بدلتے سیاسی رشتے 

سیاست ایک ایسا کھیل بن چکاجس میں کوئی رشتہ ،کوئی شرم اور کوئی حیا نہیں ہے۔

سیاست تو ایک ایسا پاکیزہ عمل تھا جس سے دکھی انسانیت کے دکھوں کا مدوا کیا جاتا تھا لیکن لگتا ہے اب سب کچھ بدل چکا ہے، مفادپرستی اوراین الوقتی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے قوم کے فرد کی حیثیت سے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں،معاشرے کا ایک رکن ہوتے ہوئے انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہے اور اس کے کچھ فرائض ہوتے ہیں،یہ عجیب وغریب لگتا ہے کہ کوئی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی سمت بدل لے یاچھوٹے چھوٹے مفادات اور وقتی فائدے کیلئے خود کو نیلامی کیلئے پیش کرے اور اپنے ہاتھ سے اپنا اشتہار بنوا کر چوراہوں پر لگا دے کہ میں چندٹکوں پر بُک گیاہوا اور میرے کوئی اصول نہیں ہے اور نہ میرے نزدیک کسی ملک وقومی معاملے کی کوئی اہمیت ہے اور ضمیروفروشی ہی میرا پیشہ ہے اور میں ایک ایک ٹکے پر بکنے والی شے ہوں انسان نام کی میرے اندر کو ئی خصلت موجود نہیں ہے۔وقتی مفاد اور سستی شہرت کے حصول کیلئے میں کسی کو بھی اپنا باپ کہہ سکتا ہوں اس کیلئے بے شک کوئی گدھا ہی کیوں نا ہو میری آنکھوں پر لالچ اور خود غرضی کی پٹی بندھی ہوتی ہے نہ میں اہل بصیرت ہوں اور نہ اہل عقل ہوں کرسی کے لئے میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوں ،چار برس تک میرے نذ دیک سب کچھ درست ہو رہا تھا اب اقتدار کا آخری برس ہے تو مجھے اقتدار کی اگلی بس میں سوار ہونے کے لئے اگلی بس کی تعریف اور جس میں سوار ہوں اس کی بدنامی تو کرنی ہے۔

طوطا چشمی ،بے وفائی ،وقت پرستی اورمفاد پرستی کے اصل مفاہیم سے آگاہی حاصل کرنی ہو تو اقتدار کی راہداریوں سے گزریں تو سیاسی شرفا کے اصل چہرے فواد چوہدری کے سیاسی جھوٹ کی طرح عیاں ہوتے ہیں ،چلتے چلتے ایک واقعہ یاد آیا،

بے نظیر بھٹو جب 1993 میں دوسری بار وزیراعظم بنی تو انہوں نے پی پی پی کے سردار فاروق لغاری کو صدر پاکستان منتخب کروایا۔ جب چاہتی لغاری صاحب کو اپنے پاس طلب کر لیتی تھیں۔ پہلے انہیں مسٹر لغاری اور بعد مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر پکارتی تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق جب آخری دور میں دونوں میں اختلافات عروج پر پہنچ گئے تو بینظیر خود چل کر ایوانِ صدر گئیں اور لغاری صاحب سے ملاقات میں انہیں ’’بھائی لغاری ’’کہہ کر مخاطب کیا۔

فاروق لغاری نے کہا ’’میڈم۔ یہ ملاقات وزیراعظم اور صدر مملکت کے درمیاں ہے۔ بہن بھائی کے درمیان نہیں۔ اس لیے بھائی بھائی کی بجائے سیاسی حالات پر بات کیجئے۔ ’’

تاکید کے باوجود بھی جب بینظیر بھٹو ’’بھائی لغاری ’’کہنے سے باز نہ آئیں تو فاروق لغاری اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنی اہلیہ کو بلا کر کہنے لگے ’’تمھاری نند آئی ہیں۔ ان سے گپ شپ لگاؤ۔ میں ضروری کام سے آفس جارہا ہوں ’’اور گاڑی میں بیٹھ کر باہر چلے گئے۔

اپنے صحافتی کیرئیر میں وفاداری اور محسنوں کے احسان کو یاد رکھنے کے سبق یاد کرانے والے بہت سے کرداروں کو اقتدار کی چمک کو دیکھ کر اپنے قبلے ایسے بدلتے دیکھا جیسے گرگٹ رنگ بدلتا ہے ،حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایک محسن کو دغا دے کر دوسری جماعت میں جاتے ہیں تو اس جماعت میں بھی وفاداروں کی فہرست میں ترمیم کر کے نئے آنے والے پنچھیوں کو سر فہرست رکھا جاتا ہے ۔

میں یہاں نظریاتی سیاست کی نہیں ،نظر آتی سیاست کی بات کر رہا ہوں ،آج کل نظر آتی سیاست ،سکہ رائج الوقت ہے،سو بات نظر آتی سیاست کی کی جائے،

میں نے سیاسی زروں کو ماہتاب بنتے بھی دیکھا اور سیاسی ماہتابوں کو مفادات کے لئے زرے بنتے بھی دیکھا ،بڑے بڑے سیاسی سلطان راہی بھی دیکھے جو دربار میں آداب شاہی میں بچھ جاتے ہیں اور دربار سے باہر نکلتے ہی ،سلطان راہی کی طرح ،،،اوئے میں تینوں اوتھے سٹساں جھتے پانی بھی نہ لھبسی،،کے ڈائیلاگ مارتے ہیں،اجلاس میں یہ سلطان راہی ، کہہ رہے ہوتے ہیں ،بوس ،تسی گریٹ ہو کہتے ہیں اور اخباری سرخیوں میں دما دم مست قلندر کے نعرے بلند کرتے ہیں،سیاسی زعما کے یہ یہ دوہرے چہرے دیکھ کر دل اداس تو ہوتا ہے لیکن جب یہ جملہ زہن میں گردش کرتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے،تو وقتی تسلی ہوتی ہے لیکن پھر اچانک سے زہن میں سوال ابھرتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مان لیا ۔۔لیکن زندہ انسان میں ضمیر تو ہوتا ہے کیا ان ساسی شاہ دولوں کامفادات کے لئے اپنے سیاسی محسنوں سے بے وفائی کرتے وقت ان کا ضمیر دیو سائی کی سیر کے لئے جاتا ہے ؟

انسان جس مذہب کا بھی پیروکار ہو اسے اس کا مذہب محسن کشی سے منع کرتا ہے اگر مذہب سے لاتعلق ہے تو انسان کی ابتدائی تربیت اور اس کا ضمیر تو اسے ملامت کرتا ہے کہ جس سیاسی محسن کے کاندھوں پر سوار ہو کر زرے سے ماہتاب بن چکے ہواس سے بے وفائی تو نہ کرو،،،

ہاں قدرت نے جس انسان کو یہ طاقت دی ہوتی ہے کہ وہ سیاست کے میلے میں گمنام چہروں کو سیاسی سکرین پر نمودار کر سکے تو اسی انسان کو قدرت نے یہ صلاحیت بھی بخشی ہے کہ سیاسی سکرین کا ریموٹ دبا کر سیاسی دغا بازوں کو ہمیشہ کیلئے سیاسی سکرین سے ہٹا دے۔۔۔۔

جو اس ضمیر فروشی کے ماہرین میں ہے

وہ آدمی بھی سنا ہے مورخین میں ہے

بڑھا رہا ہے مری سمت دوستی کا ہاتھ

ضرور بات کوئی اس کی آستین میں ہے

وہ مجھ سے کہتا ہے پھولوں سے احتیاط کرو

مرا وہ دوست بھی میرے منافقین میں ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments