پہاڑوں سے ایوانوں تک

تحریر : دردانہ شیر

سی پیک کی تعمیر سے جہاں ہمارا ملک ترقی کے ایک نئے دور میں شامل ہوگا تو وہاں ہمارے ہمسایہ ملک مختلف طریقوں سے اس تاریخ ساز منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش رہا ہے اور دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان ترقی نہ کریں مگر ان کے ناپاک عزائم ملک کے غیور عوام اورپاک فوج نے ہر وقت ناکام بنا دئیے ہیں گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں سے سی پیک نے گزرتاہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان سی پیک کا دروزہ ہے اور اس دروازے سے ہوتا ہوا سی پیک کی رسائی پورے دنیا تک ہوگی اور جہاں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا وہاں گلگت بلتستان کا خطہ بھی اس اہم منصوبے سے ترقی کے نئے دور میں شامل ہوگا گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور ہزارہ کے صحافیوں کے ایک وفد نے سی پیک کے حوالے سے اسلام آباد اور روالپنڈی کا پانچ روزہ دورہ کیا جس میں نہ صرف صحافیوں نے انفارمیشن منسٹر فواد چوہدری سے ملاقات کی بلکہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اصف غفور ،کور کمانڈر ٹین کور ، صدراین ڈی یو ڈائریکٹر جنرلز ایف ڈبیلو او ،ایس سی او اور این ایل سی سے بھی تفصیلی ملاقات کی اور سی پیک کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اور پاک ارمی کی طرف ملکی صورت حال اور لائن اف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی اگاہ کیا گیاسی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے نہ صرف چائینہ بلکہ پاکستان دونوں ملکوں کو اس اہم منصوبے کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا دونوں ملکوں کی ضرورت بن گیا ہے اوراس کے اہم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کام تیزی سے جاری ہے جبکہ سی پیک کی تعمیر سے چائینہ اپنی مصنوعات جو پانچ ہفتوں میں دنیا کے مختلف ملکوں میں پہنچاتا تھا اب سی پیک کے راستے یہ مصنوعات صرف دو ہفتوں میں دنیا کے مختلف ممالک پہنچائے گا جس سے ایک طرف چائینہ کا سامان دنیا کے کونے کونے پہنچ جائیگا وہاں پاکستان کے مصنوعات کو بھی چائینہ پہنچانے میں اسانی ہوگی پاکستان ایک ترقی کے نئے دور میں شامل ہورہا ہے اور ملک میں درجنوں کے حساب سے نئے کارخانے لگ جائینگے اس کے علاوہ چائینہ کی حکومت نے بھی بڑی تعداد میں کارخانے پاکستان میں لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ پاکستان میں لوگوں کو روزگار مل سکے اور ہزاروں کی تعدادمیں بیروزگاروں برسرروزگار ہو بس ہمارے دشمن ملک کو یہ چیز پسند نہیں ہے اور وہ کسی بھی طریقے سے اس اہم منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اپنی ناکام کوششوں میں مصروف ہے مگر اس کو پتہ ہے ہر پاکستانی ان ناپاک عزائم خاک میں ملا دے گا مگر اس کے باوجود یہ اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آتاسی پیک پاکستان کے عوام کو ایک نئی خوشحالی لیکر آرہا ہے اور اس اہم منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار اداکرنا ہو گا اور دشمن ملک کی ہر چالوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا اس حوالے سے ہمیں ہر طرف نظر رکھنی ہوگی چونکہ ہمارا یہ دشمن ملک کسی بھی طریقے سے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے چونکہ اب یہ دور ہتیھار استعمال کرنا کا نہیں بلکہ قلم استعمال کرنے کا ہے اور اگر اب کوئی بھی ملک نے اگر جنگ جیتنا ہے تو وہ میڈیا کے ذرئیے ہی جنگ جیت سکتا ہے گلگت بلتستان ،ازاد کشمیر اور ہزارہ کے صحافیوں کو نشنیل ڈیفنس یونیورسٹی میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی اور سی پیک کے حوالے سے ملک میں ہونے والے اثرات کے حوالے سے بھی بتایا گیا چائینہ کی طرف سے پچاس ارب ڈالر کی سامایہ کاری کر رہا ہے جو ملک کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے اور اس حوالے سے اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائد ہ پاکستان کو ہوگا صحافیوں نے کمانڈر ٹین کور سے بھی ملاقات کی اور ان سے سولات کئے جس کا انھوں نے تفصیل سے جوابات دئیے اس کے علاوہ ترجمان پاک ارمی میجر جنرل اصف غٖفور نے بھی صحافیوں مختلف سولات کا تفصیل سے جواب دیا جبکہ ڈائریکٹر جنرلز ایف ڈبیلو او ،ایس سی او ،این ایل سی سے بھی ملاقات کی اور آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور ہزارہ سے آئیے ہوئے صحافیوں نے اپنے اپنے علاقوں کی بہتر انداز میں نمائندگی کرتے ہوئے اپنے علاقے کے مسائل سے اگا ہ کیا پاک ارمی کے شعبہ ایم آئی کی طرف سے اس دورے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں نہ صرف یہاں کے صحافیوں نے اعلی عسکری حکام سے تفصیلی ملاقات کی بلکہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری سامنے بھی اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے انھیں اگاہ کیا وفاقی وزیر اطلاعات نے گلگت بلتستان کے صحافیوں کی طرف سے دورہ گلگت بلتستان کا دورہ وزیر اطلاعات نے قبول کیا اور بہت جلد گلگت بلتستان کا دورہ کرنا یقین دہانی کروائی اس کے علاوہ یہاں کے صحافیوں کو پاک ارمی نے ارمی میوزئم کا بھی دورہ کرایا جہاں پر ملک کے سپوتوں کی طرف سے ملک کی گلشن کی ابیاری کے لئے کئے جانے والی لازول دستانوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور ہزارہ کے صحافیوں نے اس دورے سے بہت کچھ سیکھا اور یہ یہاں کے صحافیوں کے لئے ایک بہت ہی کا میاب دورہ ثابت ہوا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments