکنہ حملے کا مقابلہ کیا جا سکے۔قلعے کے دیواروں کو پھتر اور چونے سے تعمیر کیں گئیں ہیں۔چاروں کونوں پر برج بنائے گئے ہیں۔قلعے کے اندر گھوڑوں کے لئے اسطبل بنائے گئے ہیں۔مجرموں کے لئے قید خانے اور نیز غلہ رکھنے کے لئے بڑے بڑے گودام بھی بنائے گئے تھے۔
لیکن یہ طرز تعمیر دفاعی نقطہ نظر سے زیادہ مظبوط تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیونکہ دفاعی لحاظ سے بلتی انجنیئروں کے تعمیر کردہ قلعے زیادہ موثر تصور کئے جاتے تھے۔بلتی انجنیئر جہاں جہاں گئے وہاں انہوں نے اپنی وجود کے انگنت نقوش چھوڑے ۔سترہ ویں صدی عسوی میں جب بلتی کاریگروں کی رسائی ہنزہ تک ہوگئی تو انہوں نے وہاں پر التیت اور بلتت کے ناقابل تسخیر قلعے تعمیر کر کے ہنزہ کے میروں کو محفوظ پناہ گاہیں  مہیا  کئے۔
بدقسمتی سے اُن بلتی انجنیئروں کی رسائی ضلع غذر اور یاسین تک نہیں ہوسکی۔
یہی وجہ تھی، کہ ان علاقوں میں کبھی سیاسی استحکام نہیں ا سکی۔کیونکہ حکمران طبقہ بیرونی حملے کی صورت میں خود کو اور اپنی رعیاں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تھے،یوں وہ حملے سے قبل یا دوران لڑائی میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کر کے دوسرے علاقوں میں پناه گزین ہوتے تھے،اور عام آدمی حملہ آورں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوتے تھے۔
ضلع غذر میں دور قدیم سے حمکرانوں نے اپنی دفاع کو یقینی بنانے کے لئے قلعے تعمیر کئے تھے،کچھ قلعے ایسے بھی ہیں جو برطانوی دور حکومت میں  تعمیر ہوئے تھے ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کے یہ شاہکار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں،ان قلعوں کی حفاظت اور مرمت کے سلسے میں حکومت نے کوئی سنجيده اقدامات نہیں اٹھائے ،نہ ہی کسی این جی او نے یہاں کا رخ کیا۔ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ان قلعوں کی تزعین و ارائش کر کے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث بناتے،تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں کا رخ کرتے جس سے مقامی لوگوں کو فائده ہوتا ،اور ان کی معیار زندگی بلند ہوتی۔لیکن گلگت بلتستان کی مقامی حکومت نے بھی ان علاقوں سے نظریں چرائی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے  ماضی کے یہ اثاثے بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں،اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنے ہیں،ضلع غذر میں زمانے کی حوادث کا شکار ہونے والے ایسے چار قلعے قابل ذکر ہیں۔جن میں سر فہرست چھوہر کا قلعہ ہے جسے شیر کا قلعہ کہا جاتا ہے،شیر قلعہ ہمیشہ سے ریاست پونیال کی راج دہانی رہی ہے، اور کہیں خون ریز تصادم بھی اس سرزمین نے دیکھی ہے،اور کئی جنگی سورماؤں کے خون کے قطرے شیر قلعہ کی مٹی میں جذب  ہوئے ہیں،
گاہکوچ بالا قلعہ بھی آج اپنی بے بسی کی داستان خوب سنا رہی ہے،گاہکوچ بلا فورٹ گریٹ گیم کے دور میں دفاعی لحاظ سے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا،سن ١٨٧٦ سے ١٨٩٥ تک ایک انگريز افیسر کو  ہمیشہ یہاں پر تعینات رکھا جاتا تھا، تاکہ دشت پامیر میں سر اٹھاتی سرخ طاقت کی نقل و حمل سے ہندوستانی حکومت کو آگاہ رکھ سکے۔
مگر افسوس  کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ قلعہ این جی اوز اور حکومت کی ترجیحات سے ہمیشہ اُوجل رہا ہے،اور آج تباہی کے اس نہج تک پہنچ چکا ہے ۔ہم تمام این جی اوز، حکومتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں ،کہ ضلع غذر کے بارے میں اپنی پالیسز پر نظر ثانی کریں۔ہمارے وجود سے جڑی ہر چیز جس میں ہماری تاریخ ہمارے ماضی کے اثاثے، ہماری علحيده ثقافت کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
سن ١٨٩٢ میں گوپس میں تعمیر ہونے والا قلعہ بھی قابل رحم حالت میں موجود ہے ،کونوں میں موجود چاروں برج کے زیادہ تر حصے گر چکے ہیں،بیرونی حفاظتی دیوار بھی جگہ جگہ سے گری ہوئی ہے،
ماضی میں کچھ عرصہ یہ قلعہ این ایل ائی کے زیر استعمال رہا تھا ،یہ وہ وقت تھا جب افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ تھا،ان عشروں میں ایک دفعہ پھر سے ضلع غذر اور یاسین دفاعی لحاظ سے حساس قرار پائیں ،اوملست یاسن اور گوپس میں سال کے چھے مہنے پاک فوج تعینات ہوتے تھے،سویت یونین کے افغانستان میں ناکامی کے بعد ان علاقوں سے خوف کے سائے بھی ٹل گئے۔
قابل غور پہلو یہ ہے کہ ماضی کے دو مشکل ادوار میں دفاع کے غرض سے تعمیر کردہ یہ قلعہ آج اس حالت میں کیوں موجود ہے،اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یاسین کی تاریخ ہمیشہ پر اشوب رہی ہے،ورشگوم کی راج دہانی مستوج کے بعد یاسین ہی رہی ۔یہاں پر جو فورٹ موجود تھا وہ آج اپنی اخری سانسیں لے رہی،اس قلعے کا ہم اثر قلعہ طاؤس بری کھن کے اثار بھی موجود نہیں ہیں،ہمیں صرف اتنا معلوم ہے، کہ یہاں پر ماضی میں ایک اعلی شان قلعہ ہوا کرتا تھا۔
آخر میں ہم حکومت پاکستان ،گلگت بلتستان کی مقامی حکومت اور اے کے ڈی این کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان قلعوں کی حفاظت کے لئے کوئی لائحہ عمل تشکیل دے ۔اور اُنکی حفاظت کو یقینی بنائے تاکہ ہماری انے والی نسلیں اپنی تاریخ سے واقف ہو سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments