سوشل میڈیا، نجی زندگی اور اخلاقیات کا جنازہ 

شاہ عالم علیمی
ایسا نہیں ہے کہ فیس بک کو اپنا گھر سمجھے اور اپنی خاندانی اخلاقیات یہاں بھی لائے۔
فیس بک پر خواتین کا اتنا احترام کرو کہ تمہاری ماں بہن بیٹی بیوی بھتیجی نواسی یا کسی اور رشتے وغیرہ کے لیے بھی مناسب جگہ باقی بچ جائے۔ کوئی لڑکی یا خاتون فیس بک پر اس لیے نہیں ہے کہ اپ اس کو ہیلو ہائے ہاؤ آر یو کیسی ہے یہاں تک کہ اپ اس کو کیسی ہے سسٹر بھی نہیں کہہ سکتے ہیں، کیوں! کیوں کہ وہی لڑکی اگر اپ کو راستے میں ملے تو اپ اس کو اس طرح مخاطب کرنا چھوڑیں آنکھ اٹھا کر دیکھنے  کی ہمت بھی نہیں کرتے جس طرح فیس بک پر کرتے ہیں۔
اگر کوئی لڑکی آزادی کے ساتھ اپنی مناسب تصویر فیس بک پر نہیں لگا سکتی تو یہ ہمارے معاشرے کی مجموعی بے غیرتی کا کھلا ثبوت ہے۔ فیس بک استعمال کرنے سے پہلے اس کے قوائد و ضوابط بھی پڑھنا لینا چاہیے جو کہ آجکل اردو زبان میں بھی بترجمہ موجود ہیں۔
یوں تو یہ  معاشرہ پورا کا پورا زہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی خاتون کہیں سے گزرتی ہے تو سارا بازار اس کو اس وقت تک دیکھتا رہتا ہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو۔ لیکن سوشیل میڈیا خاص کر فیس بک کوئی بازار نہیں ہے بلکہ قوائد و ضوابط کے تحت چلنے والی ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔ جس پر ایک سے زائد اور اپ پر اس کے درجن سے زائد قوانین نافذ ہیں۔ انسانیت اور اخلاقیات ایک طرف آئینی اور فوجداری اور کریمنل قوانین بھی موجود ہے۔ مہذب قوموں کے ہاں زاتی پرائیویسی کی بڑی اہمیت ہے اور وہ اس کا بہت احترام کرتے ہیں مہذب انسان کسی کے پاس آرام کرنے کے لیے بیٹھنے سے پہلے پوچھ لیتا ہے کہ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ جبکہ ہمارے یہاں گھسنے والا معاملہ ہے۔
فیس بک کے اخلاقی اور قانونی قوائد ضوابط اب اردو زبان میں بھی دستیاب ہے بندے کو فیس بک استعمال کرنے سے پہلے ان کو بخور پڑھنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ فیس بک کو اپنا گھر سمجھے اور اپنی خاندانی اخلاقیات یہاں بھی لائے۔
میں عموماً سفر کرتے ہوئے اس بات کا مشاہدہ کرتا ہوں۔ اس دن پنڈی سے اسلام اباد آتے ہوئے ایک کوسٹر میں ایک باریش اچھا خاصا عمر رسیدہ ادمی جان بوجھ کر خواتین کے سیکشن میں بیٹھا ہے اور ان کا راستہ بھی بلاک کر رکھا ہے۔ خواتین نیچے اترنے لگی ہیں لیکن وہ شخص بڑی شرمی اور بے حیائی کے ساتھ اپنی جگہ سے ہلتا بھی نہیں ہے۔ یہ ایک مثال ہے۔ اور وہ سب لوگ جو فیس بک پر خواتین کی پرائیویسی کو پائمال کرتے ہیں ان کی مثال اس شخص جیسی ہی ہے۔ یعنی اخلاقیات اور انسانیت سے عاری۔
بے حیائی اور بے شرمی کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کی زاتی زندگی میں گھسنے سے پہلے زرا بھی نہیں سوچتے ہیں کہ اج نہیں تو کل ان کی بھی بہن بیٹی بھابھی وغیرہ اسی جگہ آئیگی اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا اور یہی نہیں اس پر تڑکا اپ کو ان لوگوں کی فیس بک ٹائم لائن لگے گی جہاں اپ کو اخلاقی تعلیمات سے لیکر مذہبی تبلیغ سے لیکر بڑے بڑے فلاسفروں کے اقوال و زرین ملیں گے ایات و احادیث اور شعر شاعری جو اخلاقیات پر لکھے گئے مگر کجا کہ محترم نے ایک منٹ کے لیے بھی ان ہدایات میں سے کسی ایک پر خود عمل کرنے کا سوچا ہو!
سو اگر کوئی لڑکی فیس بک پر موجود ہے تو اس بات کو زہین نشین  کرلیں اور اچھی طرح زہین نشین کرلیں کہ وہ اپ کے ہیلو ہائے سننے کے لیے وہاں موجود نہیں ہے بلکہ وہ فیس بک کے سلوگن “رشتوں اور دوستوں کے آپسی بندھن” کے تحت اپنے گھر والوں رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ منسلک رہنے کے لیے ہے۔
جان گرین نے شاید ہمارے معاشرے کو دیکھ کر ہی کہا تھا کہ “میں ان کالجوں اور سکولوں کو فیس اور ٹیکس کیوں دیتا ہوں حالانکہ نہ میرا بیٹا سکول میں ہے اور نہ میری بیٹی کالج میں ہے، وہ اس لیے کہ میں ایک ایسے معاشرے میں رہ نہیں سکتا جو جاہل اور بے وقوف لوگوں سے بھرا پڑا ہو”۔
ایک اور اہم مسلۂ شریف النفس لوگوں کی زاتی زندگی میں گھسنا ہے میرا یہاں مطلب مرد اور عورت سب کی زاتی زندگی ہے۔ آجکل تقریباً ہر کوئی اپنے ہاں دولت کے لحاظ سے بل گیٹس علم کے لحاظ سے سقراط اور سوشیل سٹیٹس کے لحاظ سے براک ابامہ بنا ہوا ہے ایسے میں چھوٹے بڑے میں تمیز ختم اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑی ہے۔ اپ کسی بھی وقت کہیں بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کوئی کسی کو  خاطر میں نہیں لاتا۔ایسے میں کسی کی پرایئویسی میں گھس کر اخلاقیات سے عاری باتیں کرنا اشاروں کنایئوں میں خود کو سکندر ثابت کرنے کی کوشش کرنا عام سی بات ہوگئی ہے۔ صرف چند سال پہلے ہمیں بڑوں کے ساتھ تمیز سے پیش آنے اور چھوٹوں کے ساتھ رحم دلی سے پیش آنے کی ہدایت کی جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ ہم گھر سے باہر کسی کو بھی بڑے بھائی کہہ کر اب بھی بلاتے ہیں اور چھوٹوں سے بات کرتے ہوئے نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں اور زبان اور الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں یہ ان والدین کی تربیت اور ان محترم اساتذہ کے ڈنڈے کی برکت ہے جو طوطے کی طرح رٹے لگا کر اے بی سی ڈی یاد کروانے کے بجائے پہلے اخلاقیات پر توجہ دیتے تھے۔
کیا کسی کے نجی معاملات میں مداخلت کرنے سے بہتر نہیں ہے کہ اپ سوچے کہ ایا وہ مجھ سے چھوٹا ہے یا بڑا۔ ایا اس کی کوئی عزت نفس ہے یا نہیں ایا اس کا سوشیل سٹیٹس کیا ہے وہ کس طرح دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔ پھر بھی اپ کو اگر اس بات کی کوئی  پرواہ نہیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اپ فیس بک پر موجود اپشن استعمال کرکے خود کو اس سے الگ کرلیں۔
فیس بک کی مثال ایک محفل کی سی ہے کسی محفل میں بندہ عزت اور احترام سے پیش آتا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ محفل میں بندہ اپنے گھر کا ماحول لے ائے اور ایسا رویہ اختیار کریں جو اپنے گھر میں کرتا ہے۔
ہمارے سکولوں اور کالجوں میں انٹرنیٹ کے اس دور کے مطابق اخلاقیات سکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ اخلاقیات سے عاری معاشرے میں رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائیگا۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments