میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔  گازیکی میکی بونی ایک سدا بہار انسان تھے ،  داغ مفارقت دے گئے

تحریر : شمس الحق قمر  بونی

میر صفدر بابا ( مرحوم ) معروف بہ اسمِ گازیکی لال بونی گول چترال کی مشہو شخصیات میں گنے جاتے تھے ۔ عجیب طبیعت کے مالک تھے ۔ جیب میں ایک پائی نہیں ہوتی تھی لیکن اُن کے گزرِ اوقات  پر بادشاہوں کا گمان گزرتا ۔ مرنج و مرجان شخصیت ، اُن کی خوشگوار مسکراہٹوں سے مسرتوں کی لب ریز لہریں پھوٹتیں اور اُن کی دونوں خم دارمثلِ کمان آبرو ں کے سنگم سےہم کنار ہوکر منتشر ہوجایا کرتی تھیں ۔ مجھے اُن کی مستی کے دن  یاد نہیں کیوں کہ میرے اور اُن کے بیچ چالیس سالوں کا فاصلہ حائل ہے لیکن تعلق اور گفتگو میں بے تکلفی اتنی تھی کہ جیسے ہم لنگوٹیا یار ہوں یہی وجہ تھی کہ آپ کے لئے چھوٹے سے لیکر بڑے تک سب کے دل میں  بے پناہ محبت اور جگہ تھی ۔ میں نے ان کی جوانی کے بارے میں بونی کی مشہور شخصیت اور گازیکی میکی کے ہم رکاب و ہم مشرب عبد الحکیم بابا سے استفسار کیا تو انہوں نے  گازیکی کے عہد عفوان شباب کے حوالے سے بڑی  دلچسپ بات کی “گازیکی کے جسمانی خطوط حیرت انگیز طور پر متناسب تھے یہی وجہ تھی کہ جب  اکڑ اکڑ  کے چلتے تو ہر آدمی کی نظر اُ ن کی طرف پلٹ جاتی۔  دوشیزائیں اپنی چار دیواریوں کے اوپر سے جھانک  جھانک کے اُنہیں دیکھا کرتیں ۔ اس بات کی دو بڑی وجوہات تھیں پہلی وجہ  اُن کے عضلاتی نظام میں ایک فطری کشش تھی ۔ ترو تازہ بدن جس پر مضبوط پٹھے، ابھرا ہوا سینہ ، ہردم بھرے بھے گال اور کشادہ ماتھے کے علاوہ خاص نکتہ یہ تھا کہ اور اہم نکتہ یہ تھا کہ نوجوان  اپنے زمانے کے مروجہ تعلیم کے زیور سے  مکمل طورپر آراستہ تھے۔

فارسی کی پہلی کتاب جسے فارسی قاعدہ کے نام سے جانا جاتا تھا ، منچی معروف بہ اسم ویرکوپی استاد  بونی ٹٰک لشٹ سے پڑھا (یاد رہے کہ منچی در اصل لفظ منشی کی بگڑی صورت ہے۔ لفظ ” منشی ” اُس زمانے میں پڑھے لکھوں کے لئے مستعمل تھا ۔ “منچی “یا “ویرکوپی استاد”، محترم عبد الرحیم المعروف بابو عبد الرحیم کے قبلہ گاہ تھے ۔آج  سے تقریباً ایک سو سال پہلے بالائی چترال میں گنے چنے منچی رہا کرتے تھے جو کہ فارسی کے ساتھ تھوڑی بہت اُردو بھی جانتے  تھے “ویرکوپی استاد ” اُن میں سے ایک تھے  )۔  بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گازیکی میکی ( مرحوم ) نے  تلاش معاش میں شروع کی ۔ اُس زمانے میں چترال میں ملازمت  کے صرف دو ہی ذرائع تھے ایک سرکاری گودام میں کلرکی اور دوسرا چترال سکاوٹ ۔ چترال کے اندر اُس زمانے میں  جتنے بھی گرین گودام تھے وہاں کوئی پوست خالی نہیں تھی لہذا گازیکی میکی نے چترال سکاوٹ کا رخ کیا  اور بروزِ بدھ ، 16 اکتوبر، 1946  کو چترال سکاوٹ میں بھر تی ہوئے اُس وقت تعلیم یافتہ ریکروٹس کو وائر لس چلانےکے لئے رکھا جاتا تھا یوں گازیکی میکی کو سگنل میں جگہ ملی۔ اُس وقت سپاہی کی تنخواہ مبلع 8 روپے ہوا کرتی تھی اور تعلیم یافتہ  اور قابل سپاہیوں کو سگنل میں ملازمت ملتی  وائرلس چلانے کا کام تفویض ہوتا  اور یہ خاص لوگ  10 روپے اضافی تنخواہ کے حقدار ہوتے تھے لہذا گازیکی میکی کی مجموعی تنخواہ مبلغ 18 روپے ماہانہ مقرر ہو گئی  جو کہ بہت بڑی رقم تھی۔ گازیکی میکی کہا کرتے تھے کہ جب وہ سکاوٹ میں بھر تی ہوئے تو اُن کی عمر16 سال تھی اس حساب سے ان کی پیدائش سن 1930 بنتی ہے ۔ 22 اکتوبر 1961 کو اپنی ملازمت کی  14 سال11 مہینے 3 ہفتے اور 5  دن مکمل کر کے سبکدوش ہوئے تو آخری مہینے کی تنخواہ 37 روپے تھی ۔ اور مبلع 8 روپے پنشن ملنی شروع ہوئی جو کہ بڑھتے بڑھتے اگست 2018 تک مبلغ  15850 ہو گئی تھی ۔ یوں  گازیکی میکی زندگی کی 89 بہاروں کا لطف اُٹھانے کے بعد راہی عدم ہوئے ۔ گازیکی میکی ایک زندہ دل انسان تھے ۔ اُن کی دوستی سب کے لئے یکساں تھی ۔ ہر ملنے والے کو اپنے خشگوار طرز تکلم کا اسیر بناتے ۔

              اسد اللہ خان غالبؔ اور گازیکی میکی میں قدر مشترک یہ تھی  کہ دونوں زندگی کےحقیقی  فلسفے کو سمجھتے تھے ۔ ؎ زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں ۔ گازیکی میکی نے اسی فلسفے کے تحت زندگی گزاری  دنیا کے حالات پلٹے رہے ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ پنشن کے وقت جمع پونجی صرف ایک سو رویہ تھی قرض اتارنے کے بعد جیب میں صرف دو روپے رہ گئے تو خالی ہاتھ گھر کو سدھارے لیکن اپنی محنت جاری رکھی اور ایک زمانہ ایس  بھی آیا کہ گازیکی میکی کی بہت بڑی دکان چل پڑی اور جیب گاڑی صحن میں کھڑی ہوگئی۔ زمانے کے ہزار رنگ بدلا  لیکن گازیکی کی طبیعت کی رنگینی کبھی نہیں بدلی۔  اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت فردوس میں جگہ عطا فرمائے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments