معصوم دیدار کا وحشیانہ قتل۔۔۔ اور چند نفرتوں کے سوداگر! 

محمد الکوہستانی 

ماں دھرتی غذر ایمت میں ایک معصوم بچے کو جس درندگی، وحشت اور بے دردی کا نشانہ بنایا گیاہے، اس کی مذمت کیلئے الفاظ کم، جملے ناقص اور تعبیرات(expressions) کم پڑ رہی ہیں، پل بھر میں عزت اور معصومیت سے خراج وصول کرنے کے بعد موت کی وادی میں دھکیلنے والے جانوروں کو کیا پتہ کہ اولاد کیسے جوان ہوتی ہے؟ عزتوں کے بیو پار کرنے والے بردہ فروشوں کو کیا معلوم کہ آبرو، عصمت اور عزت کتنی قیمتی چیز ہواکرتی ہے؟ اس لئے ہماری دلی ہمدردیاں، دعائیں اور ہر طرح کا تعاون مظلوم بچے کے والدین، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ہیں، اللہ تعالی ان بیچاروں کے دلوں پر صبر و سکینہ نازل کرے، ان کا غم کا ہلکا کرے، صبر کی توفیق عطافرمائے۔ وہ الگ بات ہے کہ اولاد کی جدائی کا زخم وہ بھی ایسے ناگہان طور پر ہو تو کہاں اتنی جلدی بھر سکتاہے


بہرحال اتنی بات پر خوشی ہے کہ قاتل گرفتار ہوچکے ہیں، اور اپنے اس گھناونے فعل کا اعتراف بھی کرچکے ہیں ، ان شاء اللہ جلد یا بدیر اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ حکومت سے بھر پور مطالبہ ہے کہ ایسے کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ، فنگر پرنٹس سمیت تمام شواہد کی مدد سے اصل مجرموں تک پہنچ کر ان کو سزا دلوانے میں کوئی کسر نہ باقی نہ چھوڑے۔ 


کاش کہ وطن عزیز میں اسلامی حدود کا نفاذ ہوتا تو کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ ہوتی، امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف بد فعلی کے مرتکب خبیثوں کی سزا یہ ہے کہ ان کو پہاڑ سے گراکر پتھر ماریں جائیں1 اور اگر اس کیلئے انہوں نے زبردستی کی ہو ڈرایا دھمکایا بھی ہو، تو اب اس پر محاربہ( Terrorism) کا دفعہ بھی لگے گا2 جس کی سزا قرآن کریم سورہ مائدہ کی آیت 33 میں بیان کی گئی ہے ترجمہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا صولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں۔3 خود ہی سوچیئے اگر چند درندوں کو یہ سزا ملتی تو کیا آئندہ کسی کی ہمت ہوتی؟ 


البتہ یہاں دو باتیں مزید عرض کرنا چاہتاہوں۔
1۔ مجرم، قاتل یا چور کی شناخت صرف اور صرف اس کاجرم ہے، کوئی دوسری شناخت نہیں، اس لئے ایسے معاملات میں کسی کی مذمت یا تائید کیلئے ہر گز اس کے مذہب، فقہ یا علاقہ کی شناخت کا سہارا نہ لیا جائے، کیونکہ مجرم جو بھی ہو اور جہاں بھی اس کا ایک ہی نام ہے مجرم۔ اور اسی کے مطابق اس کو ٹریٹ کیاجائے۔
2۔ ایسے موقعوں پر چند آشفتہ فکر قلمکاروں کو نہ صرف مذہبی چورن بیچنے کا شوق ہوتاہے بلکہ وہ اپنے سیاسی نفرتوں کے اظہار اور سستی شہرت کی بھوک مٹانے کیلئے بھی ایسے وقت کو غنیمت سمجھتے ہیں، بعض لکھاریوں کا گلگت بلتستان کی منتخب سیاسی قیادت کیلئے ” ملاں” مولوی” اور اس طرح کے تمسخرانہ جملے اور طنزیہ طرز نگارش اختیار کرنا بھی اسی ذہنی ہسماندگی کی عکاسی ہے۔
اس لئے میری تمام عزیز بھائیوں اور بہنوں سے گذارش ہے کہ سب مل کر جرم کے خلاف اپنا کردار اداکیجئے، مجرم کو سزا دلوانے کی کوشش کیجئے، ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کیجئے، کیونکہ نفرتوں کا بیوپار، اور دشمنیوں کی سوداگری کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔
رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے!
مجھے اپنے ایک افریقن دوست کا جملہ یاد آرہاہے جو انہوں نے ایک عرب لڑکے کو مخاطب کرکے کہاتھا:
If someone treats people on the basis of caste, colors and creeds or as they are beneath him/her, it means that
that person has serious mental problems!

حوالہ جات۔

1.السرخسي، محمد بن أحمد، المبسوط، كتاب الحدود، بيروت: دار المعرفة – سنة 1993م ج9/ص 77
2. عودة، عبد القادر، التشريع الجنائي الإسلامي مقارناً بالقانون الوضعي
بيروت: دار الكاتب العربي، الكتاب الخامس الحرابة، ج2/240
العثماني، محمد تقي، آسان ترجمة ، كراچی: مکتبہ معارف القرآن ج1/ص 334

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments