صوبائی حکومت ایک چپراسی بھرتی نہیں‌کرسکتی داریل تانگیر کو ضلع کیسے بنائے گی؟‌، حیدر خان وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن

چلاس(بیورورپورٹ) چلاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حیدر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت ایک چپڑاسی تک بھرتی نہیں کرسکتی تو داریل تانگیر کو ضلع بنانے کا اعلان کیسے کریگی،ضلع کا اعلان کرنا تو آسان ہے لیکن اُس اعلان کوعملی جامہ پہنانا مشکل نظر آرہا ہے،صرف اعلان کرنا ہے تو وہ اعلان میں بھی کرسکتا ہوں لیکن ضلع کے اعلان کے بعد تمام تر لوازمات پورے کرنے کیلئے بجٹ کی ضرورت ہوتی جو کہ صوبائی حکومت کے پاس نہیں ہے ،فیڈرل حکومت داریل تانگیر کو ضلع بناسکتی ہے اور یہ ان کا مسلہ ہے کیوں کہ فنڈ فیڈرل حکومت دیتی ہے ،اگر صوبائی حکومت نے داریل تانگیر کو ضلع بنانے کا اعلان کیا تو وہ صرف اور صرف اعلان ہی رہے گا عملدرآمد ہونا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ اب داریل اور تانگیر کی عوام ایک ضلع کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع بنایا جائے، عوام کا یہ مطالبہ جائز ہے کیوں کہ ماضی میں داریل اور تانگیر سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹے چھوٹے پہاڑی علاقوں کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تانگیر اور داریل گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے،لہذا داریل اور تانگیر کو دو الگ الگ اضلاع بناکر گلگت بلتستان کو مظبوط اور مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حیدر خان سے مقامی صحافی نے سوال کیا کہ سنا ہے وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دیامر سے لائی جارہی ہے اور آپ وزیر اعلی کے اُمیدوار ہیں اس میں کتنی حد تک صداقت ہے؟صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حیدر خان نے کہا کہ یہ آف دی ریکارڈ باتیں ہیں سردست ہمیں اس کا علم نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم جیسے غریبوں کو کون ووٹ دے کر وزیر اعلی بنائے گا۔حیدر خان نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد لانے کیلئے وہاں پر کوئی طاقت موجود نہیں ہے،اگر کوئی تبدیلی لارہے ہیں تو اُس کا مجھے پتہ نہیں، وزیر اعلی کی تبدیلی کے بارے میں علم نہیں رکھتا ہوں۔حیدر خان نے گلگت بلتستان کے اندر 2020کے الیکشن اور سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2020میں گلگت بلتستان کے اندر کوئی بھی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب نہیں ہوگی ،ایک لولی لنگڑی مخلوط حکومت بنے گی،تین چار سیٹیں پیپلز پارٹی لے گی ،چار پانچ تحریک انصاف لے گی اور چار پانچ ن لیگ لے گی ایک آدھ نشست مذہبی جماعتیں لیں گی اور ایک ہینگ حکومت بنے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments