حکومت چین کا جی بی کے لئیے چھ اہم منصوبوں کی منظوری

تحریر: دردانہ شیر

اس سے قبل بھی سی پیک کے حوالے سے راقم نے اپنے کئی کالمز میں گلگت چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کرنے کی قارئین کو نوید سنائی تھی مگر اس حوالے سے کئی بار میرے دوستوں نے میری اس بات کو دیوانے کا خواب کہہ دیا اور کئی دوستوں نے تو یہاں تک کہا کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو کچھ نہیں ملنے والا ہے اور ہم صرف دھواں کھالینگے مگر راقم نے اپنے ان دوستوں کی باتوں سے اتفاق نہیں کیا۔ چونکہ میرا موقف تھا کہ سی پیک گلگت بلتستان کا دروازہ ہے اور اس دروازے سے گزر کر ہی سی پیک نے گزرنا ہے اور سی پیک سے سب سے زیادہ فائدہ گلگت بلتستان کو حاصل ہو گا۔

سی پیک کے حوالے سے گزشتہ دنوں بیجنگ( چین )میں جوائنٹ کوآرڈینشن کمیٹی کے اٹھویں اجلاس ہوا جسمیں گلگت بلتستان کے چھ منصوبوں کی منظوری سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گلگت بلتستان کو بھی سی پیک سے ملک کے دوسرے صوبوں کے برابر فائدہ حاصل ہوگا۔ خطے کے ان چھ منصوبوں کے لئے چین کی حکومت نے تین سو ملین ڈالرز کی منظوری بھی دیدی ہے۔ ان چھ منصوبوں میں گلگت چترال روڈ ،پھنڈر میں اسی میگاواٹ پاور پراجیکٹ گلگت چلمس داس میں ایک سو میگاواٹ کا پاور پراجیکٹ کے علاوہ اکنامک زون ،انڈسٹریل زون جیسے اہم منصوبے شامل ہے۔

راقم نے اس قبل بھی اپنے کالمز میں گلگت چترال روڈ کی اہمیت کے حوالے سے اپنے قارئین کو اگاہ کیا تھا کہ اس شاہراہ کی تعمیر وقت کی ضرورت بن گئی ہے اگر شاہراہ قراقرم بلاک ہوجائے تو یہ شاہراہ متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا اس کے علاوہ سیاحت کے حوالے سے بھی اس شاہراہ کی تعمیر ضروری ہے چونکہ گلگت بلتستان میں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس جنت نظیر خطے کا رخ کرتے ہیں اب تو دنیا میں گلگت بلتستان کائنات کے خوبصورت ترین خطوں میں شامل ہوگیا ہے اور امریکہ کے ایک رسالے نے اس خطے کو سیاحت کے حوالے سے دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک علاقہ قرار دیا ہے۔ اگر گلگت چترال روڈ بن جائے تو سیاح شاہراہ قراقرم کے راستے گلگت بلتستان آئینگے اور گلگت چترال روڈ سے ہوتے ہوئے کے پی کے کا سیر کرکے واپس اسلام آباد پہنچ جائینگے۔ اس اہم شاہراہ کی تعمیر سے یہ خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

اس کے علاوہ اس وقت گلگت بلتستان میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے یہاں کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ علاقے میں بجلی گھروں کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے گئے اور درجنوں بجلی گھر بنے مگر پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام عذاب سے گزر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے کسی بھی دریا میں ایک چھوٹا سا ڈیم بناکر اس سے بجلی فراہم کی جاتی تو آج عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے کم ازکم چھٹکارہ حاصل ہوتا مگر وقت کے حکمرانوں نے ایسا کیوں نہیں سوچا اس کا جواب تو وہ لوگ ہی بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں۔ اب چین کی حکومت نے گلگت بلتستان میں ایک سو اسی میگاواٹ کے دو پاور پراجیکٹس کی تعمیر کی نہ صرف منظوری دی بلکہ فنڈز بھی مختص کر دئیے گئے ہیں۔ جس کی تعمیر سے خطے کے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارہ مل جائیگا۔

سی پیک میں گلگت بلتستان کے اہم منصوبوں کو شامل کرنے کے حوالے سے نوید ایک سال قبل سنائی گئی تھی اب ان پر عملی طور پر کام بھی شروع ہورہا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان سی پیک کا دروزہ ہے اور سی پیک نے اسی دروزے سے گزرنا ہے۔

پاک چین اکنامک کوریڈور سے اگر اس وقت کسی کو تکلیف ہورہا ہے تو وہ ہے بھارت جو نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرسکے کیونکہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں نہ صرف خوشحالی آئیگی بلکہ پاکستان ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل جائے گا۔ اس لئے بھارتی میڈیا من گھڑٹ خبریں جوڑ کر ہمارے ملک کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ خصوصا گلگت بلتستان کی ترقی تو اس کو ہضم ہی نہیں ہوتی حالانکہ سی پیک میں جہاں ملک کے دیگر چاروں صوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے وہاں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ترقی کا انقلاب آئے گا اور گلگت بلتستان کی اہم شاہراہیں بھی سی پیک میں شامل کر دئیے گئے ہیں اس کے علاوہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے گلگت اور غذر میں دو سو میگاواٹ کے قریب بجلی کے منصوبوں کی تعمیر بھی عنقریب شروع ہوگی جس سے گلگت بلتستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

گلگت بلتستان کے اہم منصوبوں میں سب سے اہم منصوبہ گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا ہے اس روڈ کی تعمیر وقت کی ضرورت بن گئی ہے اس روڈ کی تعمیر بہت جلد شروع ہونے والی ہے اور اس اہم شاہراہ کو آل ویدر بنانے کے لئے شندور میں پندرہ کلومیٹر ٹنل بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ ہر موسم میں اس روڈ کو ٹریفک کے لئے بحال کیا جاسکے۔

سی پیک میں پچاس ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری ہورہی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے اس اہم منصوبے پر کام زور شور سے جاری ہے۔ چائنہ کی حکومت نے تاشقرغن سے کاشغر تک کی اہم شاہراہ کو مکمل کر دیا ہے اور تاشقرغن میں تعمیر ہونے والا ائر پورٹ پر کام بھی تیزی سے جاری ہے کسی وقت تاشقرغن سے کاشغر تک آٹھ گھنٹے کی مسافت تھی اب دو گھنٹے کی مسافت رہ گئی ہے۔

اس طرح بہت جلد بابوسر ٹینل کی تعمیر بھی شروع ہوگی اگر یہ اہم منصوبہ مکمل ہوا تو گلگت سے روالپنڈی کی مسافت صرف چھ سے سات گھنٹے رہ جائیگی اور گلگت بلتستان کا یہ خطہ ترقی کے ایک اہم دور میں شامل ہوگا اور ہماراہمسایہ ملک بھارت کو کسی بھی صورت میں یہاں کی ترقی پسند نہیں۔ اس لئے وہ اس اہم منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے جو ناکام کوششیں کر رہا ہے ان سے یہ ناپاک عزائم کبھی شرمندہ تعبیر ثابت نہیں ہونگے۔ چونکہ اتنا بڑا منصوبہ بھارت کو ہضم نہیں ہورہا ہے۔ اس دشمن ملک کے غلط عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ چونکہ اب ہمارا یہ دشمن ملک افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے بھی ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریگا اس حوالے سے گلگت بلتستان خصو صا غذرکے بارڈرز کی سخت نگرانی اور بارڈر پر سیکورٹی مزید سخت کرنی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments