نام میں آخر کیا رکھا ہے!

شاہ عالم علیمی
شمالی کوریا کے باشندوں کا ایمان ہے کہ ان کا عظیم لیڈر سپریم لیڈر کم جونگ ان Kim Jung Un ان کے عظیم ملک کے ایک مقدس حصے کے ایک مقدس مکان میں پیدا ہوئے۔ اس جگہے اور اس علاقے کو مقدس سمجھ کر سینکڑوں لوگ یہاں اپنے سپریم لیڈر کی جائے پیدائش دیکھنے آتے ہیں ان لوگوں کا یعنی شمالی کوریائی باشندوں کا پختہ یقین ہے کہ ان کا لیڈر یہی پیدا ہوا اور جس دن وہ پیدا ہورہے تھے اس دن کالے بادل چھائے ہوئے تھے بجلی کڑک رہی تھی ایک عجیب و غریب سماں تھا____ یہ بات الگ ہے کہ کم جونگ ان حقیقت میں روس کے ایک ہسپتال میں پیدا ہوا تھا۔
اس دن  ہٹلر سے منسوب ایک قول نظر سے گزری جس میں لکھا تھا  کہ تم درسی کتب کو میرے قبضے میں دے دو اور میں ایک پوری قوم کو قابو کرونگا۔ کیا خوب کہا ہے۔ شمالی کوریا کے باشندوں کا دماغ اور ان کی سوچ بھی ان کے عظیم اور سپریم لیڈر کے قبضے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا سپریم لیڈر ایک لیڈر ایک صدر ایک سیاسی راہنما ہی نہیں بلکہ یونانیوں کے خدا زیوس  کی طرح ایک خدا ہے جس کی  چاہتے ہوئے بھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی جانتے ہوئے بھی اور نہ جانتے ہوئے بھی لوگ پوجا کرتے ہیں۔
بقول نوم چومسکی “لوگوں کے دماغ کو قابو میں رکھنے اور ان کی سوچ کو جامد رکھنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپ قابل قبول رائے کی سطح کو کم سے کم رکھیں لیکن اسی سطح پر ایک زبردست بحث و مباحثہ ہونے دیں”۔
یعنی اپ لوگوں کو یہ بحث کرنے دیں کہ آلو گول ہے مخروطی ہے ٹیڑھا ہے سیدھا ہے یا کسی اور شکل کا ہے لیکن ان کو یہ سوچنے نہ دیں کہ اس آلو کو کھانے کا حق ہمارا بھی ہے۔
مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اٹھ سو کے قریب خاندانوں نے بائیس کروڑ انسانوں کو تہتر  سال سے اس بحث میں لگا رکھا ہے اور یہ ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں کہ آلو کی شکل کیا ہے ہیبت کیا کیمیکل کمپوزیشن کیا ہے جبکہ یہ خاندان آپس میں بیٹھ کر آرام کیساتھ آلو کے پراٹھے آلو کی بریانی آلو کی مکس سبزی آلو گوشت بنا کر کھارہے ہیں۔ اور یہ تعلیم پر ان مافیاز کے قبضے کا براہ راست نتیجہ ہے۔
اسلام کے نام پر بنے ریاست میں اسی اسلام کو استعمال کرکے ایک معمولی اقلیت نے کروڑوں انسانوں کو غلام بنارکھا ہے۔ فوج کے اعلی عہدیں ہوں یا سیاست ہو بیوریوکریسی ہو یا معشیت ہو ان چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔
اسلامی جمہوری مملکت میں جو خواب دیکھایا گیا تھا اس میں ہونا تو  یہ چاہیے تھا کہ امیر کا پیٹ بھر جائے تو باقی غریبوں میں تقسیم کردیا جائے لیکن یہاں شریفوں زرداریوں ترینوں خانوں اور چوہدریوں کا پیٹ ہے کہ بھرتا ہی نہیں۔ وہ جو ایک صبح کا ناشتہ کرتے ہیں اس کے برابر غریب محنتی چار  مہینے خون پسینہ ایک کرکے بھی نہیں کماسکتا۔
کیا ایسے نظام میں ملک کے ساتھ ‘اسلامی’ کا لاحقہ لگانا ضروری ہے جس میں ملا بھی  امیر کی زبان بن جائے! جس میں غریب کے بچے کے لیے مدرسہ جبکہ امیر کے بچے کے لیے بیکن ہاوس اور ایچی سن سکول ہوں! جہاں حکمرانی کرنے کے لیے امیر کو تربیت جبکہ اچھے ریا بننے کے لیے غریب کو نصیحت دی جاتی ہو! جہاں نوے فیصد دولت چند لوگوں کے پاس جبکہ نوے فیصد لوگ غربت کی زندگی جی رہے ہوں! جہاں نوے فیصد زمینوں پر چند خاندان کا قبضہ ہو اور وہ غریب اکثریت کو اکیسویں صدی میں بھی غلاموں کی طرح کھیتوں میں استعمال کرتے ہوں! جہاں ہزاروں بچے خوراک کی کمی اور گندے پانی پینے سے روز اجل کے منہ میں جاتے ہوں جبکہ امیر کا بچہ کوالٹی کا منرل واٹر پیتا ہو! جہاں غریب کے بچے کو جنت کی لالچ دیکر ‘جہاد’ کے لیے استعمال کیا جاتا ہو جبکہ امیر کا بچہ یورپ اور امریکہ میں عیش و عشرت کی زندگی انجوائے کررہا ہو!جہاں بم بلاسٹ میں ہر لاش غریب کے گھر کی طرف جاتی ہو اور  امیر اے سی لگے لانچ میں ٹی وی پر آہ و سسکیوں کو دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہ ہوتا ہو! جہاں غریب کا بچہ خون کی کمائی سے اعلی تعلیم حاصل کرکے بھی بےروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کرتا ہو جبکہ امیر کا بچہ میٹرک پاس کرکے حکمران بن سکتا ہو! جہاں غریب کے کینسر کا علاج فٹ ہاتھ میں بیٹھے حاکم کررہاہو جبکہ امیر کے سر درد کا علاج برطانیہ کے ہسپتالوں میں ہوتا ہو!
نام میں آخر کیا رکھا ہے بس پاکستان ہی رکھ دیں تاکہ غریب کم از کم بےوقوف تو نہ بنیں!
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments