غذر سے چین تک ۔۔ساتویں قسط

تحریر :۔دردانہ شیر

ڈرائیور نے پاکستان نژاد کینڈا کے اس شہری کو ایک سو پچاس ین کرایہ کی جگہ دو سو ین پکڑا دیا۔ ہم نے سوچا کہ  یہ خیال کیا کہ شاید ڈرائیور ڈر گیا ہوگاکہ یہ غیر ملکی پولیس سے شکایت نہ کرے۔ ہم بھی خوش تھے کہ ہم سے جو زائد رقم وصول کیا ہے وہ بھی واپس مل جائینگے۔ ابھی ہم ایسی سوچ میں تھے کہ ڈرائیور نے جس شخص کو دو سو ین واپس کیا تھا اس کا تمام سامان گاڑی سے اتارنا شروع کر دیا ہم پریشان ہوگئے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ اس شخص کو دو سو ین دینے کے بعد اس کا سامان بھی اُتار رہا ہے۔

کینیڈا کے اس شہری کو چینی زبان آتی تھی، اور وہ ڈرائیور کو کچھ کہہ رہا تھا مگر ڈرائیور بہت ہی غصے میں ان کا سامان گاڑی سے اُتار رہا تھا میں نے قریب جاکر اس بندے سے وجہ پوچھا کہ وجہ کیا ہے تو کہنے لگا کہ میں نے کاشغر سے تشقرغان کے لئے ایک سو پچاس ین کرایہ دیا تھا جب میرا ایک سو انیس ین کا ٹکٹ کاٹاگیا تو میں ڈرائیور سے بقیہ پیسے واپس مانگے۔ اب یہ ناراض ہو کر مجھے دو سوین دینے کے بعد کہہ رہا ہے کہ کسی اور گاڑی میں آجاو۔

ہم سمجھ گئے کہ ضرور ڈرائیور اور پولیس والوں کا کوئی گٹھ جوڑ ہے ورنہ یہ ڈرائیور ایسا ہزگز نہیں کرتا اور وہاں پر موجود پولیس کے اہلکار بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ہم بھی خاموش رہے کہ اگر ہم بھی بقایہ ادا کرنے کا ڈرائیور سے تذکزہ کرینگے تو ہمارا سامان بھی گاڑی سے پھینک دیا جائے گا ہم نے ڈرائیور سے گزارش کی کہ کوئی بات نہیں یہ بابا تھوڑا جذباتی ہوا تھا کہ اس وجہ سے آپ سے کرایہ مانگا ہوگا اس کے ساتھ بابا کو بھی ہم نے سمجھا دیا کہ آپ دو سو ین واپس کر دیں اُنھوں نے دو سو ین ڈرائیور کو بہت فریادیں کرنے کے بعد واپس کر دیا اور ڈرائیور بھی بڑی مشکل سے راضی ہوئا۔

چین میں ہم نے دیکھا کہ اتنا بڑا ملک ہے مگر اس ملک میں ایک سو سے بڑا نوٹ نہیں ہے ان کی سب سے بڑی کرنسی ایک سو ین کی ہوتی ہے شاید اس ملک نے ایک سو ین سے بڑا نوٹ نہیں نکالا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے جتنے بڑے نوٹ جس ملک کے ہونگے کرپشن بھی اتنی زیادہ ہوگی ہمارے ملک میں جب سے ایک ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ نکلے ہیں کرپشن بھی اتنی زیادہ ہوئی ہے اگر ایک ہزار کانوٹ سے بڑا نوٹ نہیں ہوتا تو ملک میں کرپشن بھی اتنی نہیں ہوتی جس حکمران نے یہ بڑے نوٹ نکالنے کی اجازت دی ہے وہی حکمران نے خود کرپشن کا سوچ کر اتنا بڑا نوٹ نکالنے کی اجازت دی ہوگی ایک ایسا ہمارے ملک کا ایک حکمران نے تو یہ بھی کہا تھاکہ دس ہزار کا بھی نوٹ نکالنے کا سوچ رہے ہیں اور اس کا ڈیزین بھی سوشیل میڈیا میں کئی عرصے تک گردش کر تا رہا بلوچستان کے جس صوبائی مشیر سے کروڑوں روپے نیب نے پکڑے تھے اس میں سارے نوٹ پانچ ہزار کے تھے اگر یہ نوٹ ایک ہزار کے ہوتے تو اس کو ان نوٹوں کو چھپانے کے لئے اس مشیر کے پاس جگہ بھی نہیں ہوتی اگر حکومت پاکستان پانچ ہزار کا نوٹ ختم کر دیں تو ملک میں کرپشن نصف کم ہوسکتی ہے چین کی حکومت نے اس وجہ سے ابھی تک سو سے بڑا نوٹ نہیں چھاپا بات پھر کئی اور نکل گئی ہم نے ڈرائیو ر کود و سوین واپس لینے پر اصرار کیا تو انھوں نے دو سو ین واپس لئے اور ہمارا سفر تشقرغان کی طرف رواں دواں تھا راستے میں کئی ایکڑ زمین میں ہمیں اخروٹ ،بادام ،چیری اور سیب کے بڑے بڑے باغات نظر آے تشقر غان سے کاشغر تک کا کوئی چار سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور سڑک بالکل موٹر وے کی طرح ہے جب ہم کاشغر سے نکلنے کے لئے تیار تھے تو پولیس تین اہلکار آے گاڑی کے ٹائر اورانجن کو چیک کیا اس کے بعد گاڑی کا میٹر اور ٹائم بھی نوٹ کرلی اور ساتھ ساتھ ڈرائیور کو کچھ ہدایات بھی دے رہے تھے موٹر وے جیسی سڑک پر گاڑی کی سپیڈ ساٹھ سے اوپر نہیں تھی ہم نے اپنے پاکستانی نژاد کینڈا کے بابا سے بات کی اور کہا کہ اس ڈرائیور سے پوچھ لو کہ گاڑی کی سپیڈ کچھ زیادہ نہیں ہوسکتی کئی گاڑی میں کوئی خرابی تو نہیں اس نے ڈرائیور سے بات کرنے کے بعد ہمیں بتایا کہ جن پولیس والوں نے ٹائم اور گاڑی کا میٹراور انجن چیک کیا ہے ہم نے ٹھیک ایسی ٹائم پر تشقرغان پہنچنا ہے اور گاڑی کی سپیڈ ساٹھ سے زیادہ کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر میں سپیڈ بڑھا دو ں تو مجھے تین بار وارننگ مل جائیگی اس کے بعد میری گاڑی وہی کھڑی ہوگی چونکہ گاڑی کے اندر بھی پولیس نے کوئی چپ فٹ کر لیا ہے ہمیں بڑ اتعجب ہوا کہ پاکستان میں اگر اس طرح کی سڑک ہو تو وہاں پر ایک سو پچاس کی سپیڈ پر گاڑیاں چلتی ہے جس وجہ سے حادثات میں روزبروز اضافہ ہوتا ہے اور گاڑیوں کی کوئی فٹنس نہیں ہوتی جس کی مرضی آئے کھٹارہ گاڑیوں کو روڈ پر دوڑتا ہے کچھ روز قبل یاسین سے روالپنڈی جانے والی گاڑی کے حادثے میں 21افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے اس گاڑی کے بارے میں بھی یہ اطلاعات ہیں کہ یہ گاڑی یاسین سے گلگت چلنے کے قابل نہیں تھی اس کو یاسین سے روالپنڈی چلنے کی اجازت دی گئی تھی ایک موٹر سائیکل سوار کے پاس اگر ہلمٹ نہ ہو تو اس کے پانچ سو جرمانہ ہوتا ہے مگر گلگت بلتستان سے روالپنڈی چلنے والی ان کھٹارہ گاڑیوں کا وہیکل فٹنس کے حوالے سے محکمہ ایکسائز اور پولیس کی طرف سے کارروائی نہ ہونا سمجھ سے باہر ہے اور اس حادثے میں معجزانہ طور پر ایک خاتون بچ گئی تھی اس مطابق حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا اور کوسٹر گہری کھائی میں جاگری اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈرائیور کی عمر بھی اتنی نہیں تھی کہ وہ اتنے لانگ روٹ پر اکیلے گاڑی چلا سکے مگر اب متعلقہ حکام کو غور کرنا ہوگا کہ وہ اس طرح کے حادثات سے اگر مسافروں کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر گاڑیوں کی معیار کو چیک کرنا ہوگا ورنہ اس طرح کے حادثات روز کے معمول بن جائینگے اگر یہ مسافر گاڑیاں اس روٹ پرچلنے کے قابل نہیں ہیں تو ان کی سروس فوری طور پرختم کی جائے چین میں باقاعدہ ایک قانون موجود ہے مسافر گاڑی کو منزل مقصود کی طرف جانے سے قبل باقاعدہ اس مسافر گاڑی کو چیک کیا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں حادثہ ہونے کے بعد پولیس گاڑی کو چیک کرتے ہیں اس دوران کوئی بھی بہانہ جوڑ دیا جاتا ہے یا تو بریک فیل ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ گاڑی کی ٹائی راڈ ٹوٹ گئی تھی کاشغر سے نکلے ابھی کوئی دو گھنٹے ہوگئے تھے کہ ایک چھوٹا سا شہر میں لاکر ڈرائیور نے گاڑی روک دی اور کہا کہ یہاں پر کھانا کھاکر تشقر غان کی طرف روانہ ہوتے ہیں ہم بھی کھانا کھانے ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے اور سوچا کہ آج یاک کا پالاو کھاتے ہیں ہم نے ہوٹل کے منیجر کو کھانے کا آرڈر دیا تو ایک بڑی کھتیلی میں سب سے پہلے قہوا ہماری ٹیبل میں پہنچا دیا گیا کھانا کھانے کے بعد گاڑی کی طرف آئے تو ہمارے ساتھ آنے والا بابا غائب تھا ڈرائیور سمیت دیگر مسافر سخت پریشان تھے کہ آخر بابا کہاں چلا گیا(جاری ہے )

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments