لہو رنگ کشمیر اور نریندر مودی کی سفاکیت

تحریر: فیض اللہ فراق

بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مرکزی چوک پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہوا کشمیری نوجوان موت کو گلے لگانے کیلئے بے تاب تھا۔ انڈین سنگینوں کے سایے میں ظلم و ستم کی تاریخ لکھی جارہی تھی مگر عثمان بٹ انجام سے بے خبر بے خوف آگے بڑھتے ہوئے ہندوستانی مظالم کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ ایک ہجوم تھا جو نریندر مودی کی بربریت کے خلاف بپھرا ہوا جو یقین کی حد تک آزادی کی شمع روشن کرتے ہوئے آزادی کا نعرہ مستانہ بلند کر رہا تھا۔

ایسے میں انڈین فوج کی ظالمانہ بوٹوں کا زلزلہ اور بے رحمانہ گولیوں کی تڑ تڑاہٹ نے آسمان و زمین کی وسعتوں کو زہر آلود بنادیا جبکہ دوسری جانب جمہوریت کا راگ الاپنے والی بھارت کا دہرا معیار سامنے آیا وہ ہندوستان جو جمہوری ہونے کا دعویدار آج تک دنیا کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرتے ہوئے جموں کے علاقوں میں خوف اور بربریت کی داستان رقم کی جا رہی ہے ایسے میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔

کشمیر میں گزشتہ ستر برسوں سے جاری کشت و خون جاری ہے ۔آئے روز وہاں ماوں بہنوں کی عزتیں تار تار کی جا رہی ہیں۔۔۔ انسانی قدریں پائمال ہیں اور اب تک لاکھوں مظلوم کشمیری اپنی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

پاکستان بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 5 فروری کو ہر سال مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔

1990 کی دہائی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 فروری کا دن موزوں قرار دے کر سرکاری سطح پر منانے کا مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ اس وقت کی حکومت تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ دن کو مقبوضہ کے مظلوم کشمیریوں سے منسوب کیا۔ ہر سال اس دن پوری دنیا میں کشمیریوں سے یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد کشمیر کی آزادی سے وابستگی اور ان کے ساتھ حق خودارادیت کی حمایت ہے ۔ پورے ملک میں اس دن ریلیوں کے ذریعے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کو یہ پیغام دینا ہے کہ کشمیر میں نریندر مودی کا ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے قدم قدم پر انسانی حقوق سلب ہیں اور وادی میں ہنوز کرفیو کا سماں ہے ۔

پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان میں بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا دن جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔اس دن تمام اضلاع میں سرکاری اور نجی سطح پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور تقریبات و سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

گلگت بلتستان کی عوام جدوجہد کشمیر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔یہاں کے مکینوں کا کشمیریوں سے تعلق روحانی ہے اور یہ رشتہ بڑا اٹوٹ ہے۔ یہ یکجہتی مقبوضہ کے ان دلیر بہادر اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے جو انڈیا کے سات لاکھ سے زائد جابر فوج کے خلاف طاقت ایمانی سے برسر پیکار ہیں۔بھارت کے نریندر مودی کی یہ بھول ہے کہ طاقت کے ذریعے جدوجہد آزادی کو دبایا جائے کیونکہ آزادی کے اس سفر میں اب انگنت برھان وانی موجود ہیں جو جدوجہد کو نیا موڑ دیتے رہیں گے اور ایک دن ضرور آزادی کی نوید ملے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments