غذر میں درندگی کی انتہا

تحریر: دردانہ شیر

گلگت بلتستان کا ضلع غذر خطے کے پرامن علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور اس ضلع کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس وادی کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ غذر کی اپنی ایک تاریخ ہے، جنگ آزادی گلگت بلتستان ہو 65اور71کی جنگیں ہو یا کرگل وار، یہاں کے سپوتوں نے بہادری کی لازوال دستانیں رقم کی ہے۔

غذر کے ہر گاؤں میں گلشن کی آبیاری کے لئے دی جانے والی قربانیوں کی نشانی ہر گاؤں میں شہیدوں کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر کے طور پر موجود ہے۔ کرگل وار میں شہید لالک جان نشان حیدر نے بہادری کی وہ لازوال دستانیں رقم کی جس کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔

ایک طرف یہاں کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں تو دوسری طرف اس علاقے کو اگر ترقی کے میدان میں دیکھا جائے تو وقت کے حکمرانوں نے اس علاقے کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ موجودہ مسلم لیگ (ن) کی گلگت بلتستان کی حکومت نے تو حد کر دی کہ اپنے چار سالہ دور میں کوئی ایک بھی ایسا منصوبہ اس ضلع کو نہیں دیا جس کی تعر یف کی جائے۔ ہاں ہمارے وزیر اعلی کا غذر کے عوام پر ایک احسان ضرور ہے کہ انھوں نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں گاہکوچ کے نواحی گاؤں گورنجر کے قریب گلگت چترال ایکسپریس وے کا ایک ہزار گز ٹکڑے کا افتتاح ضرور کیا ۔ سی ایم صاحب کو اس روڈ کے ٹکڑے کا افتتاح کئے تین سال ہونے کو ہے جہاں سے روڈ کا افتتاح کیا تھا وہاں سے آگے ایک گز سڑک کی تعمیر کاکام شروع نہ ہوسکا۔

اپنے دورہ غذر کے موقع پر کئی بار گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا اعلان کیا اور گلگت سے گاہکوچ تک ایکسپریس وے تعمیر کرنے کے لئے ڈیڑھہ ارب روپے مختص کرنے کی عوام کو خوشخبری سنائی مگر مسلم لیگ کی حکومت کو اب گلگت بلتستان میں حکومت کئے چار سال پورے ہونے کو ہے اس اہم شاہراہ پر ایک پیسے کا کام نہیں ہوا۔

اپنے دورہ غذر کے موقع پرشیر قلعہ آر سی سی پل کا پچھلے سال اکتوبر میں تعمیر مکمل کرنے اور افتتاح کرنے کی نوید سنائی مگر پل پچھلے سال تعمیر کی جس پوزیشن میں تھی اب بھی اسی حالت میں ہے۔ آخر سی ایم گلگت بلتستان کا غذر کے ساتھ اس طرح کی امتیازی سلوک روا رکھنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا غذر کو اس وجہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ غذر کے عوام نے الیکشن کے دوران مسلم لیگ کے تینوں امیدواروں کو کامیاب نہیں کرایا اگر واقعی میں ایسا ہے تو کیا آئندہ آنے والے الیکشن میں سی ایم کو یہ بھی سوچناہوگا کہ اس وقت تو ان کے نامزد کردہ امیدواروں کو لوگوں نے ہزاروں میں ووٹ بھی دئیے تھے شاید آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو پھر اس سے بھی بدتر صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

غذر کے عوام تو دور کی بات ہے خود مسلم لیگ (ن) کے اہم کارکن بھی غذر کے ساتھ امتیازی سلوک پر زیر زمین چلے گئے ہیں اور بہت جلد کئی اہم رہنما (ن) لیگ کو خیر باد کہنے والے ہیں جس کی ایک تازہ ترین مثال کرنل (ر) کریم احمد شاہ ہے جس نے ہر مشکل وقت میں مسلم لیگ کے ساتھ دیا ان کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے قیمتی اثاثہ سلطان مدد بھی مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کی غلط پالیسوں کی وجہ سے گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ غذر کے ساتھ حکومت وقت کی امتیازی سلوک ختم ہونے میں اب زیادہ عرصہ نہیں بچا ہے اور اب موجودہ حکومت چاہے تو بھی کچھ نہیں کرسکتی۔ کبھی کہا گیا کہ سی پیک میں گلگت چترال روڈ منظور کرایا گیا تو کبھی پھنڈر 87میگاواٹ کی بات کی گئی، مگر وہی ہوا جس کی امید تھی۔ تمام کے تمام اعلانات ہوائی ثابت ہوئے۔

ہمارے صوبائی وزیر سیاحت فدا خان فدا کا کہنا ہے کہ وفاق کی حکومت گلگت چترال روڈ بنانے میں مخلص نہیں اگر ایسی بات تھی تو آپ کی جب وفاق میں حکومت تھی تو اس وقت غذر کی تعمیر وترقی میں کیا تیر مارے تھے؟ میں تو اب معاملے میں مزید بحث کرنا ٹائم کا ضیاع سمجھتا ہوں۔

اب آتے ہیں غذر کے اس دردناک سانحے پر جس کے بارے میں سوچ کر انسان کا جسم کانپ جاتا ہے۔ چودہ سالہ طالب علم دیدار حسین چار فروری کو اچانک گھر سے غائب ہوجاتا ہے۔ بچے کے والدین شام تک گھر نہ پہنچنے پر پریشانی کے عالم میں اپنے رشتہ داروں کو فون کرتے ہیں۔ شدید برف باری ہورہی ہے۔ بچے کے والدین اور رشتہ دار ان کی تلاش جاری رکھتے ہیں مگر رات گزر جاتی ہے اور تلاش دوسری دن بھی جاری ہے کہ آخر بچہ گیا تو کہاں گیا۔

پولیس تھانہ ایمت میں دیدار حسین کے والد بچے کی گمشدگی کا درخواست دیتا ہے۔ پولیس اور اہل علاقہ تلاش شروع کرتی اور بچے کی لاش دریا سے مل جاتی ہے۔ جہاں درندہ صفت ملزمان نے درندگی کی آخری مثال قائم کرتے ہوئے نہ صرف قتل کر دیا بلکہ قتل سے قبل اس معصوم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔ اس درندگی پر پورے غذر میں تاحال سوگ کا عالم ہے۔ دوسری طرف اس بچے کے والدین ہیں جو تاحال غم سے نڈھال ؟مگر ہمارے حکمران ہیں جن کو اسلام آباد کا خوشگوار موسم گلگت بلتستان آنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ اس معصوم کے ساتھ درندگی کھیل کھیلنے والے ملزمان کو گرفتار کرنے کا پولیس نے دعوی ٰکیا ہے۔ افسوس تو اس بات کی ہے کہ غذر میں اتنا بڑا واقعہ ہوا مگر عوام کے منتخب نمائندوں نے شہید دیدار حسین کے گھر جاکر تعزیت کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔ یہاں تک کہ غذر کے منتخب ممبران بشمول ایک صوبائی وزیر کے چپ کا روزہ رکھے ہوا ہیں۔

میں سلام پیش کرتا ہوں پاک ارمی کے بہادر سپوت میجر جنرل احسان محمود خان کو جس نے صاف صاف کہہ دیا کہ دیدار حسین کے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لئے پاک فوج گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس بیان پر شہید دیدار حسین کے والدین کو تسلی تو ہوئی کہ کوئی تو ہے جو ان کے دکھ کی ا س گھڑی میں شامل ہے۔ مجھے تعجب یہ ہوتا ہے کہ جس وقت میجر جنرل احسان محمود خان نےاس حوالے سے بات کی تو اسی وقت غذر کے دو اہم سیاسی شخصیات بھی موجود تھے، مگر ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔

حالانکہ وزیر موصوف نے ایک گھنٹہ کی لمی چوڑی تقریر کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے یہ منتخب لیڈر جو ووٹ کے دوران تو خوشی یا غم میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی اصلیت تب سامنے آتی ہے کہ یہ لوگ اپنے ووٹروں کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔

قارئین کرام برادرم ایمان شاہ نے اپنے کل کے کالم میں اس حوالے سے پوری تفصیل لکھی ہے۔ اس لئے مزید کچھ لکھنے کے لئے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں۔ ہاں اگر منتخب عوامی نمائندوں اور وزراء کے پاس اگر فارغ وقت ہو تو ایک بار ضرو ر طالب علم دیدار حسین کے والد سے ملنا تاکہ پتہ چلے کہ معصوم بیٹا اگر درندوں کے زد میں آ ئے تو والدین پر کیا گزرتی ہے۔

صوبے کے گورنر اور وزیراعلی اتنے مصروف ہیں شاید ان کے پاس دیدار حسین شہید کے باپ سے ملنے کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ دونوں آج کل اپنے سیاسی معاملات میں اسلام آباد میں سخت مصروف ہیں۔ شاید مارچ میں گلگت بلتستان میں موسم بہار آجائیں تو وہ اس خطے کا رخ کرنے کے لئے ٹائم نکال سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments