متاثرین ڈیم آبادکاری میں  مثبت پیش رفعت

تحریر: محمدقاسم

ملکی تاریخ کا اہم منصوبہ”دیامر بھاشہ ڈیم”کی تعمیر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نہائت  اہمیت کا حامل ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف 4500 میگاواٹ بجلی ہوگی بلکہ تربیلا ڈیم کی عمر میں 35 سال اضافہ  کے ساتھ پانی کی ذخیرہ اندوزی کے علاوہ  ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے لئے کارگر ثابت ہو گی۔ڈیم کے تعمیر کے حوالے سے متاثرین دیامر بهاشہ ڈیم نے اپنے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے یکجان ہو کر آواز اٹھائی۔اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے میں کامیاب ہوئے۔ابتدائی طور پہ متاثرین ڈیم کا جو بنیادی اعتراض ڑیم کا نام اور رائلٹی پہ تھا.چونکہ ڈیم کی تعمیر سے مکمل طور پر دیامر متاثر ہو رہا ہے۔ پهر وفاقی حکومت نے بهاشہ کے ساتھ دیامر کا لاحقہ لگا کے دیامر بهاشہ ڈیم نام رکھ کے عوام دیامر کا بنیادی اعتراض دور کیا جبکہ رائلٹی پر بھی گلگت بلتستان کا حق تصور کیا گیا۔واپڈا اور وفاقی حکومت نے متاثرین کی آبادکاری املاک و ارضیات کے معاوضے اور ادائیگی کا طریقہ کار سمیت دیگر اہم مسائل کو باہمی افہام و تفہیم  سے حل کرنے کے لئے متاثرین ڈیم کمیٹی کا وجود عمل میں لایا گیا صوبائی حکومت اور واپڈا حکام اور متاثرین ڈیم کمیٹی کے مابین وقتاً فوقتاً مذاکرات ہوتے رہے.اور بغیر کسی رکاوٹ اور مزاحمت کے  مذاکراتی عمل آگے بڑھتا رہا۔یوں بابوسر کے مقام پہ  صوبائی حکومت،واپڈا اور متاثرین ڈیم کمیٹی کے ساتھ ہونے والا  پہلا تحریری معاہدہ اس منصوبے کی پہلی سیڑھی تھی۔اس معاہدے کی روشی میں اسلام آباد میں وزارتی کمیٹی اور متاثرین ڈیم کمیٹی کے دستخطوں سے تحریری شکل دی گئی.اسلام آباد معاہدے کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اس پہ عملی اقدامات کئے گئے مگر بعض نقات پہ حقیقی متاثرین ڈیم سونی وال قبائل کو شدید تحفظات ہنوز حل طلب ہیں.

معاہدہ اسلام آباد کی روشنی میں ابتدائی طور پر تهور کهنبری کے ڈیم کی تعمیر سے زیر آب ارضیات املاک کی ادائیگی کرنے کے بعد بعض ناگزیر مسائل کی وجہ سے تاخیر پہ 2015 میں ایک اور معاہدہ حکومت واپڈا اور متاثریں ڈیم کمیٹی کے مابین ہوا. جس میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ  سے دیگر علاقوں اور چلاس ٹاون اور کمرشل ایریاز کے ارضیات اور املاک کےاز سر نو  ریٹ مختص کئے گئے۔ اور متاثرین ڈیم  واپڈا اور حکومت کے مابین تمام ارضیات باغات اور املاک کی ادائیگی کا سلسلہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے اختامی مرحلے میں گیا۔

مگر بدقسمتی سے ڈیم سے متاثرہ گھرانوں کی آبادکاری ایک معمہ بن گیا۔واپڈا کی ابتدائی سروے کے مطابق متاثرین کی آبادکاری کے لئے ہرپن داس تهک داس اور کنو  داس کی ارضیات کی نشاندہی کی گئی تھیں. اور 9 ماڈل ویلیجز میں متاثرین  کی آبادکاری مکمل کرنا ہے نیز  ایک کنال مفت رہائشی پلاٹ جب کہ 4 کنال کی زرعی اراضی ادائگی کی مشروط معاہدے کی بنیادی اہم نکات میں سے ہے۔

بدقسمتی سے متاثرین کی آبادکاری منصوبہ قبائلی و علاقائی رسم و رواج کو پس پشت ڈال کر اسلام آباد کے ایوانوں میں بہت سارے غلط انداز میں کئے گئے متاثرین ڈیم  کی آبادکاری کے لئے جو ماڈل ولیجز کی سلکشن کی گی اس میں دن بدن مسائل کے انبار پیدا ہوئے جسکی وجہ سے اصل اور حقیقی متاثرین ڈیم در پدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے .اور واپڈا کی ناقص حکمت عملی اور صوبائی حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے متاثرین ڈیم گو مگو کیفیت میں مبتلا تھے اس وقت حکومت متاثرین کی آبادکاری کے حوالےسے کوئی ٹھوس حکمت عملی کرنے پہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی

 متاثرین دیامر ڈیم کی آبادکاری حکومت اور واپڈا حکام کے لئے ایک بڑا چیلنج سے کم نہیں تھا

آبادکاری کے حوالے سے واپڈا نے صوبائی حکومت کے تعاون سے ہرپن داس چلاس میں 5500 کنال اراضی حاصل کرکے ماڈل ویلج کا ابتدائی مرحلے میں کشادہ سڑکیں۔ کمیونٹی سنٹر سکولز مسجدیں جدید طرز میں تعمیر کئے گئے ہیں۔اس ماڈل ولیج میں بھی آباد کاری کا مسلہ دن پہ دن شدت اختیار ہوتا جاتا ہے۔تھک داس ماڈل ولیج  میں عوام تھک اپنا قدیمی پشتنی اور شرعی اور علاقائی روایات کی بنیاد پہ اپنی مدد آپ کے تحت نہری پانی کی فراہمی کر کے ہزاروں رہایشی مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔جبکہ دوسری طرف تھک داس کا تصفیہ گزشتہ کئی سالوں سے مقامی قبائل اور حکومت کی طرف سے الاٹ کئے گئے الاٹیز کے مابین کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ کینو داس میں بھی متاثرین کی آبادکاری کے حوالے سے مسائلوں کا قبرستان بنا ہوا ہے۔

الغرض یہ کی متاثرین کی آبادکاری کے حوالے سے واپڈا نے کروٹ بدل دی متاثرین ڈیم کی آبادکاری کے لئے اسلام آباد کے نواحی گاوں چکری میں پلاٹ دینے کا ایک اور چال چلی مگر اس میں بھی متاثرین کی طرف سے سخت رد عمل دیکھنے کو ملا۔حقیقت میں دیکھا جایے تو متاثرین ڈیم کی آبادکاری کا مسلہ کے حل کے لئے کوئی سرکاری ذمے دار کمر کس کے سامنے آنے کو تیار نہیں تھا

امیر اعظم حمزہ نے ڈیٹی کمشنر دیامر کا چارج سنبھالتے ہی ایک درد کے ساتھ متاثرین کی آبادکاری کا جذبہ لے کے آگے بڑھے تو کارواں بنتا گیا۔انہوں نے  آتے ہی متاثرین ڈیم کے تمام قبائلی رہنماوں متاثرین ڈیم کمیٹی واپڈا سے متاثرین کی آبادکاری کے حوالے پیش رفعت شروع کی تو قدم قدم پہ کامیابی ملی۔انھوں نے واپڈا کے تعاون اور متاثرین ڈیم کی رضامندی سے ایک بہتر  پیکیج کا اعلان کیا جس سے متاثرین ڈیم میں آبادکاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھائی دیا۔اور غریبوں کو انکا حق ملنے کی امید نظر آنے لگی۔ انہون نے صوبائی حکومت، انتظامیہ،عسکری قیادت اور واپڈا کی مشاورت سے متاثرین ڈیم کو  تین آپشن میں مرحلہ وار بہتری لاتے ہوئے پہلا  آپشن 17 مرلہ زمیں سے 18 مرلہ کے ساتھ اضافی 12 لاکھ روپے۔دوسرے آپشن پہ 10 مرلہ زمیں کے ساتھ 29 لاکھ روپے اور  آخری آپشن 35  لاکھ نقد رقم کو بڑھا کر 47 لاکھ روپے بلکل مفت کا پیکج دے کر متاثرین ڈیم میں پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ کیا متاثرین ڈیم میں پائے جانے والے غم وغصہ کو خوشی میں بدل ڈالا۔متاثرین ڈیم کے مختلف  قبائل اور علاقے کے چیدہ چیدہ رہنماوں نے ڈی سی دیامر  کی اس کاوش کو سراہا۔

یقینا  ڈیٹی کمشنر دیامر امیر   ی انتھک کوششوں کی وجہ سے ملکی سطح کا میگا منصوبہ کامیابی کیطرف گامزن ہے اور متاثرین ڈیم انکی  کامیاب حکمت عملی سے مکمل طور پر مطمئین ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سطح کا میگا منصوبہ متاثرین ڈیم کی آباد کاری  پہ ہنگامی بنیادوں پر  ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔  حکومت چند قبائلی اور علاقائی تعصب کو  پروان چڑھانے والے عناصر کی سرکوبی کرے۔متاثرین ڈیم کی  مستقبل کو تاریک کرنے والوں کو سخت آہنی ہاتھوں سے نمٹا وقت کی اہم ضرورت ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments