ہماری عورت اور ہمارا مرد

تحریر شمس الحق قمر ؔ

اللہ تبارک وتعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے ( مفہوم ) اور جو کوئی نیک عمل کرے گا،وہ مرد ہو یا عورت بشرط وہ مومن ہوتو ایسے لوگ جنت میں داخل ہونگے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہی وسلم نے فرمایا “عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو‘‘

آج پوری دنیا میں عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد عورتوں کے حقوق کی پاسداری ہے ۔ ہم اس مضمون میں عورتوں کے حقوق کے علاوہ اپنے علاقے میں عورتوں کے حقوق اور انہیں درپیش مسائل پر بحث کریں گے ۔ عورت اُن تمام انسانی حقوق کی حقدار ہے جو اس کرہ ارض پر ایک مرد کو حاصل ہیں جیسے :
زندہ رہنے کا حق
اظہار رائے کا حق
طعام ق قیام اور لباس کا حق
یہ عورت کے وہ بنیادی حقوق ہیں جو فطری طور پر اُنہیں ملنے چاہیئے ۔ معددودے چند دنیا میں کوئی مذہب اور معاشرہ ایسا نہیں رہا ہے جس پر مردوں کا تسلط نہ رہا ہو خاص کر ایشیا ئی ممالک میں مرد تلوار کی دھار بن کر عورت کے سر پر لکٹتا رہا ہے ۔ ہم دور کیوں جائیں اپنے ہمسائے ملک میں ہندوں کے رسم و رواج پر نظر ڈالیے شوہر کی چتا پر اس کی بیوہ کو جلایا جاتا تھا لیکن آج وہ بھی عورت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ سب اسلام کی برکت ہے کہ تمام عالم کو انسانیت کا درس دیا گیا ۔

ہمارے نبی پاک نے فرمایا ” مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے” یہاں لفظ “پسند” سے مراد عورت کی قد رو منزلت ہے کیوں کہ عورت ہی ہے جس کی وجہ سے مرد کا وجود ہے ، وہی ہے جس کے پاو ں کے نیچے جنت ہے اور ہی ہے جو باعث رحمت ہے ۔ لیکن افسوس یہ کہ ہم ، خاص طور پر مسلمان، ایک طرف اسلامی تعلیمات کی پیروی کے دعویدار ہیں اور دوسری طرف نبی کریم کی تعلیامت اور احکام خدا وندی سے رو گردانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ ہم نے خواتین پر جسمانی تشدداور جنسی تشدد کے علاوہ عزت کے نام پر قتل و غارت کو بھی اسلامی اصولوں کے زمرے میں پیوست کیا ہوا ہے ۔ دنیا کی تمام اقوام آج اسلام کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں لیکن ایک ہم ہیں جو اسلام کی وسیع تعلیامت کو اپنے انداز سے تشریح کرتے ہوے عورتوں کے زندہ رہنے تک کے حق کو پامال کیا ہے ۔ ایشیائی ممالک میں ہم دو، یعنی ہم اور ہمارا قریبی مسلمان ملک افغانستان، ہی رہ گئے ہیں جو کہ ترقی کے اس دور میں بھی عورت کو ایک الگ مخلوق تصور کر کے اُن پر آئے دن ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔ افغا نستان بشمول پاکستان کے کچھ علاقوں میں عورت کو عام جانوروں کی صف میں رکھا جا تا ہے ۔
سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی فعل جس کا ارتکاب عورت کرے تو واجب القتل اور مرد کرے تو بہادر ۔آج کے اس دن کو منانے کا مطلب عورتوں کو اُن کے وہ حقوق دینے ہیں جو اسلام نے انہیں ودیعت فرمایا ہے ۔ جن میں زندہ رہنے کا حق، خاندان میں فیصلہ سازی میں شمولیت کا حق ، تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اظہار رائے کا حق شامل ہے ۔ میری مرد حضرات سے گزارش ہے کہ وہ بھی تھوڑا سا احترام سیکھیں ۔ ہم سب میں سے کونسا مرد ایسا ہےجو بازار میں کسی ضروری کام سے نکلی ہوئی خاتون کو گردن ٹیڑٰھی ہونے تک نہ گھورتا ہو ۔ ہمارے یہاں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں عورت کو قیدیوں کی طرح رکھا جاتا ہے ایسے میں کوئی اور عورت اُسی علاقے میں باہر نظر آجائے تو مرد حضرات ایسے تکتے ہیں جیسے انہوں نے زندگی میں کبھی عورت نہ دیکھی ہو ۔ پھر دعویٰ یہ ہے کہ دنیا میں کونسی قوم ایسی ہے جو ہم سے بڑھ کر عورت کو عزت دیتی ہو۔
ساحر لدھیانوی نےاپنا احتساب ان الفاظ میں کیا ہے ؎
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

آج چونکہ ہم عورتوں کا دن منا رہے ہیں اور ہمیں اپنے سوال کرنا ہوگا کہ ہم کہاں تک درست راستے پر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments