کشمیر ڈے پر ہی حقوق گلگت بلتستان ڈے کیوں؟

کرہ ارض کے سینے پر ایک ایسا گوشہ بھی ہے جہاں ماں کے سامنے اس کے لخت جگر ،باپ کے سامنے اس کے بڑھاپے کا سہارے ،بہن کے سامنے جواں سال بھائی اور بیوی کے سامنے اس کے سہاگ کا لاشہ آتا ہے تو وہاں غم کے سمندر کو دل کے پنجرے میں قید کر کے پوری قوت کے ساتھ نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان،قائد اعظم نے کہا تھا ،کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ،کیا شہہ رگ کے سوا بھی زندگی کا کوئی تصور ہے ،۔ہمیں یہ ادراک کرنا چاہئے کہ کشمیری مائیں اپنے لخت جگروں کے لاشے اٹھا کر بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بلند کرتیں ہیں تو حقیقت میں تکمیل پاکستان کی جنگ لفظوں سے نہیں ،نعروں سے نہیں لہو کا خراج دے کر لڑی جا رہی ہے ،کشمیر کی مائیں جو اپنے لخت جگر کے لاشے لحد میں اتار رہی ہیں ،سہاگنیں اپنا سہاگ منوں مٹی کے حوالے کر رہیں ہیں ،بہنوں کے آنچل بھارت کے درندہ صفت فوجی تار تار کر رہے ہیں یہ سب کس لئے ،صرف تکمیل پاکستان کے لئے ،کشمیر کی مثل ارم وادی گلپوش میں لہو کے بہتے دریا ہیں ،ظلم کی داستاتیں اتنی کہ رقم کرنے کے لئے قلم قرطاس کم پڑ جائیں ،کشمیری یہ سب ظلم سہہ کر بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں ،افسوس ہم ہیں کہ سال کے 365دن ظلم کی چکی میں پس کر بھی سورماوں کے سامنے ڈٹ جانے والوں کے نام پر پانچ فروری کو یوم کشمیر منا کر بھی گویا ان کے اوپر احسان عظیم کر رہے ہیں ،،،،

ہاں بے حس اور مردہ قوموں کے لئے یہ بھی تکلیف دہ مقام ہے کہ وہ سال میں ایک دن مظلوم کے نام کر کے دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروائیں ،کچھ لوگ تو یہ تصور کر رہے ہیں کہ ہم یوم کشمیر منا کرکوئی احسان عظیم کر رہے ہیں خدا نخواستہ نہ منائیں تو کشمیریوں کی تحریک ختم ہوگی کشمیریوں کی آزادی تحریک اس بات کی محتاج نہیں کہ کوئی پانچ فروری کو یوم کشمیر مناتا ہے کہ نہیں ،تم مناو یا نہ مناو،،،،کشمیر میں جذبہ آزادی پوری آب تاب سے زندہ و جاوید ہے ،،،

یہ غلط فہمی دور ہونی چاہئے کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے یا نہ منانے سے کشمیریوں کی تحریک پر کوئی اثر پڑے گا ،آزادی کے متوالے دنوں کے محتاج نہیں ہوا کرتے،ہم اگر یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں تو مقبوضہ کشمیر کے اپنے ان بھائیوں سے یکجہتی کے لئے مناتے ہیں جو ستر برس سے بھارت کے مظالم سہہ کر بھی تکمیل پاکستان کی جنگ مسلسل لڑ کر ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ ایک دن منا کر احسان جتاتے والو ،آپ کو اک دن اتنا بھاری پڑ رہا ہے تو زرا سوچو ہم تو ستر برس سے آگ و خون کی وادی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کر کے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اک آپ ہو کہ اس بات پر سیاست چمکا رہے ہو کہ ہم یہ دن نہیں مناتے ،،،،،

یہ پیغام جب مقبوضہ کشمیر میں تکمیل پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ لٹانے والے سرفروشوں تک پہنچتا ہے کہ گلگت بلتستان میں کچھ لوگ یوم یکجہتی اس لئے نہیں منانا چاہتے کہ ان کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کے حقوق میں کشمیری رکاوٹ ہیں تو ان کے سینے پر درد کی اک ضرب لگتی ہے کہ ہم کیا سوچ رہے اور وہ کیا سوچ رہے ،ہم تو اپنی آزادی اور تکمیل پاکستان کی جنگ میں ستر برس سے مصروف ہیں ہم ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ،ہم خود مظلوم ہیں جو اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے تو ہم کہاں سے گلگت بلتستان کو حقوق دلائیں یا ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔

مجھے حیرت ہے ان لوگوں پر کہ جو یہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے حقوق میں کشمیری رکاوٹ ہیں ،یا تو یہ لوگ سیاسی کم علمی کا شکار ہیں ،یا ووٹ کے حصول کے لئے اس طرح کی بونگیاں مار رہے ہیں ،یا اپنی اہمیت جتانا چاہتے ہیں ، یا کشمیریوں سے کوئی بیر ہے ،اور یا ریاست کے بیانیہ کی مخالفت کر کے کسی کو کوئی خاص پیغام پہنچانا چاہتے ہیں،وگرنہ کوئی صاحب ادراک یہ بات نہیں کر سکتا ہے کہ ہم یوم کشمیر نہیں منائیں گے،اور اسی دن حقوق گلگت بلتستان منائیں گے ،حقوق گلگت بلتستان منانا حق ہے لیکن پانچ فروری کو ہی کیوں؟کسی اور دن کیوں نہیں ،یہ وہ سوالات ہیں جس کا جواب کوئی دے یا نہ دے تاریخ تو دے گی اور تاریخ کا جواب بہت ہی بے رحم ہوتا ہے،

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے حقوق میں رکاوٹ کشمیری ہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ حقوق میں رکاوٹ نہ کشمیری ہیں نہ وفاق ہے ۔ حقوق میں رکاوٹ ستر برس سے ووٹ کے لئے مسلک کا چورن فروخت کرنے والے گروہ ہیں ،زاتی مفاد کے لئے قوم سے جھوٹ بول کر اور دائروں میں تقسیم کر کے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی شاہ دولے ہیں ،جس دن ان سیاسی شاہ دولوں اور مسلکی چورن فروخت کر کے مفادات سمیٹنے والوں کے چنگل سے قوم نجات پائے گی حقوق بھی ملیں گے اور شناخت بھی ،،،،حقوق لینے کیلئے صاحب ادراک اور صاحب بصیرت زاتی مفادات سے پاک قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کو زمینی حقائق بتائے ،وفاق کی ملکی و غیر ملکی مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے بیانیہ ترتیب دے ،ایک طرف ریاست سے عشق کی باتیں دوسری طرف ریاست کے بیانئے سے لا تعلقی کر کے ہیرو بننے والے حقوق تو دور کی بات ہے گندم کی بوری نہیں دلوا سکتے ہیں ،

کوئی منائے یا نہ منائے میں تو یوم یکجہتی کشمیر مناوں گا ،مجھے کشمیریوں کی قربانیوں کا بھی ادراک ہے اور جس ریاست سے عشق کادعوی بھی ہے ۔ اس کے بیانئے سے واقف بھی ہوں ،میں ریاست پاکستان سے عشق کرتا ہوں ،عشق میں شرائط نہیں ہوا کرتیں ،عشق کا تقاضہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے آتش نمرود میں کودکر عشق کی منزلوں کو پار کرنا ہے ،مجھے کوئی فکر نہیں کہ یوم یکجہتی کشمیر کون مناتا ہے کون نہیں مناتا میں پاکستانی ہوں ،کشمیریوں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہوں ،میں تو مناوں گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments