وزیر اعظم سے وزیر اعلی کی ملاقات کے احوال

تبدیلی دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی ،عوام چاہتے تھے کہ مثبت تبدیلی آئے لیکن تبدیلی آئی منفی ،۔۔۔وہ بھی ایسی کہ عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے والی،،،مرکز میں جب تک پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت تھی گلگت بلتستان میں ترقی کا پہیہ رواں تھا لیکن جیسے ہی تبدیلی سرکارآئی گلگت بلتستان کی ترقی کے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ،سب سے پہلے بجٹ پر کٹ لگا دیا گیا اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے دئے گئے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لئے فنڈ روکا گیا ،تبدیلی سرکار چلی ہے بچت کرنے ،واہ،،،اس تبدیلی کی بچت اس سے زیادہ مختلف نہیں کہ کوئی گھر کا سربراہ گھر میں کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی بند کرے ،جو مکان بن رہا تھا اسے بچت کے نام پر رکوا دے ،بالکل ایسے ہی یہ سرکار بھی بچت کر رہی ہے عوام کے منہ سے نوالہ چھین رہی ہے باقی رہی حکومت کی اپنی عیاشی تو وہ جاری و ساری ہے ،ان مشکل حالات میں اگر خدا نخواستہ کوئی کمزور اعصاب کے وزیر اعلی ہوتے تو ہاتھ کھڑے کر دیتے لیکن آفرین ہو شیر گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو کہ جو ڈٹ کر اور پورے وقار کے ساتھ گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے تبدیلی سرکار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں ،وزیر اعظم عمران خان سے کئی ملاقاتوں میں وزیر اعلی یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ گلگت بلتستان کے بجٹ میں کٹوتی اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لئے فنڈ روکنا کسی بھی طرح درست عمل نہیں ،حالیہ ملاقات میں بھی وزیر اعلی نے وزیر اعظم کو بہت ہی تفصیل سے گلگت بلتستان کے مسائل سے آگاہ کرنے کے بعد کہا کہ اگر مرکز صرف اس لئے گلگت بلتستان کے ساتھ سوتیلا سلوک کرے کہ وہاں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے تو یہ عمل عوام دشمنی کے مترادف ہے ۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں کہا کہ پی ایس ڈی پی منصوبے جو منظور ہوئے ہیں پر فنڈ روکے گئے ہیں ،جو منصوبے منظوری کے لئے ایکنیک کے پاس رکے ہیں ،بجٹ میں کٹوتی ،دیامر بھاشہ ڈیم کے متاثرین کی قربا نیاں اور ان کے مسائل اور گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا وزیر اعلی نے کہا کہ سابقہ حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت جن میگا منصوبوں کی منظوری دی تھی ان کی بدولت گلگت بلتستان میں طویل عرصے سے منجمد ترقی کا عمل رواں ہوا تھا جس وجہ جہاں ایک طرف معاشی ترقی کا سفر جاری تھا وہاں دوسری طرف عوام کا احساس محرومی بھی کم ہورہا تھا ایسے میں مرکز میں تبدیلی سے عوام امید کر رہے تھے کہ نئی حکومت گلگت بلتستان کو پہلے سے بڑہ کر ترقی دے گی نہ صرف جاری منصوبوں پر کام جاری رکھے گی بلکہ نئے منصوبوں کا آغاز کرے گی لیکن نئی حکومت نے آتے ہی گلگت بلتستان میں جاری منصوبوں کے لئے فنڈ روکا جس سے ترقی کا عمل رک چکا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اگر گلگت بلتستان کو نئے منصوبے نہیں دے سکتی ہے تو جن منصوبوں کی سابقہ حکومت نے منظوری دی ہے ان کے لئے فنڈ جاری کر دے ۔وزیر اعلی نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا وہ منصوبے جو منظور ہیں لیکن رواں برس میں فنڈ ریلیز ہونا تھا جو کہ نہیں ہوا ہے وہ فنڈ ریلیز کیا جائے منصوبوں کی تفصیل یہ ہے۔(1۔20میگاواٹ ہینزل،6273.569ملین جس میں رواں برس ملین ملنے تھے جو نہیں ملے ۔(2۔16میگاواٹ نلتر2900ملین جس میں سے 750ملین رواں برس ملین ملنے تھے جو نہیں ملے۔(3۔نلتر ایکسپریس2626ملین جس میں سے300ملین رواں برس ملین ملنے تھے جو نہیں ملے۔(4۔کارڈیک ہسپتال151ملین۔(5۔پولی ٹیکنیکل انسٹیوٹ سکردو 602ملین جس میں 100ن رواں برس ملین ملنے تھے جو نہیں ملے۔34.5.(6میگاواٹ ہرپو بلتستان9522ملین جس میں سے 150ملین ن رواں برس ملین ملنے تھے جو نہیں ملیاس کے علاوہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں لیکن نئے بجٹ میں کٹ لگنے کا خطرہ ہے ان منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کر کے فنڈ ریلیز کیا جائے،نء1۔سیوریج سسٹم گلگت شہر ۔3850ملین۔.2بٹو گا ہ روڈ،2124ملین،3۔کارکاہ کوریڈور،750ملین،۔4،میڈیکل کالج گلگت۔2700ملین، 5۔وومن کیمپس قراقرم یونیورسٹی گلگت،وہ منصوبے جس کی ایکنیک نے منظوری دینی ہے جن کی منظوری نہیں ملی ہے ان کی منظوری دی جائے,,,(1ریجنل گرڈ گلگت۔5000ملین۔30,,,,(2میگاواٹ غواڑی7985.631ملین۔32.5,,,(3میگاواٹ عطا آباد9746.631ملین۔اس کے علاوہ پی ایس ڈی پی کے وہ منصوبے جن کے کام میں تیز رفتاری لانی ہے۔..1گلگت چترال چکدرہ سوات روڑ۔..2آل ویدر کے کے ایچ۔سی پیک کے وہ منصوبے جنہیں BْOTسسٹم کے زرئعے مکمل کرنا ہے وہ یہ ہیں ۔100..(1میگاواٹ کے آئی یو31148ملین۔80…..(2میگاواٹ پھنڈڑ17251.497ملین۔..(3سپیشل اکنامنک زون مقپون داس۔اس کے علاوہ وزیر اعلی نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ14.15بلین سے 2.83ملی ہے باقی بجٹ نہیں ملنے کی وجہ سے ترقیاتی عمل رک گیاہے وزیر اعلی نے نئی ملازمتوں کے حوالے سے کہا کہ سات ہزار ملازمتیں جس کی سمری وزارت خزانہ کے پاس رکی ہیں اور 1500پوسٹیں چار نئے اضلاع کے لئے ضرورت ہیں اس کے علاو چار نئے محکموں اور چار پاور ہاوس ،ہسپتال اور کالجز کے لئے نئی پوسٹوں کی ضرورت ہے،وزیر اعلی نے اس موقعہ پر وزیر اعظم سے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کی ملک کے لئے قربانیاں سنہری حروف سے لکھے جانے والی ہیں ڈیم متاثرین کے بہت سے خدشات اور مسائل ہیں وفاقی حکومت ان مسائل جے حل کے لئے کردار ادا کرے،واپڈا نے ڈیم متاثرین کے ساتھ جو وعدے اور معاہدے کئے تھے ان پر عمل نہیں ہو رہا ہے واپڈا نے سوشل سیکٹر کے لئے چار ارب دینے تھے وہ بھی نہیں ملے ہیں لہذاواپڈا کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ ڈیم متاثرین کے خدشات دور اور مسائل حل کرے وزیر اعلی نے کہا کہ وفاقی آفیسران کا پولیس اور ڈی ایم جی میں جو کوٹہ تھا اس میں سے وفاقی آفیسران کوٹے کے مطابق گلگت بلتستان نہیں آرہے ہیں لہذا گلگت بلتستان حکومت کو اجازت دی جائے کہ اس کوٹے پر مقامی آفیسران کو تعینات کیا جائے اوو وفاق سے گلگت بلتستان آنے والے آفیسران کے کوٹے میں کمی کی جائے وزیر اعلی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی نے آئینی حقوق کے حوالے سے قراردادیں پاس کیں ہیں ان قرادادوں کے مطابق اور گلگت بلتستان کے عوام کے جذبات کو مد نظر رکھ کر گلگت بلتستان اسمبلی کو اعتماد میں لے کر کوئی بھی فیصلہ کیا جائے گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی فیصلہ درست عمل نہیں ہوگا وزیر اعلی نے مزید کہا کہ سابقہ حکومت نے گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ اور اربوں کے منصوبے دئے ہیں اس میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے خدشہ ہے کہ منی بجٹ میں گلگت بلتستان کے منصوبوں کو ڈیلیٹ کر دئے جائیں گے لہذا گلگت بلتستان کے عوام سے یہ امید کرتے ہیں کہ اگر کوئی اضافی منصوبے نہیں دے سکتے ہیں تو جو منصوبے سابقہ حکومت نے دئے ہیں وہ ختم نہیں کریں گے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے ملاقات میں موجود پرنسپل سکیر ٹری کو ہدایات جاری کیں کہ گلگت بلتستان حکومت کی طرف سے وزیر اعلی نے منصوبوں اور وہاں کے مسائل کے حوالے سے جو بریفنگ دی ہے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کی جائے وزیر اعظم نے اس موقعہ پر کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کی کارکردگی اچھی ہے اس لئے ہماری بھر پور کوشش ہوگی کہ گلگت بلتستان میں جاری منصوبوں میں کوئی تعطل نہ آئے ،اللہ کرے وزیر اعظم ملاقات میں کئے گئے وعدوں کو وفا کریں اور گلگت بلتستان کے مسائل حل کریں ہونا تو یہ چاہئے کہ ملک کی ترقی کے لئے جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments