گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا مسلۂ 

شاہ عالم علیمی

نومبر دو ہزار اٹھارہ کے شروع میں خبروں کی شہہ سرخیوں میں یہ اعلان پڑھنے کو ملا کہ پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنارہا ہے جس پر بڑا شور شرابہ ہوا۔ ہم نے خود سے پوچھا کہ یہ ناممکن کام کیسے ہوسکتا ہے تاہم  نومبر کے جاتے جاتے یعنی انتیس نومبر کو اس اعلان سے یو ٹرن لیا گیا  اور ایک اور اعلان سامنے ایا کہ پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی عبوری صوبہ بنارہا ہے وزیر اعظم نے سفارشات کی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ سپریم کورٹ اف پاکستان کے 1999 کے فیصلے اور سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات اور اٹارنی جنرل کے تجاویز پر کیا گیا۔ تاہم اب اس عجیب و غریب صوبے یعنی عبوری آئینی صوبے کے اعلان سے بھی یوٹرن لیکر سپریم کورٹ نے ایک اور اعلان کیا ہے کہ  گلگت بلتستان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دے دئیے جائیں اور ساتھ ہی سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس جناب میاں  ثاقب نثار نے یہ بھی کہا ہے کہ گلگت بلتستانیوں کو جو بھی دیا جائے وہ اس پر خوش ہوجائے۔

اوّل تو یہ کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کا اعلان بڑا خوش آئیند ہے گلگت بلتستانی بھی یہی چاہتے ہیں تاہم ساتھ ہی ‘جو بھی ملے’  اس پر خوش ہونے کی شرط عائید کرنا اس بات کو  بڑا مشکوک بنارہا ہے کہ ایا پاکستانی حکمران اور مقتتدر حلقے گلگت بلتستان کو اختیارات دینے کے حوالے سے سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں۔ گلگت بلتستانی لالی پاپ نہیں اپنے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔ گلگت بلتستان مسلۂ کشمیر کا چوتھا فریق ہے اپ نے کشمیریوں کو شروع دن سے آئینی سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق دے رکھے ہیں جبکہ اسی مسلے کے ایک اہم فریق کو تہتر سال سے قربانی کا بکرا بنا رکھے ہیں۔ اپ جی بی کو پنجاب اور سندھ کی طرح آئینی صوبہ نہیں بناسکتے ہیں یہ بات خود گلگت بلتستانی بھی کررہے ہیں تاہم اپ گلگت بلتستان کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دے سکتے ہیں۔یا اپ سیٹ اپ کا جو بھی نام دے دیں لیکن گلگت بلتستان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دے دیں۔ گلگت بلتستان کو اتنا بااختیار ہونا چاہئے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرسکے۔ اپنے قوانین بنا سکیں ان کو اپنے ریسورسز کو استعمال کرنے ٹیکس جمع کرنے اور اس کو استعمال کرنے کا اختیار ہو۔ گلگت بلتستان اس قابل ہو کہ وہ باہر سے انویسٹمنٹ لاسکے اور مقامی ابادی کو روزگار ملے۔ گلگت بلتستان کو اس کی شناخت ملے گلگت بلتستانیوں کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ختم کردیا جائے یا کم از کم گلگت بلتستان کو اس سے الگ کردیا جائے اس کے تمام اختیارات گلگت بلتستان کے لوگوں کے پاس ہونا چاہئے۔

پاکستان کے سپریم کورٹ سمیت پاکستان کے حکمرانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے گلگت بلتستان کے مسلے کو سنجیدگی سے نہ لینے اور کچھ بھی ملنے پر خوش ہونے کی ہدایات دینے سے گلگت بلتستان کے لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور گلگت بلتستان کے جوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ پاکستان کو گلگت بلتستان کے آئینی مسلے کو نہ صرف جلد از جلد حل کرنا چاہئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے تہتر سال کے محرومیوں کا ازالہ بھی کرنا چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ اس بار پاکستان کے مقتتدر حلقے گلگت بلتستانیوں کو 2009 کا پیکیچ یا 2018 والا لالی پاپ دیکر اس پر خوش ہونے کی ہدایت نہیں کرینگے بلکہ گلگت بلتستان کو اس کے جائز حقوق دیے جائینگے اور ساتھ ہی آزادی سے لیکر  اب تک کے محرومیوں کا ازالہ بھی کرینگے۔

shahalamalimi@yahoo.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments