برستی بارش میں ننھادہشت گرد

رشید ارشد

دفتر سے جیسے ہی باہر نکلا آسمان سے برکھا اتنی زور کی برس رہی تھی کہ دفتر سے پارکنگ تک کاسفر طے کرتے کرتے کپڑے گیلے ہو کر سردی کی شدت سے جسم و جاں مین تھر تھلی سے آچکی تھی گاڑی سٹارٹ کرتے ہی سردی سے بچنے کے لئے فل سپیڈ میں ہیٹر بھی چلایا،لیکن ہیٹرکی حدت پر سردی کی شدت غالب تھی ،بس یہ تمنا تھی کہ جلدی سے گھر پہنچوں اور ہیٹر جلا کر سردی کی شدت کو شکست دوں ،جیسے ہی گاڑی مارگلہ روڈ پر چڑھی بارش مزید تیز ہو گئی دور دور تک کوئی انسان چلتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا ،ٹریفک اشارے سے پولیس کا سپاہی بھی غائب تھا ،لال بتی جل رہی تھی ،بتی کو دیکھ میں رک گیا ۔
،گاڑی رکتے ہی ایک انسانی ہیویلا نظر آیا غور سے دیکھا تو ایک چودہ سے پندرہ برس کی عمر کا ایک بچہ ہاتھ میں بھیگی ہوئی گلاب کے پھول کی پتیاں لے کر تھر تھر کانپ رہا ہے ،جسم گیلا ہے ،معصوم ماتھے سے بارش کے پانی کے قطرے گر رہے ہیں ،میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کئے تو دوڑتے ہوئے میرے پاس آیا ،میں نے سوچا بچے کو لفٹ دوں ،سردی ہے لیکن بچے نے قریب آتے ہی کہا انکل پھول لے لو ،میں نے کہا بچے گاڑی کے اندر آو سردی ہے بارش سے بھیگے ہو کچھ دیر میں گاڑی روکتا ہوں آپ سردی سے بچو گے اور آج تو اتنی شدید بارش میں آپ کو گھر سے نہیں نکلنا چاہئے تھا سردی سے کانپ رہے ہو ،بچے کا جواب سن کر میراکلیجہ منہ کو آگیا،انکل سردی سے بچنا آسان ہے بھوک اور افلاس سے بچنا مشکل ہے ،مجھے سردی سے ڈر نہیں لگتا ہے ۔بیمار ماں اور بہن بھائیوں کو لگی بھوک سے ڈر لگتا ہے ،میں نے مزید سوال کر کے اس کے درد کے سمندر میں چھپے طوفان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اسے کہا بیٹے مجھے پھول نہیں چاہئے یہ لو آپ کی آج کی مزدوری اور گھر جاو بہت سردی ہے ،اب بچے نے جو جواب دیا مجھے اس کی توقع ہر گز نہیں تھی،بچے نے ناگواری سے جواب دیا انکل میں بھکاری نہیں کہ اپنی غربت کا قصہ سنا کر بھیک مانگوں ،میں مزدور ہوں ،بارش ہو طوفان ہو میں گھر سے نکلتا ہوں اور محنت مزدوری کر کے حلال کی کمائی .سے اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرتا ہوں ،،،،

بیٹا وہ سب ٹھیک ہے لیکن آج بارش ہے یہ پیسے لو اور گھر جاو ،،،،نہیں انکل میری ماں نے مجھے سختی سے منع کیا ہے اور کہا ہے ہمیشہ محنت سے کماو ،بغیر محنت کے مفت کے پیسے کھبی نہ لو ،ماں نے کہا ہے کہ بھیک کے پیسوں سے بھوک تو مرے گی لیکن ساتھ میں اندر کا انسان اور خودداری بھی مرے گی اور عزت نفس کو مار کر زندہ رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ خودراری کو بچا کر عزت کے ساتھ دنیا سے چلے جائیں ،برستی بارش میں سردی کی شدت ایک طرف بچے کی خودداری سے لبریز باتوں سے میری سوچوں کا گھوڑا کہیں دور چلا گیا اور سوچنے لگا کہ وہ کتنی عظیم ماں ہے جس نے غربت کے آنگن میں بھی خودداری کے ایسے پھول سجائے ہیں کہ جو برستی بارش میں بھی اور تپتی دھوپ میں بھی موسموں کی شدت سے بے نیاز ہو کر خوشبو بکھیر رہے ہیں ،مزید سوالات کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی اور بچے سے کہا اچھا بچے ،،دو پھول اور یہ لو پیسے ،اور انشا اللہ میں روز آپ سے پھول لوں گا ،اب اندر آو گا ڑی میں کچھ دیر کے لئے سردی سے بچو ،میں نے دورازہ کھولا تو بچہ اندر آگیا ،اچھا بچے کیا سکول جاتے ہو ،جی انکل صبح کے وقت سکول جاتا ہوں اور شام کے وقت پھول فروخت کرتا ہوں ،بیٹے آپ کے والد،،میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی بچے نے کہا،انکل میرے والد دنیا میں نہیں ہیں ،جن کے والد ہوتے ہیں وہ میری طرح اس سردی میں ٹریفک اشاروں میں پھول فروخت نہیں کرتے ہیں۔

انکل جی ایک بات بتاوں ،،،جی بیٹا،،میرے والدنہیں لیکن ماں تو ہیں رات کو گھر جاتا ہوں تو ماں کا پیار ملتے ہی سب دکھ اور سختیاں بھول جاتا ہوں لیکن ساہیوال کے اس عمیر ،ہانیہ اور ان کی چھوٹی بہن جن کی ماں اور باپ کو ظالموں نے ان کی آنکھوں کے سامنے مارا ان کا کیا بنے گا ،مجھے میری ماں کا پیار تو مل رہا ہے لیکن وہ تو زندگی بھر کے لئے ماں باپ دونوں کے پیار کے لئے ترسیں گے ،ان کے دکھ اور درد کا سوچتا ہوں تو اپنے دکھ بھول جاتاہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان ظالموں کو برباد کرے جنہوں نے یہ ظلم کیا ہے،انکل میری عمر تو کم ہے لیکن اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ جو دہشت گرد ہوتے ہیں نا یہ بھی ایسے ہی تو دہشت گرد تو نہیں بنتے ہیں ان کو یہ یہ ظلم کا نظام ہی دہشت گرد بناتا ہے ،جس عمیر کے سامنے ان کی دنیا اجاڑ دی گئی اگر اسے انصاف نہ ملے تو بڑا ہو کر وہ دہشت گرد نہیں بنے گا تو اور کیا بنے گا ،انکل اس ملک میں غریب کی جگہ نہیں ،کچھ بڑی گاڑیوں میں گزرنے والے لوگ تو مجھے بھی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ،کھبی کھبی ان لوگوں کی حقارت بھری نظریں اورتضحیک آمیز باتیں سنتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ شاید میں بھی دہشت گرد ہوں مجھے بھی ایسے ہی گولیاں ماری جائیں گی ،انکل کیاہمارا قانوں انصاف بھی امیر اور غریب دیکھ کر دیتا ہے اور کیاصرف سب غریب ہی دہشت گرد ہوتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments