آئینی حقوق کے معاملے پر گلگت بلتستان میں لوگوں کی رائے منقسم

یاسین (تجزیاتی رپورٹ معراج علی عباسی ) گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کے مئسلہ پر خطے کے عوام ایک رائے پر متفق نظرنہیں آتے گلگتی قوم آئینی حقوق کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں ۔جب تک گلگت بلتستان کے عوام ایک نکتے پر متفق نہیں ہوں گے گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کا مسلہ حل نہیں ہوگا۔اس وقت گلگت بلتستان کے اندار موجودمختلف سیاسی ،مذہبی اور سول سوسائٹی کے لوگوں کے جانب سے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے مختلف آراء سامنے آرہے ہیں ۔بعض حلقے مکمل آئینی حقوق چاہتے ہیں ۔بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ آذاد کشمیرطرز کی سیٹ اپ دیا جائے ۔جبکہ ایک حلقے کا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو الگ حثیت دی جائے ۔اس مبہم صورت حال میں گلگت بلتستان کے ارباب اقتدار سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو حقوق کے حوالے سے تمام ترسیاسی ،مذہبی ،لسانی اور علاقائی مصلحتوں سے بالاترہوکر ایک نقطے پر قوم کو متفق ہونا ھوگا۔گلگت بلتستان کا مسلہ ملکی یا علاقائی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک انٹرنیشنل مسلہ ہے۔گلگت بلتستان تنازء کشمیرکے تیسرئے فریق کے طور پر یواین او کے پاس موجود ہے ۔گلگت بلتستان کے آئینی مسلہ کا حال حکومت پاکستان یا کسی وفاقی سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا واحدحل گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کے اختیار میں ہیں ۔ہمیں خطے کو آئینی محرمی سے نکلنے کے لیے ایک نکتے پر متفق ہوکراپنے فیصلے کو حکومت پاکستان کے زریعے یواین او کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments