کلچراور رجعت پسندی

از: غلام الدین (جی ڈی)

انسانی معاشرہ اپنے ابتدائی دور سے ارتقا کے عمل سے گزر رہا ہے اور یہ تبدیلی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ نیز کوئی بھی شے جامد نہیں، تبدیلی و تغیر زمان و مکان کا خاصہ ہے، مثلا انسانی سوچ و فکر، رویے اور ذرایع پیداور میں تبدلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ جب انسان گروہ کا سفر طے کرکے معاشرہ بناتا ہے تو سماجی امور، معاملات اور مشترکات پر مبنی ایک منفرد کلچر فروغ پاتا ہے۔ کلچر لاطینی زبان کا لفظ کلٹس سے ماخوز ہے جس کے معنی کلٹیویشن (کاشتکاری)، خالص، تراش خراش یا تشکیل کے ہیں۔ کلچر کو کسی بھی سماج کی اندرونی مشترکات کا اظہار کہا جاسکتا ہے۔ مفکرین کے نزدیک کلچر یا ثقافت کسی بھی خطے یا علاقے کا رہن سہن،لباس، زبان، کھانا پینا، مذہبی عقائد، اخلاق وسماجی رویے، رسم و رواج،آلات و اوزار، فنون لطیفہ،علم و ادب، پیداوری ذرائع و سماجی رشتے وغیرہ شامل ہیں۔ عصرحاضر کے مفکرین نے تہذیب و ثقافت کو دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ مفکرین کے نزدیک کلچر کسی بھی سماج کا داخلی یا اندرونی طرز زندگی اور فکر واحساس کا عکاس ہوتا ہے جبکہ تہذیب کا دائرہ اور مفہوم بہت وسیع ہے۔ تہذیب یا سولائزیشن لاطینی زبان کا لفظ سوس سے ماخوز ہے جس کے معنی” کوئی شخص جو کسی قصبے کا مکین یا رہائشی ہو”۔ لیکن بات گاوں، دیہات، قصبہ یا شہر تک محد ود نہیں بلکہ تہذیب انسانی معاشرے کی معراج کو کہتے ہیں، جس میں سیاسی و سماجی ادارے، علوم و فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، ذرائع آمدورفت و مواصلات، فن تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ مفکرین کا کہنا ہے کہ کلچر تہذیب کے بغیرتو زندہ رہ سکتا ہے لیکن تہذیب کی تشکیل کلچر کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مختلف زبانوں میں کلچر و تہذیب کی اصطلاح کے معنی میں جدا ہیں۔ معروف مصنف و محقق سبط حسن نے اپنی تصنیف “پاکستان میں تہذیب کا ارتقا “میں کلچر اور تہذیب کچھ یوں بیان کیا ہے،” اردو، فارسی اور عربی میں کلچر کے لیے تہذیب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں تہذیب کے معنی درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ یا شاخیں کاٹنا کے ہیں تاکہ نئی شاخیں نکلیں اور نئی کومپلیں پھوٹیں۔ فارسی میں تہذیب کے معنی آرستین، پیراستین، یا دورست کردن و اصلاح نمودن کے ہیں۔ اردو میں تہذیب کا لفظ شائستگی کے طور پر استعمال ہوتا ہے، یعنی بات چیت، اٹھنا، بیٹھنا، کھانے پینے کے انداز، رہن سہن وغیرہ”۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ کوئی بھی تہذیب جغرافیائی حد بندی یا کسی سیاسی اکائی کے تابع نہیں ہوتی۔ جیسے شمالی و جنوبی کوریا،سابق مشرقی و مغربی جرمنی،بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر،ترک و یونانی قبرص کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں میں نوآبادیاتی نظام اور بڑی سلطنتوں کے خاتمے کے بعد وجود میں آنے والی ریاستوں کی اقوام سرحدوں کے آرپار رہائش پذیر ہیں۔ متنازعہ خطوں میں مقیم قوموں کے علاوہ دنیا کی کئی آزاد ریاستوں کی سرحدوں کی دونوں جانب ایک ہی کلچر اور تاریخی ورثہ رکھنے والی اقوام آباد ہیں۔ یہ قومیں اپنی ریاستوں سے بلاشرکت غیرے اپنی حب الوطنی کا اظہار کرتی ہیں اور ساتھ ہی انھیں اپنی تہذیب و ثقافت پر بھی ناز ہے۔

دور جدید میں سائنس و ٹیکنالوجی میں غیرمعمولی ترقی اور گلوبلائزیشن کے بلواسطہ یا بلاواسطہ اثرات کے باعث کوئی بھی ملک یا خطے کا انسان دو طرح کے کلچرز یعنی مقامی و بین الااقومی کلچر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ہر نئی نسل کی شخصیت پرانی نسل کی تہذیب و ثقاف کے دائرے میں تشکیل پاتی ہے اور یہ عمل نسل انسانی کی کرہ ارض پر وجود سے جاری ہے۔

حال ہی میں سما ٹی وی نے انفوٹینمنٹ ڈیپارمنٹ کے بینر تلے دو گھنٹوں پر محیط مارنگ شو گلگت کے ایک نجی ہوٹل سے براہ راست نشر کیا۔ شو میں گلگت بلتستان کے نامور محقق و دانشور شیربازعلی خان برچہ ، دیگر مہمان اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبا و طالبات شریک ہوئے۔ پروگرام میں گلگت بلتستان کی تاریخ، ثقافت، سماج، تعلیم اور سیاحت پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ ذرائع ابلاغ میں ٹی وی کا بنیادی مقصد معلومات کی فراہمی،علم و آگہی اور تفریح ہوتا ہے۔ مارنگ شوز میں معلومات کی فراہمی اور تفریح فارمیٹ کا حصہ ہوتا ہے۔ پروگرام کے ایک حصے میں گلگت بلتستان کی روایتی دھنوں پر ہلکا پھلکا رقص بھی پیش کیا گیا جس میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے چند طالبات بھی شریک ہوئیں۔ پروگرام کیا نشر ہوا،ناظرین کے ایک گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جنگ چھڑ گئی، ایک کیمپ وہ تھا جومخلوط روایتی ڈانس کے پیش کرنے پر پروگرام کی میزبان صنم بلوچ اور سماء ٹی وی کی انتظامہ کو لعن طعن کررہا تھا اور دوسرا کیمپ عورت کی ہر شعبے میں شراکت داری کی تائد کررہا تھا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث و مباحثے کی سنگینی کو دیکھ کرجامعہ قراقرم کی انتظامیہ نے بھی مخلوط رقص میں حصہ لینے والی طالبات کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے نوٹس کا اجرا کیا، مقامی صحافیوں اور دانشوروں نے انگریزی،اردو اخبارات، آن لائن ایڈیشنز اور سوشل میڈیا پر کالم لکھ ڈالے،تھانے میں درخواست بھی دی گئی اور ایک دھڑے کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہر خطے یا علاقے کا کلچراس کی اجتماعی تشخص کا عکاس ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کلچر فن موسیقی اور رقص میں ہی مقید ہے؟ ایسا بلکل بھی نہیں، زبان کی ترویج و ترقی، لباس، رہن سہن، بود و باش، سماجی و پیداوری رشتے،علم و ادب، فلسفہ، عقائد و اقدار، رسوم و رواج، لوک دانستانیں اور تاریخ وغیرہ اجتماعی کلچر کے اہم مظاہر ہیں۔ عصر حاضر میں سوشل میڈیا برق رفتاری کے ساتھ معلومات کی فراہمی اور مسائل کی نشاندہی میں جہاں اہم کردار ادا کررہا ہے وہی ہماری اجتماعی کم علمی اور رویوں نے ہمیں بے نقاب بھی کیا ہے۔ سماجی رابطوں کے مختلف فورمزپرہم جومعلومات شائع کرتے ہیں ان پر ہمارا کوئی کنڑول نہیں ہوتا، ہمیں کسی بھی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے قبل باریک بینی سے اُس ایشو کی حساسیت کا جائزہ لیتے ہوئے عقل، دلیل اور منطق کو اپنی بحث و مباحثے کا موضوع بنانا چاہیے نہ کہ مغلظات اور دھمکیوں کا سہارا لیا جائے۔ گلگت بلتستان کی خواتین تعلیم، صحت، سیاحت اورسیاست کے شعبے میں اہم کردار

ادا کررہی ہیں۔ جب خواتین سے معاشرے میں جینے کا حق بھی چھین لیا جائے گا تو نتیجتا نفسیاتی وذہنی امراض میں اضافہ ہوگا اور ایک صحت مند و توانا خاندان اور معاشرے کی تشکیل میں مسائل کا سامنا رہے گا۔ گلگت بلتستان کا کوئی بھی شخص مرد و خواتین کی مادر پدر آزادی کے حق میں نہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی جدید ریاست یا معاشرہ اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے کہ وہ انسان کو ایک پروڈکٹ کی طرح استعمال کررہا ہے، امیر و غیر کا فرق بھی اسی نظام کی دین ہے۔ ہمیں قدامت پرستی اور رجعت پسندی کے عینک کو اتار کر عقل، دلیل، منطق، حالات و واقعات اور تاریخ کی روشنی میں انسانی تہذیب و تمدن کے فلسفے کو سمجھنا ہوگا تاکہ ہمارے سماجی اقدار اور اجتماعیت کو ٹھیس نہ پہنچے۔

گلگت بلتستان کا جغرافیہ جتنا خوبصورت ہے اس سے کئی گنا زیادہ وہاں کی قومیں اور منفرد زبانیں باقی ماندہ دنیا کو توجہ کا مرکز بناتی ہیں۔ بلتی، شنا، بروشسکی، کھوار، وخی، ڈومکی، گجری وغیرہ کا کوئی ایک لفظ یا لہجہ آپس میں میل نہیں کھاتا البتہ بیرونی دنیا سے رابطہ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی، نصاب تعلیم اورابلاغ میں تیزی کے باعث انگریزی، اردو، فارسی اور عربی زبان کے الفاظ ان تمام زبانوں میں شامل ہورہے ہیں۔ گلگت بلتستان تاریخ میں ایک طویل عرصے تک لینڈلاک رہ چکاہے اس لیے وہاں کا کلچر بھی کسی حد تک خالص ہے اور یہ اجتماعی کلچر ہی ہے جو پورے خطے کو ایک ہی لڑی میں پروتا ہے، موسیقی کے آلات کم و بیش ایک جیسے ہیں۔ گلگت بلتستان کی موسیقی میں انتی تاثیر ہے کہ شہنائی اور ڈرم بجتے ہی ہر انسان کو اپنی سحر میں گرفتار کرلیتی ہے اورہر شخص جھومنے لگتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان میں مقیم ہر قوم و قبیلے کا اپنا دھن ہے، اس کے علاوہ ہر تہوار اور مہمانوں کے استقبال کے لیے بھی علیحیدہ دھن بجائے جاتے ہیں۔ ہر ذی شعور فرد پر یہ لازم ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی ثقافت، اقدار اور اجتماعیت کی حفاظت کرتے ہوئے رجعت پسند اور قدامت پرستی کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ ہمارے خطے کے مرد و خواتین علم و ادب، فن و ثقافت،سائنس و ٹیکنالوجی،ذرائع پیداور و سماجی اقدار،سیاست و معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments