فدا خان کے کرنے کے کام۔۔!

شاہ عالم علیمی

فدا خان گزشتہ انتخابات میں اپنے حلقے غذر ٹو سے آزاد امیدوار کے طور پر اچھےخاصے ووٹ لیکر کامیاب ہوئے پھر انھوں نے اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز  میں شمولیت اختیار کی۔ شروع شروع میں تو ان کو پی ایم ایل این میں شامل ہونے کے باوجود کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ غذر سے اس جماعت میں شامل ہونے والے واحد ایم پی اے تھے اور حکومت سازی میں غذر کے لوگوں کا بھی حق  بنتا تھا تاہم کافی عرصے بعد لوگوں کے دباو پر ان کو وزارت دی گئی۔ لیکن چونکہ پی ایم ایل این کا راویہ غذر کے ساتھ کبھی اچھا نہیں رہا ہے اس لیے یہاں اس جماعت کے دور میں کوئی قابل زکر کام نہیں ہوا۔

فدا خان کو ایم این اے بنے چار سال اور وزیر بنے تقریباً تین سال ہونے کو آرہے ہیں، تاہم انھوں نے اپنے حلقے میں ایک بھی صیح کام شروع نہیں کیا ہے چہ جائیکہ کوئی بڑا منصوبہ۔ اب عوام بھی پوچھنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہر سال ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والے کروڑوں روپے کہاں ہیں۔

بہرحال اب بھی غذر میں سینکڑوں ایسے کام ہیں جو فدا خان کی زمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں اور فدا خان کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وزیر موصوف کیا کیا کرسکتے ہیں؛

 کچھ عرصہ پہلے مجھےاسسٹنٹ کمشنر غذر کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ خود موجود نہیں تھے تاہم انکا سیکریٹری موجود تھا جو کہ ایک نرم گو اور مخلص انسان نظر ایا جس کے اندر غذر کے مقامی ملنساری اور خلوص موجود تھا۔

تاہم اسی افس کے اندر ایک کلرک بھی اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ کالے چشمے عجیب و غریب لباس ہاتھ میں موبائل فون بیٹھنے کا انداز ایسا جیسے کوئی جنگلی جانور ارام فرمارہا ہو۔ اپ جانتے ہیں اس قسم کے لوگ قراقرام یونیورسٹی سے لیکر پاسپورٹ افس گلگت اور یہاں تک کہ ائی جی افس اور دوسری جگہوں میں گلگت بلتستان میں عام پائے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے کالے چشموں سے ایسا تاثر مل رہا تھا جیسے یا تو موصوف نابینا ہے یا کسی سے نظر ملانا نہیں چاہتایا وہ اپنا روپ دوسروں پر جمانا چاہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس پر آخر الذکر ہی سچ آتاہےپھرموصوف کے بات کرنے کے انداز سے جہالت جھلک رہی تھی۔

ایک سال پہلے مجھے کئی لوگوں نے مسیح کیا کہ گوپس نادرا میں ایک لڑکا بیٹھا ہے جو ہر آنے والے کو زلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں۔

مجھے جب پہلی اور اخری بار فدا خان کی باتیں سننے کا موقع ملا تو موصوف بار بار شکایت کررہے تھے کہ لوگ ان کو ڈپٹی کمشنر سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

فدا خان صاب اب دفتروں میں ان جاہلوں کو سیدھا کرنا اپ کا کام ہے۔ جب اپ ان کی خبر نہیں لینگے تو پھر لوگ اپ کو تحصیلدار سے بھی کم سمجھنے لگیں گے۔

تحصیلدار سے یاد ایا گزشتہ کئی مہینوں سے تحصیل پھنڈر میں تحصیلدار تعینات نہیں ہے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے پیسہ اور وقت ضائع کرکے گوپس جانے پر مجبور ہیں۔ ہونہہ فدا صاب!

بجلی کی عدم دستیابی اور لوڈشیڈنگ سے غذر کے لوگوں کا جینا حرام ہوتا ہے۔ غذر میں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور جو موجودہ بجلی گھر ہیں ان کو ہی صیح طریقے سے چلایا جائے تو لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے تاہم انتظامی بدنظمی کی وجہ سے ایسا نہیں ہوپاتا۔ بجلی کے نظام کو ٹھیک کروانا فدا خان کا کام ہے

غذر ایک حسین و جمیل وادی ہے یہ سیاحوں کی جنت ہے۔ یہاں وادی پھنڈر غذر خاص قرمبر جھیل شونجی جھیل شندور وادی پونیال باوشٹر جھیل اور قدیم زمانے کی یادگاریں جیسے بوبر کا ڈمبورا گاہکوچ قلعہ گوپس قلعہ وغیرہ بڑی تعداد میں موجود ہیں فدا خان وزیر سیاحت ہے ان پر سب سے پہلے اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت کرنا فرض ہے۔ غذر میں گزشتہ حکومت نے اہم سیاحتی مراکز قائم کیا تھا تاہم وہ زیادہ فعال نہیں ہیں۔ ان سیاحتی مراکز کو فعال بناکر غذر میں سیاحت کو فروغ دینا فدا خان کا کام ہے تاکہ بے روزگاری میں بھی تھوڑی کمی ہوجائے۔

فدا خان اسلام اباد سرینہ ہوٹل سے بات چیت کرکے وہاں ایک ہال کا نام غذر رکھوا سکتے ہیں جیسے کہ وہاں مختلف ہالوں  کے نام ہنزہ شگر خپلو التت بلتت وغیرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ تاہم غذر جیسے اہم اور خوبصورت علاقے کا کوئی زکر نہیں ہے۔ اگر سرینہ  ہوٹلز غذر کو بھی مناسب جگہ دے دیں تو اس سے غذر میں سیاحت کے فروغ میں بڑی مدد ملے گی۔

گلگت سے جو مسافرگاڑیاں پھنڈر غذر خاص اور بارست تک جاتی ہیں ان کے ڈرائیور حضرات من مانی پیسے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں۔ ایک مسافر سے یہ گلگت سے غذر خاص تک چھ سو روپے فی سواری کھا جاتے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان کے کسی بھی کونے میں اپ جائے تیس کلو سامان یا بیگ مسافر اپنے ساتھ مفت اپنی منزل تک لے جاسکتا ہے۔ تاہم یہی ڈرائیور ادھر کے لوگوں سے دس کلو سامان پر ستر اسی روپے وصول کرتے ہیں جو کہ سراسر ظلم ہے

پچھلے سال میں لاہور سے اسلام اباد,اسلام اباد سے گلگت، گلگت سے گاہکوچ  مختلف گاڑیاں تبدیل کرتے ہوئے ایا سامان کا کوئی چارچ نہیں کیا گیا۔ تاہم توقعات کے عین مطابق گاہکوچ سے میرے گھر غذر خاص تک ایک ڈرائیور نے مجھ سے دو سو چالیس روپے ان بیگوں کا وصول کیا۔ میں نے  احتجاج ضرور کیا لیکن بے سود!اور ستم ظریفی یہ کہ  یہ لوگ پیسے لینے کے بعد اپ کے سامان یا اپ کا اس طرح خیال نہیں رکھتے جیسا ان پر فرض ہے۔

 اپنی مشنری کو حرکت دے کر ان لٹیروں کے پیچھے لگانا فدا خان کا کام ہے۔

 نیٹکو نامی ادارے کا کام گلگت بلتستان کے لوگوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا ہے فدا خان کم از کم ایک منی بس یا ایک ہائیس گاڑی بارست سے گاہکوچ تک تو چلا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی بہانا نہیں نیٹکو کاکام منافع کمانا نہیں لوگوں کو سہولیات دینا ہے۔ اگر اس روٹ پر نیٹکو چلے تو لوگوں کو کم از کم دوسرا اپشن تو ملیگا۔ اور وہ زلیل و رسوا ہونے سے بچ جائینگے۔ اور ڈرائیور راج بھی ختم ہوگا۔

گزشتہ سال اٹھائیس اکتوبر کو غذر سے پنڈی آنے والی بس کا ایکسیڈنٹ ہوا جس میں درجنوں قیمتی جانوں سمیت میرے اپنے پیارے کزن کی موت ہوئی۔ واحد زندہ بچنے والی مسافر کے مطابق منی بس اوور لوڈڈ تھی اور اوور سپیڈ سے چل رہی تھی۔ یہ لوگ منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور صیح طریقے سے گاڑی چلانا نہیں جانتے۔ ٹریفیک قوانین کے الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں۔ ان کا میڈیکل چیک اپ کروانا اور ڈرائیونگ ٹیسٹ کروانا فدا خان کا کام ہے۔

فدا خان نے دو سال پہلے غذر کے اپنے حلقے میں سینکڑوں جگہوں میں لنک روڑ بنانے کے نام پر سینکڑوں  لوگوں کی قیمتی املاک کو اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ نہ تو روڑ مکمل ہوئے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو انکی قیمتی املاک کا معاوضہ compensation ملا ہے۔ ان روڑوں کو وقت پر مکمل کرنا فدا خان کا کام ہے۔

اگرچہ یہ حفیظ  سرکار کی اجتماعی نااہلی ہے کہ پچھلے تین چار سال میں غربت اور بےروزگاری میں ہوشروبا اضافہ ہوا ہے تاہم پولیس میں چند ایک نوکریاں ائی تھیں ان پر غذر کے کوٹے کو جان بوجھ کر کم سے کم رکھا گیا۔ اور جب ہم نے احتجاج کیا تو ایک بھونڈی دلیل دی گئی کہ چونکہ گلگت میں حالات خراب ہوتے ہیں اس لیے غذر کے کوٹے سے گلگت سے لوگ بھرتی کیے جائینگے۔ یہ کوئی بات ہے! ایسے معاملات کو دیکھنا فدا خان کا کام ہے۔

 اور پولیس ٹیسٹنگ کا نظام بالکل غلط اور ظالمانہ ہے۔ مخصوص بااثر خاندانوں کے بچوں کے لیے گویا کوٹہ مقرر ہے حیرت انگیز طور پر ان چند خاندانوں کے بچے ہمیشہ بڑی تعداد میں پولیس میں بھرتی ہوتے ہیں جبکہ بڑے بڑے پڑھے لکھے نواجون پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ کمال کیوں کر ہے یہ ظالمانہ نظام ختم کرنا فدا خان کاکام ہے۔

باقی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ  بڑے بڑے کام اس دور میں غذر میں ہونا کافی مشکل کام ہے کم از کم یہ چھوٹے چھوٹے اور بنیادی کام تو فدا خان صاب کرسکتے ہیں۔

shahalamalimi@yahoo.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments