مطلق سچ

شاہ عالم علیمی 

   کائنات کی ایک اہم خصوصیت تغیر و تبدل ہے۔ ہر لمحہ حرکت ہے۔ اور ساتھ ساتھ ہر جوہر کے اندر فوٹون نیوٹرون الیکٹرون جیسے زرے ہوں یا اور اجرام فلکی جیسے دیوہیکل اجسام سب میں کسی نہ کسی شکل میں ایک سے زائد حرکت ایک سے زائد تغیر و تبدل ہر لمحہ رونما ہوتا رہتا ہے۔اس میں انسان بھی شامل ہے۔ انسان اپنی تین  ملین سال سے زائد کی تاریخ میں بحیثیت فرد اور بحیثیت معاشرہ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ اور تبدیل ہوتا رہے گا۔

انسانی تاریخ میں پچھلے بارہ ہزار سال بہت اہم ہیں۔ اس عرصے میں انسان نے نہ صرف تہذیب کی بنیاد ڈالی بلکہ منطقی علم بھی حاصل کرتا رہا۔ اٹھ سو سال قبل مسیح کے ہومر کے زمانے سے لیکر چوتھی صدی قبل مسیح میں سقراط ان کے شاگرد افلاطون اور ان کے شاگرد ارسطو تک بلکہ ان کے بعد عیسیت کے نزول تک کا زمانہ انسانی تاریخ میں بہت اہم زمانہ ہے۔ اس دور میں بابائے فلاسفہ انسانی سوچ کی نئی سے نئی جہتوں کا کھوج لگاتے رہے۔

انسان کی اصل تلاش سچ اور سچائی کی تلاش ہے۔ وہ سچائی جو کائنات اس کے ہونے اور کائنات کے ہونے کے مقصد کے بارے میں ہے۔ وہ سچائی جو خود انسان اس کے وجود اور اس کے ‘موجود’ ہونے اور اس ہونے کے مقصد کے بارے میں  ہے۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب کا مشہور شعر ‘نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا’ اسی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔

لیکن اج میں اس مابعدالبعیاتی سچ کے بارے میں نہیں بلکہ عمومی سچ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

اج زمین پر موجود انسان نے ترقی کے بلندیوں کو چھوا ہے۔ جہاں ہزار اچھایاں پیدا ہوئیں ہیں وہی ہزار برائیوں نے بھی جنم لیا ہے۔ ان میں سے ایک سچائی کی گمشدگی اور جھوٹ کا غالب انا ہے۔ جہاں حکومتیں اپنے عوام کو اپنی مرضی کے راستے میں ڈالنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں وہی انسانی معاشروں میں بھی غلط فہمی مصالحت ڈر خوف اندھا اعتقاد اندھے یقین ہوس  اور لالچ  کی وجہ سے جھوٹ غالب آتا رہتا ہے جبکہ سچ کی موت واقع ہوتی رہتی ہے۔

یہ اج کے انسان کے لیے ایک چیلنج ہے اور باقاعدہ ایک جنگ ہے۔ مثال کے طور اپ کی حکومت یا اسٹپلشمنٹ اپ کو جھوٹ بول کر غلط راستے پر چلانا چاہتی ہے اگر اپ نے اس کو نہیں پہچانا تو اپ اس جھوٹ کو سچ مان کر ایک غلط فہمی اور خوش فہمی کی زندگی گزارتے رہینگے لیکن اگر اپ کو اس جھوٹ کا علم ہے تاہم اپ مصالحت ڈر یا خوف کی وجہ سے خاموش ہیں تب اپ زندگی کا وہ مقصد پورا نہیں کررہے جو سچ کی تلاش کے لیے ہے۔ ان دونوں صورتوں میں جھوٹ کی جیت اور سچ کی موت ہوتی ہے۔ اور یہ حیات انسانی کے مقصد کی نفی ہے۔

ہمیں سچ بولنے اور اونچی آواز سے بولنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں خوشامد، فائدہ، لالچ، مصالحت، ڈر خوف کو ایک طرف رکھ کر معاشرتی اصلاح کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے معاشرے کے جامد ہونے کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم بول سکتے ہیں لیکن بولتے نہیں؛ اس کی مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یعنی لوگ کیا کہیں گے، لوگ وہی کہیں گے جو اپ بتادیں گے اگر اپ کی بات میں وزن اور تحریر میں دم ہے تو دنیا اپ کے پیچھے چلنے کو تیار ہے۔

انسان پیدا ہوتے ہی بولنا نہیں سیکھا بلکہ اس میں اس کو صدیاں لگ گئی۔ انسان نے زمین پر آتے ہی علم حاصل نہیں کیا بلکہ اس میں اس کو توانائی وقت اور شب و روز کی قربانی دینی پڑی۔

مہذب انسان کی تاریخ اتنی لمبی نہیں ہے صرف دس بارہ ہزار سال ہے۔ دس ہزار سال سے پہلے انسان کے پاس کوئی باقاعدہ علم نہیں تھا، یہ علم اس نے فطرت پتھر مٹی اور اپنے اردگرد سے ہی سیکھا۔

اگر ہومر سے لیکر سقراط تک افلاطون سے لیکر ارسطو تک کندی سے لیکر ابوبکر الرازی تک ابن سینا سے لیکر ابن رشد تک  اور ابن الہیثم سے لیکر گیلیلیو تک نیوٹن سے لیکر آئنسٹائن تک اور اج اسٹیفین ہاکنگ سے لیکر نوم چومسکی تک یہ لوگ اپنی توانائی وقت جان و مال کی قربانی نہیں دیتے تو شاید ہم اس مقام تک نہ پہنچتے۔

میرا خیال ہے کہ سچائی  ایک مقدس شے ہے اس کی قدر اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔ سچائی کے ساتھ اور سچائی کے لیے کھڑا ہوجانا چاہئے۔ سچائی کے لیے لڑنا چاہئے۔ تب جاکر انسان جان سکتا ہے کہ مطلق سچ کیا ہے ورنہ وہ سچائی کے بجائے غلط فہمی اور خوش فہمی میں ہی جیتا رہے گا۔

shahalamalimi@yahoo.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments