ونڈ فارم  یا ہوائی چکی

تحریر:  جی ایم ثاقب

ارومچی سے ترپان شہر جاتے ہوئے راستے میں، ہائی وے کے دائیں بائیں دیکھا کہ بڑے بڑے پول کھڑے تھے،پنکھے گھوم رہے تھے اور یہ میلوں دور تک پھیلے ہوئے تھے میں حیران و پریشان یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے،  تھوڑا غور کیا تو پتہ چلا کہ چائنا نے ہوا سے چلنے والے بجلی گھر یا بجلی کے چکّی لگائے ہوئے ہیں تاکہ سنکیانگ صوبے کی بجلی کی ضروریات ہوائی بجلی گھر بنا کر پورے کیے جائیں ۔چینیوں کا اپنے کام سے جنون اور لگن کا اندازہ کچھ اس طرح سے ہوا کہ ہم ارومچی سے ترپان شہر کے درمیان ڈیڑھ گھنٹہ روڈ کے دائیں بائیں دیکھتے رہے اور ہوائی بجلی گھروں کا ایک جال دیکھا۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے چائنا اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ونڈ مل سے بجلی پیدا کرنے والا ملک ہے اور مزید تیزی کے ساتھ اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ایک ہم ہیں ملک اندھیروں میں چلا گیا ہے اور ہم مہنگی ترین  تھرمل بجلی کے پیچھے  پڑے ہوئے ہیں تا کہ اپنے دوستوں سے پرائیویٹ بجلی گھر بنوا کر ان کو ارب پتی بنوائیں اور ملک کو کنگال کریں۔

چائنہ کے پاس 25 سو گیگاہرٹز بجلی بنانے کے مواقع موجود ہیں اور یقینا پاکستان کے پاس بھی کثیر مواقع موجود ہوں گے کہ ہمارے ہاں بھی لمبا کوسٹل لائن موجود ہے جہاں ہوائی چکیاں لگا کے بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔چائنیز گورنمنٹ میں اب تک بیس ہزار میگا واٹ  بجلی ہوائی چکی سے بنائی ہے اور 2030 تک 400 گیگا ہٹس کی پلاننگ کرچکے ہیں۔اس کے مقابلے میں ہم اپنے ملک کو دیکھتے ہیں تو سوائے پریشانی، شرمندگی اور حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

ہم تو سنتے تھے کسی زمانے میں کوریا اور چین پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے پاکستانی ماہرین سے بنوا کر لے جاتے تھے، یہ بات سچ ہے یا جھوٹ  مجھے نہیں معلوم، ہم اپنے ملک کے حالت کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ساری پلاننگ کرنے والے خود بیرون ملک چلے گئے ہیں یا ملک میں پلاننگ کرتے ہوئے بجلی کی روز افزوں ضروریات کو بالکل نظر انداز کر گئے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اندھیروں میں ڈوب گئے ہمارے انڈسٹری تباہ ہوگئی پاور جنریشن کے لیے ہمیں پرائیویٹ سیکٹر کو دیکھنا پڑا اور مہنگی بجلی نے ہماری انڈسٹری کو تباہ کر دیں۔نئے گورنمنٹ سے دست بستہ التماس ہے کہ ہوائی چکی بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری سنکیانگ میں بنی ہوئی جس کا نام گولڈ ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے۔چائنا ہمارا پڑوسی ملک ہے ہمیں اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے ملک کو اندھیروں سے نکالناچاہیے۔گلگت بلتستان حکومت کو بھی چاہیے کہ اپنے پڑوس میں ہونے والے ترقی کے تیز رفتار پہیے کو دیکھتے ہوئے اپنے علاقے میں بھی ایسی ترقیاتی اسکیموں کا جال بچھایا جائے جس سے گلگت بلتستان اندھیروں سے نکل آئے۔سکردو میں سال کے بارہ مہینے تیز رفتار ہواؤں کا راج ہوتا ہے کیا ہی بات ہو کہ اگر اس ہوائی بیلٹ میں ہوائی چکیاں نصب کر دی جائیں تاکہ اس شدید سردی کے موسم میں دو دو تین تین دن بجلی سے محروم رہنے والے عوام کو ریلیف مل جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments