بی بی کا بیٹاآگیا اور چھا گیا

صفدرعلی صفدر

پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان اور متحرک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملکی سیاست میں اپنے کیرئیر کے آغاز کے بعدگزشتہ ہفتے گلگت بلتستان کا پہلا تفصیلی دورہ کیا۔ شیڈول کے تحت بلاول مورخہ سترہ نومبرکو خصوصی طیارے کے ذریعے صوبائی دارالخلافہ پہنچے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی قائدین اور کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پہلے روزانہوں نے مقامی ہوٹل میں پارٹی قیادت سے علاقائی وسیاسی امورپر تفصیلی گفت وشنید کی۔

دوسرے روز سہ پہرکے وقت آغاخان شاہی پولوگراونڈ گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب شیڈول کا حصہ تھا۔ جلسہ کیا عوام کا سمندر تھا، اسی طرح کے سیاسی جلسہ جلوس تو اس سے قبل بھی متعدد بار مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے منعقد ہوتے رہے جن میں برسراقتدار جماعتوں کی جانب سے سرکاری وسائل کا دل کھول کا استعمال کے باوجوداتنی بڑی تعدادمیں عوام کا مجموعہ اکھٹانہیں کیا جاسکا۔ مگر یہ ایک انوکھا اور غیرمعمولی جلسہ رہا، چاہے وہ گلگت بلتستان میں2009کے عام انتخابات ہوں یا2015کے، خود وزرائے اعظم اور وفاقی وزراء کی سرتوڈ کوششوں کے باوجود کوئی بھی بلاول کی طرح عوامی توجہ حاصل نہ کرسکے۔

بلاول بھٹو کے نہ صرف گلگت بلکہ یاسین غذراور دیامر کے جلسوں میں بھی عوام کی شرکت غیرمعمولی رہی۔ علاوہ ازیں گلگت میں قیام کے دوران نہ صرف اپنی پارٹی سے وابسطہ افرادبلکہ دیگر سیاسی جماعتو ں کے رہنماء، جید مذہبی علماء اور صحافیوں کے ساتھ بھی ان کی تفصیلی نشستیں رہیں۔ اس دوران وہ سیکورٹی خدشات کی پرواہ کئے بغیر لوگوں سے گل ملے، کسی نے گلے لگایا، کسی نے پیار سے بوسہ دیا، کسی نے روایتی ٹوپی اور چوغہ پہنایا تو کسی نے گرم چادر اور پھولوں کے تحائف پیش کئے۔ کہیں پر لوگوں کے ساتھ سلفیاں بنوائیں تو کہیں مہمانوں کی ڈائری میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ کہیں پر ڈھول کی تھاپ پر علاقائی رقص سے محظوظ ہوئے تو کہیں شہدا کے مزار پر فاتحہ خوانی کے وقت اشکبار ہوئے۔

مختلف مقامات پر منعقدہ عوامی جلسوں اورپریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے وفاق میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے متعلق کوئی لب کشائی نہیں کی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل جن میں خطے کے آئینی حقوق، دیامر بھاشا ڈیم، بونجی ڈیم، حق ملکیت وحاکمیت، سی پیک میں برابرکے حقوق سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے بھی وفاقی سطح پر آواز بلند کرنے کے علاوہ گلگت میں ذوالفقارعلی بھٹوانسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سب کیمپس کا قیام کا اعلان، سندھ کے میڈیکل اور انجنئیرنگ کے اداروں میں داخلے کے لئے گلگت بلتستان کا کوٹہ بڑھانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ یوں بلاول گلگت بلتستان کا اپنا چھ روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے مورخہ بائیس نومبرکو واپس روانہ ہوئے۔

ان کے دورے کو کامیاب دورہ اس لحاظ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں گلگت بلتستان سطح پرجوپذیرائی حاصل ہوئی اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔ سبب چاہے ذوالفقار علی بھٹو کانواسہ بننے کا ہویا شہید بینظیربھٹو کا بیٹا ہونے کا یا پھرایک بے داغ نوجوان سیاسی رہنما ہونے کا بلاول گلگت بلتستان کی اس ٹھٹھرتی سردی کے باوجود عوام کو اپنی جانب مبذول کرانے میں بھرپور کامیاب رہے۔ ان کے اس دورے کو نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ مخالف جماعتوں کے ہمنواؤں نے بھی ببانگ دہل تسلیم کیا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے محرومیوں کے ازلے اور عوام کو بااختیاربنانے کے حوالے سے جوخدمات پاکستان پیپلزپارٹی نے سرانجام دیئے وہ تاریخ میں اب تک کسی اور سیاسی جماعت نہ دے سکی ہے۔ دعوے اور وعدے سب نے کئے اور کرتے رہے ہیں مگر عملی طورپر کام کا کریڈیٹ صرف پیپلزپارٹی کو ہی جاتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے1970کی دہائی میں پہلی بارگلگت بلتستان سے ایف سی آر جیسے کالے قوانین کاتمہ کرکے عوامی وسیاسی اصلاحات کے تحت21رکنی ایک مشاورتی کونسل قائم کردی۔ 1994میں شہیدبینظیربھٹوکے دوسرے دورحکومت میں خطے میں انتظامی، عدالتی اور انتخابی اصلاحات نافذکئے گئے، جس کے تحت گلگت بلتستان کے مقامی باشندے کو ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو، پانچ مشیران اور دوخواتین کے لئے مختص نشستوں سمیت مجموعی طورپرچھبیس ارکان پرمشتمل ’ناردران ایریاز کونسل‘ نامی سیٹ اپ دیاگیا۔

بعدازاں پرویزمشرف کے دورمیں ایک لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے تحت ناردرن ایریاز کونسل کو ’ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل‘ کا نام دیکرپہلی مرتبہ اسپیکرکا عہدہ تخلیق کیا گیاساتھ ساتھ خواتین کے لئے مختص نشستیں دو سے بڑھاکر پانچ کردی گئیں۔ تاہم2004میں اس میں کچھ مزیدترامیم کرکے کونسل کے ارکان میں ٹیکنوکریٹس کا اضافہ کیا گیا۔ 2009میں وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں اس وقت کے صدرپاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے ’ گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر2009‘ جاری کیا گیا۔ جس کے تحت خطے کو پہلی بار ایک نیم صوبائی سیٹ اپ دیکرگورنر، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کے عہدے تخلیق کئے گئے۔ یوں ’ناردرن ایریاز قانون سازکونسل‘ کو ’گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی‘ کا نام دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے ارکان کے ووٹ سے منتخب چھ جبکہ چھ وفاقی ممبران پر مشتمل ’ گلگت بلتستان کونسل‘ نامی ادارہ بھی قائم کیا گیا جس کے سربراہ وزیراعظم پاکستان کو بطورچیئرمین بنا دیا گیا۔

تاہم بعدازاں وفاق میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اپنے اقتدارکے آخری آیام میں ’گلگت بلتستان آرڈر2018‘ جاری تو کیا مگریہ آرڈر طرح طرح کے تنازعات کا شکار ہونے کے سبب تاحال مکمل طورپر نافذالعمل نہ سکا ہے۔

مندرجہ بالا اصلاحات (جن میں سے کچھ کا ذکرکالم کی طوالت کے سبب ممکن نہ پایا) پر نظردوڑانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ گلگت بلتستان کو اب تک تھوڑے بہت اختیارات ملے بھی ہیں تو وہ صرف اورصرف پاکستان پیپلزپارٹی کی کوششوں کا مرہون منت ہے۔ اس علاوہ گندم سمیت دیگر اشیاء خوردونی پر دی جانی والی سبسڈی جوکہ خطے کے عوام کے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ بنی ہوئی ہے، وہ بھی تو پیپلزپارٹی ہی کے بانی شہید ذوالفقارعلی بھٹوکا ہی دیا ہوا تحفہ ہے۔ چنانچہ گلگت بلتستان میں شہید بھٹو کے نواسے اور شہید بی بی کے فرزند ارجمندکا فقیدالمثال استقبال خطے کے عوام کی جانب سے اپنے محسنوں کی خدمات کے اعتراف کاعملی ثبوت بھی ہے۔

گلگت بلتستان میں بلاول زرداری کا اس قدرشاندار استقبال عوامی وسیاسی حلقوں کے لئے غیرمعمولی اس لحاظ سے ہوسکتا ہے کہ ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت خطے میں اپنی ناقص حکمرانی، کرپشن اور اقربا پروری کے سبب نہ صرف عوام میں اپنی مقبولیت کھوچکی تھی بلکہ خطے سے پارٹی کے وجودکے خاتمے کا بھی اندیشہ تھا جس کا ثبوت سال 2015کے عام انتخابات میں چوبیس میں سے صرف ایک حلقے سے پیپلزپارٹی کی کامیابی سے ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔ تاہم صورتحال کو دیکھ کر جلد ہی پارٹی کی مرکزی قیادت نے ایک دانشمندانہ فیصلے کے تحت خطے کے ہردلعزیزاور بے باک لیڈر امجدحسین ایڈووکیٹ کوپاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت سونپ دی۔

اگرچہ ایسی صورتحال میں جہاں پیپلزپارٹی کی سابق صوبائی حکومت کی ناقص ترین حکمرانی اوربدترین کرپشن کی داستانیں زبان زدعام ہوچکی تھی وہی پر اس پارٹی کا صوبائی بھاگ ڈور سنبھالنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن امجدحسین ایڈووکیٹ نے کمال مہارت اور عقل ودانش سے کام لیکرانتہائی مختصرعرصے میں گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کوبحال کرنے میں اپنا پھرپورکردارادا کیا۔ آج گلگت بلتستان میں بلاول بھٹو کے کامیاب جلسوں کے انعقادکے پیچھے بھی پارٹی کے صوبائی صدرامجد حسین ایڈووکیٹ اور انکی ٹیم کی انتھک محنت اور عوام میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کارفرما ہے۔

تاہم امجدحسین ایڈووکیٹ کو کامیابی کے منازل طے کرنے کے لئے ابھی مزید محنت درکار ہے۔ جس کے لئے انہیں اولین فرصت میں بلاول بھٹوکے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر کئے گئے اعلانات اور وعدؤں پر عملدرآمدکرانے کے سلسلے میں ابھی سے ہی ایک مربوط فالواپ کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ وہ اس لئے کہ اس طرح کے وعدے اس سے قبل بہت سے سیاستدانوں نے کئے مگروہ عہدوفا نہ ہوسکے۔ اسی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ہی چندبرس قبل سکردو کے دورے کے موقع پر شہید بینظیربھٹو یونیورسٹی کے قیام سمیت متعدد اعلانات کئے تھے، اسی جماعت کے سابق وزراء اعظم یوسف رضاگیلانی اور راجہ پرویزاشرف نے بھی اپنے اعلانات کے ذریعے خطے کے عوام کو سبزباغ دکھادیئے مگر عملی طورپر کوئی کام ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ چنانچہ امجد ایڈووکیٹ صاحب کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کا مستقبل کا تعین کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

بہرحال شہید بی بی کا بیٹا پہلی بار گلگت بلتستان آگیا اور چھا کرچلا گیا ۔ اس کامیاب دورے کے انتظامات اور بہترین نظم وضبط کے ساتھ ان کی سیاسی سرگرمیوں کے انعقادپر پارٹی کے صوبائی صدرامجد حسین ایڈووکیٹ اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments