نلتر کی ست رنگی جھیل کا حسن اور ایکسپریس وے

رشید ارشد

کبھی وقت ملے تو آجاؤ،

ہم جھیل کنارے مل بیٹھیں۔۔

دنیا کتنی حسین ہے، اس راز کو پانے اور حسن کے جلوں میں جل تھل ہونے کیلئے ابن بطوطہ کی طرح دنیا کی خاک چھاننی ہوتی ہے یا مارکو پولو کی طرح سفر در سفر میں رہنا ہوتاہے لیکن اب اس کی ضرورت نہیں آپ کو گلگت شہر سے 45 کلو میٹر کی دوری پر وادی نلتر کی ست رنگی جھیل کے کنارے پر پتھر پر بیٹھ کر جھیل کے نیلگوں پانی میں رنگوں کی قوس و قزح کے نظاروں میں ڈوب کر چشم تصور سے دنیا کے حسن اور زندگی کی رعنائیوں کا نظارہ کرنا ہوگا ،اس حسین نظارے میں حسن کے تمام رنگ ایک ایک کر کے آپ کی آنکھوں کو جل ترنگ کریں گے توآپ کی زبان پر نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا خوبصورت کلام آئے گا ،کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ۔

غم دوراں سے زرا کنارہ کر کے نلتر کے حسن کے نظاروں میں کھو جائیں تو یوں لگتا ہے کہ قدرت نے اپنی تمام رعنائیوں کو نلتر کے پہاڑوں کے درمیان وادیوں میں ایک گلدستے کی صورت سجا کر مخلوق خدا کے لئے ایک نشانی عطا کی ہے ،دنیا کے شور سے بہت دور اس وادی گل پوش میں جھیل کے کنارے کسی چرواہے کی بانسری سے نکلنے والی لے آپ کی سماعتوں سے ٹکرائے گی تو محسوس ہوگا کہ حسن کے سب رنگ و ترنگ یکجا ہو کر دنیا جیسے حسن کی قید میں آکر تھم سی گئی ہے ۔،،،،،،نلتر کا تمام تر آلودگی ،شور سے پاک پرفضاء ماحول، گنے جنگل، سرسبزوشاداب وادیاں، شفاف چشمے، دودھ جیسی نہریں، برف پوش پہاڑ، گنگناتی ندیاں، رنگ برنگی جھلیں، شفائیت سے بھرپور جڑی بوٹیاں اور نایاب نسل کی جنگلی حیات کا نظارہ کریں گے تو دل میں ارمان جاگیں گے اس خوبصورت وادی میں اک گھر بنا کر زندگی کے لطف سے آشنا ہوں،،پہلی دفعہ آپ وادی نلتر میں جیسے ہی داخل ہوتے ہیں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ گوشہ حسن اس دنیا کا حصہ ہی نہیں شاید جنت کا اک گوشہ حسن ہے جو ہر دیکھنے والی آنکھ میں حسن کے جلوے بکھیر کر ہمیشہ کے لئے حسین نظاروں کی یادیں اپنے اندر سمو کر یہاں سے رخصت ہوتیں ہیں ،

نلتر کی یہ تمام صفات اس وقت اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں جب یہاں کی سڑک پر سفر کرتے ہیں ،جیب اور لینڈ کروزر کے علاوہ چھوٹی گاڑی میں سفر نہیں کر سکتے ہیں ،مور کی خوبصورتی والا معاملہ نلتر کے ساتھ بھی ہے ،مور جب اپنے پروں کی طرف دیکھتی ہے تو حسن دیکھ کر خوش ہوتی ہے لیکن جب پاوں کی طرف دیکھتی ہے تو اداس ہوتی ہے ،بالکل ایسے ہی نلتر کے پاوں میں مسلہ تھا لیکن اب وہ پریشانی بھی دور ہونے والی ہے۔کیونکہ جدید ترین ،کھلی اور کشادہ شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔

سکی چیئرلفٹ کے ساتھ پاکستان ایئرفورس کا کیمپ بھی نلتر میں واقع ہے، جہاں پر ائیرفورس کا عملہ سال بھر موجود رہتا ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا خواب تھا کہ اس وادی گل پوش کو دنیا میں اجاگر کر کے دنیا بھر کے قدرتی حسن کے دلداوں کے لئے نلتر کے دروازے کھول دیں جس کے لئے گلگت سے نلتر تک ایک ایکسپریس وے بنائیں انہی کوششوں کی ابتدا کے لئے نلتر میں دنیا کے کئی ممالک کے سفیروں کو یکجا کیا گیا لیکن بدقسمتی سے ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں ناروے اورفلپائین کے سفرااورملائشیاء اور انڈونیشیاء کے سفراکی بیگمات سمیت آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ان سفرا کے ساتھ نلتر میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے ان کی ملاقات طے ہوئی تھی۔سابق وزیر اعظم کے خواب کی تعبیر کے لئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے دن رات ایک کئے بالاآخر سابقہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے دئے گئے منصوبے نلتر ایکسپریس وے کے منصوبے کو منظور کرانے میں کامیاب ہوئے اس منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان کی سیاحتی ترقی میں اک دم سے کئی گنا اضافہ ہوگا کیونکہ وادی نلتر کے حسن کے چرچے دنیا بھر میں عام ہیں صرف سڑک کی دشوار گزاری کی وجہ سے نلتر سیاحوں کے لئے مشکل مقام تھا ،اب ایسا نہیں تین ارب کی لاگت سے گلگت سے نلتر تک ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے رکھ دیاہے اس منصوبے کی تکمیل سے گلگت سے نلتر کا راستہ صرف 45منت تک طے ہوگا ،گلگت بلتستان کے باقی بڑے بڑے منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی ایک بہت ہی اہم اور یادگار کانامہ تصور ہوگا یہ منصوبہ گلگت بلتستان کی سیاحتی اور معاشی سرگرمیوں میں انقلاب برپا کرے گا۔سیاست کے بے رحم کھیل میں سیاسی مخالفین مخالف جماعت کی کارکردگی تسلیم نہیں کرتے ہیں لیکن عوام سب جانتے ہیں اور تاریخ اک اک پل محفوظ کرتی ہے اس منصوبے پر تاریخ پکار پکار کر مسلم لیگ ن کی حکومت اور وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو سلام پیش کرتی رہے گی۔۔۔۔

نلتر ایکسپریس وے تیار ہو جائے تو پھر کسی کا دل کہیں اور نہیں ٹھہرے گا اور ضد کرے گا کہ چل اڑ جا رے کہ نلتر کے حسن میں کھو جائیں،،

کبھی وقت ملے تو آجاؤ،

ہم جھیل کنارے مل بیٹھیں۔۔

تم اپنے سکھ کی بات کرو،

ہم اپنے دکھ کی بات کریں۔۔

ہم ان لمحوں کی بات کریں،

جو تمہارے ساتھ بیت گئے،

اور عہدِ خزاں کی نظر ہوئے۔۔

ہم شہرِ خواب کے باسی اور،

تم چاند ستاروں کی ملکہ۔۔

ان سبز رتوں کے دامن میں

ہم پیار کی خوشبو مہکائیں۔۔

ان بکھرے سبز نظاروں کو

ہم آنکھوں میں تصویر کریں۔۔

پتھر پہ گرتے پانی کو،

ہم خوابوں سے تعبیر کریں۔۔

اس وقت کے ڈوبتے سورج کو

ہم چاہت سے تعبیر کریں۔۔

کبھی وقت ملے تو آجاؤ،

ہم جھیل کنارے مل بیٹھیں۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments