دو ٹوک مطالبہ

 تحریر شرافت حسین استوری

سپریم کورٹ کے فیصلے نے گلگت بلتستان کے لوگوں کی آنکھیں کھول کے رکھ دی ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ جہاں کی شرح خواندگی نوے فیصد ہے اور اپنی شناخت اور قومی تشخص سے لاعلم ہے اور افسوس کی بات ہے اتنی شرح خواندگی رکھنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کے لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے. اسکی بڑی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنی تاریخ سے دور رکھا گیا ہے، سکولوں کالجوں ہر جگہ ہم مطالعہ پاکستان پڑھتے رہتے ہیں اور گلگت بلتستان کا کہیں زکر نہیں اور مطالعہ پاکستان لکھنے والوں نے بھی اتنا ظلم کیا ہے کہیں پر کے پی کے تو کہیں پر فاٹا کا علاقہ ظاہر کیا گیا ہے. زندہ قومیں ہمیشہ اپنی اباواجداد کی تاریخ کو زندہ رکھتی ہے گلگت بلتستان میں تو گلگت بلتستان کے حوالے لکھی گئی کتابوں پر بھی پابندی لگائی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو گلگت بلتستان کے صرف 1 فیصد لوگوں نے گلگت بلتستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے آئیں ہیں جس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں مین مزید گلگت بلتستان کے لوگ قوم پرست جماعتوں کا حصہ بنینگے اور گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کے جو پلیٹ فارمز موجود ہیں ادھر سے ہی گلگت بلتستان کے حقوق اور خود مختاری کی بات کر سکتے ہیں باقی وفاقی پارٹیوں نے ستر سالوں سے ہمیں بےوقوف بنایا کبھی ہمیں لڑوایا تو کبھی مزہبی منافرت پھیلا کر گلگت بلتستان میں اٹھنے والی آوازوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دبا دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو ایک بار پھر متحد کر دیا. ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی علاقائی پارٹیوں کو بھی قبلہ درست کرنا ہوگا اور اپنے موقف کو واضح کریں کیونکہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بہت جلد وفاقی پارٹیوں کا وجود ختم ہونے والا ہے اب گلگت بلتستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ آیا وہی ستر سالوں سے جس طرح ہمیں مختلف حکومتوں نے ہمیں آرڈر پہ چلایا ہے اس پہ ہی گزارہ کرنا ہے یا اپنی خود مختاری کے لیے آواز بلند کرنا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے باسی ستر سال سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے لیکن ہر آنی والی حکومت نے ہمیں ٹرخایا اس بار سپریم کورٹ نے عدالتی اسٹیمپ کے ساتھ گلگت بلتستان کے لوگوں کو متنازعہ بنا دیا گلگت بلتستان کے لوگوں نے سپریم کورٹ کو فیصلے کو مسترد کیا ہے اور اسی حوالے سے گلگت بلتستان کے بہت سارے نوجوان پاکستان کے مختلف شہروں میں سراپا احتجاج ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر گلگت بلتستان کی خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہی شعور جسکی ضرورت تھی وہی شعور کو پروان چڑھانے میں سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں آج اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس کا کریڈٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جی بی اوئیرنس فورم اور گلگت بلتستان سپریم کونسل کیمٹی کو جاتا ہے جو کہ لائق تحسین ہے اس طرح کے کانفرنسز ہمیں آپس میں سمجھنے میں اور اپنے فیصلے کرنے میں مدد ملی گی کیونکہ دھرتی ہماری ہے تو فیصلے بھی ہم نے ہی کرنا ہے جن کو ہم نے فیصلے کرنے کا حق دیا تھا انہوں نے ہمیں اپنے بنیادی اور انسانی حقوق سے محروم رکھا اور آج کی آل پارٹیز کانفرنس میں گلگت بلتستان کے تمام پارٹیوں نے گلگت بلتستان کی خودمختاری اور متنازعہ حثییت کو بحال کرنے کے لیے مشترکہ جہدو جہد کا اعلان کیا اور مل کر چلنے کا عندیہ دے دیا جو کہ خوش آئند بات ہے کہ آج ستر سال بعد گلگت بلتستان کی تمام سیاسی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوئے اسی طرح متحد رہے تو ہمیں اپنے حقوق لینے سے کوئی چھین نہیں سکتا. اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کا مستقبل کیا ہوگا اور گلگت بلتستان کی تمام وفاقی اور قوم پرست پارٹییوں کا کیا لائحہ عمل ہوگا کیا گلگت بلتستان کے تمام پارٹیاں ایک پلیٹ فارم کے تلے قومی بیانیے اور قومی تشخص کے بحران کے لیے آواز اٹھائینگے …?? یقینا یہ وہ چند سولات ہیں جنکا ہمیں ماضی میں بھی خدشات تھے کیونکہ وفاقی پارٹیز اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں اور انہی کی وجہ سے گلگت بلتستان کے لوگ شناخت سے محروم ہیں اب گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کو عوامی ایکشن کمیٹی یا عوامی ایکشن تحریک کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کو موبلائز کرکے ایک مضبوظ اور دھواں دار تحریک کی ضرورت ہے اور دو ٹوک مطالبہ کرنا چائے کی ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہمیں اب صرف اور صرف خودمختاری دی جائے اگر پاکستان نے حقوق دینا تھا تو کب کا دے چکے ہوتے اور گلگت بلتستان کا معاملہ سپریم کورٹ یا پاکستان کی بس کی بات نہیں یہ ایک عاملی ایشو ہے اور اسکا فیصلہ بھی عالمی عدالت نہ کرنا ہے تو ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی خودمختاری کا مطالبہ کرنا چائے سوائے تین چیزوں کے جس میں کرنسی، دفاعی اور خارجہ پالیسی کے علاوہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل کیا جائے تاکہ ستر سالوں کی جو محرومیاں ہیں انکا ازالہ ہو سکے..! شیر نادر شاہی کی ایک نظم جو کہ گلگت بلتستان کے اوپر لکھا ہے قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں ہمارے سر پہ جب بھی زورآیا نہ تم آئے نہ کوئی اور آیا کبھی حاکم بنا ڈکیت سندھی کبھی پنجاب سے کوئی چور آیا پر امن قوم کو باہم لڑانے وہاں سے فارمولہ ڈو مور آیا ہماری خون میں تھی بس غلامی سردار عالم بھی کر کے غور آیا چڑھے سولی کبھی جالب کبھی فیض ضیاء جیسوں کا جب بھی دور آیا بھگادو کاغذی شیروں کو لوگو! کہو سب مل کر اب مارخور آیا صدائے حق کو شاہی اب دبانے یہ اے ٹی اے ، یہ شیڈول فور آیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments