محکمہ برقیات اشکومن کے مرکز شکایت کی حالت قابلِ رحم، ملازمین حکومتی بے حسی کا شکار

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ محکمہ برقیات کے دفتر شکایات کی عمارت بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگی،دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں،ٹوٹے ہوئے الماریاں ،وائرنگ سے بے نیاز مین بورڈ نے عملے کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں،کئی دہائیوں سے عمارت کی مرمت نہ ہوسکی۔

محکمہ برقیات چٹورکھنڈ کا کمپلین آفس بذات خود ایک ’’کمپلین‘‘ بن کے رہ گیا ہے،دو کمروں پر مشتمل اس عمارت کے ایک کمرے میں بلنگ سیکشن کا عملہ رہتا ہے جبکہ ایک کمرے میں شکایات کا عملہ ،عمارت اپنی طبعی مدت کئی سال قبل پوری کرچکی ہے لیکن اب تک مرمت کی نوبت نہ آسکی جس سے یہاں کے مکینوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں،عمارت کی شکستہ دیواریں ،ٹوٹی کھڑکیاں اور الماریاں اور اجڑا ہوا بجلی کا مین بورڈ محکمے کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں،دیواریں سالوں سے سفیدی کو ترس رہی ہیں ،عملے کے پاس ضروری اوزار بھی موجود نہیں ۔برگل پاور ہاؤس کے لگ بھگ 1200صارفین بجلی شکایات کے سلسلے میں یہاں آتے ہیں تو ’’آفس ‘‘ کی شکستہ حالت دیکھ کر دل شکستہ ہوکر واپس چلے جاتے ہیں ۔شاید یہ ملک کا واحد کمپلین آفس ہے جہاں ٹیلی فون کی سہولت بھی دستیاب نہیں ۔کچھ عرصہ قبل اس عمارت کی ازسر نو تعمیر کے حوالے سے باتیں سننے میں آرہی تھیں لیکن بعد میں خاموشی چھا گئی،محکمہ برقیات کے اعلیٰ حکام سے توجہ کی اپیل کی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments