محترم وزیراعلی صاحب صحافی برادری تیار ہے

تحریر: معراج علی عباسی

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گزشتہ روز غذر پریس کلب کے نومنتخب کابینہ کے حلف برداری اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کے صحافی برادری کو آڑے ہاتھوں لیتے ھوے مفت میں ایک مشورہ دیا اور ساتھ صحافیوں کے لئے یورپ میں موجود صحافتی قانون رائج کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلی نے  بظاہر تو مشورہ دیا، لیکن اس مشورے میں ‘سدھر جاو، ورنہ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں’ کی دھمکی بھی عیاں تھی۔

محترم وزیراعلی نے  پریس کلبوں کے  آئین میں موجود حلف نامے میں ترمیم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوے  پریس کلبوں میں موجودہ حلف نامے میں ترمیم کرکے اس میں جھوٹ نہ بولنے ،غلط خبر نہ لکھنے ،کسی کی پگڑی نہ اچھالنے اور لوگوں کو بیلک میل نہ کرنے کے الفاظ شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور  ساتھ ہی متحرم وزیراعلی نے اعلان کرتے ہوے کہا کہ ہم بہت جلد  قانون سازی کے ذریعے غلط خبر اور پروپیگنڈا کے زریعے عزت دار  لوگوں کی پگڑیاں  اچھالنے والوں کے خلاف قانون بنارہے ہیں ۔ محترم وزیراعلی نے یورپ میں صحافیوں کے لئے موجود قوانین کو گلگت بلتستان کے صحافیوں پر لاگو کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔  وزیراعلی نے یورپی صحافتی قوانین کی ایک شق کی باقاعدہ تشریح کرتے ہوے کہا کہ جھوٹ  بولنے اور غلط خبر لکھنے والے صحافی پر مستقل پابندی ہوگی ۔محترم وزیراعلی گلگت بلتستان نے صحافیوں کے لے موجود حلف نامے میں جو  اضافی الفاظ یاشق  شامل کرنے کا ارادہ کیا ہے وہ قابل غور ہیں۔ حلف نامے میں یہ الفاظ ضرور شامل ہونے چاہیے۔ سزائیں بھی ہونی چاہیے۔ اس سلسلسے میں صحافی تیار ہیں۔لیکن ایک سوال بہرحال اٹھتا ہے، کہ کیا انہی شقوں اور باتوں کو سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے حلف میں بھی شامل نہیں ہونی چاہیے؟ کیا صرف صحافی جھوٹ بولتے اور لکھتے ہیں؟ سیاستدان جھوٹ نہیں بولتے؟ سیاستدان ایک دوسرے کی پگڑی نہیں اچھالتے ہیں؟ بیوروکریٹس اور سیاستدان رشوت ستانی، اقربا پروری اور کمیشن خوری میں ملوث نہیں ہیں؟

محترم وزیراعلی صاحب، کیا  آپ یہ ضرورت  محسوس نہیں  کرتے کہ سیاستدانوں  بیوروکریسی اور ٹھیکیداروں  کے  حلف نامے بھی نئے سرے سے لکھے جائیں؟ تاکہ وہ بھی عوام سے جھوٹ نہ  بولنے ،کمیشن  نہ لینے،  نوکریاں فروخت نہ کرنے ،روز اپنے مخالف پارٹی  کے سیاسی دوستوں کے سیاسی ،ذاتی اور،خاندانی صفات بھرے بازار بیان نہ کرنے، رشوت نہ لینے ،اقربا پروری نہ کرنے  کا حلف صدق دل سے لیں؟محترم وزیراعلی صاحب  صحافی بعض اوقات اس لئے جھوٹے کہلاتے ہیں کیونکہ وہ سیاستدانوں کی جھوٹی خبریں شائع کرتے ہیں۔ صحافی جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان پر تو مدیر کی نظر بھی ہوتی ہے اور عوام کی بھی۔ جو الفاظ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے لئے آپ سیاستدان استعمال کرتے ہیں، مثؒا اپنے مخالفین کو عوامی مجمعات میں بغیر ثبوت چور ،ڈاکو، کمیشن خور ،بوٹوں کی پیداوار،مودی کا یار، را کا ایجنٹ، باپ بیٹا چور ،باپ بیٹی چور ،کرپٹ ،یہودی ایجینٹ وغیرہ وغیرہ کے الفاظ  استعمال کرنے والے کون ہیں؟محترم وزیراعلی صاحب  سرکاری نوکریاں فرخت کرنے ، حکومتی خزانے سے عوام کی فلاح و بہبود اور علاقائی ترقی کے لے ملنے والی رقم کو پی ڈبلیو ڈی اور دیگر اداروں  کے افسران کے ساتھ ملکر غبن کرنے، ٹھیکیداروں سے کمیشن لینے، چور دروازوں سے اقتدار میں آنے ، اقتدار میں آنے کے لئے فرقہ اور زبان و نسل کو استعمال کرنے، چوری اور ڈاکہ کے ذریعے مال بنانے کے الزامات تو آپ سیاستدان ایک دوسرے پر لگاتے رہے ہیں۔ صحافی تو لکھنے اور بولنے کی مزدوری کرتے ہیں۔

محترم وزیراعلی، بسمہ اللہ کیجئے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان کے پریس کلبوں کے حلف ناموں میں  اور بیوروکریٹس کے حلف ناموں میں ایک ساتھ تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ہم صحافی تو تیار ہیں۔ آپ بھی اپنے ساتھیوں اور وفاداروں کو راضی کر لیجئے۔محترموزیراعلی صاحب، آپ کا صحافیوں سے شکوہ ،آپ کی کابینہ کے وزیر سیاحت فدا خان فدا کا غصہ اور آپ کے مشیرخوراک غلام محمد کا اشارہ کنایوں میں صحافیوں کو نشانے پر لینا  اتفاقیہ تو نہیں ہے۔ بظاہر ضلع غذرمیں آپ کی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، جبکہ دوسری طرف آپ کی مخالفت ضلع غذر میں مزاحمتی صحافت کے وجود کی دلیل ہے۔محترم وزیراعلی صاحب آپ نے کہا کہ میڈیا لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ نہیں جناب ایسا بلکل بھی نہیں ہے ۔ آپ سیاست دان اور بیوروکریسی ملکر میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔کیونکہ میڈیا تو وہی بتاتا اور دکھاتا ہے جو آپ صاحبان فرماتے ہیں۔محترم وزیراعلی صاحب آپ نے بیوروکریسی کے دو افسران فواد حسین اور احد چمہ کو پاکستان کے قابل ترین، قوم کے لے دن رات کام کرنے والے، ایماندار ،دیانتدار ،غریب  دوست اور قوم کے لیے درد رکھنے والا افسران قرار دیا اور گلگت بلتستان میں بھی “پنجاب ماڈل” رائج کرنے کا اعلان کیا ۔جب کہ آپ کے سیاسی دوست پی ٹی آئی والوں  نے ان ہی  افسران کو اختیارات کے غلط استعمال، ناجائز طریقے سے جائیداد بنانے، قومی خزانے کو سیاسی آشیرواد سے لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔محترم وزیراعلی صاحب آپ ہی بتائیں آپ دونوں میں سے سچا کون اور جھوٹا کون ہے؟

محترم وزیراعلی  صاحب آپ  نوز شریف کو قائد،محسن ،ترقی کی علامت کہتے ہیں جبکہ پی پی پی ،پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں انہیں لٹیرا،ڈاکو، قومی مجرم وغیرہ کہتے ہیں،ایسے ہی خیالات آپ سب ملکر زرداری،عمران خان،فضل الرحمن،اسفندیار ولی اور دیگر سیاسی قائدین کے بارے میں رکھتے ہیں اور سر عام میڈیا پر اور جلسوں میں اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کی تقریر ،میڈیا ٹاک ،انٹرویوز کا آغاز بسم اللہ کی بجاے ایک دوسرے پر تنقید سے ہوتی ہے۔محترم وزیراعلی صاحب ہم لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگر کسی علاقے کی سڑکیں کھنڈر ہیں، ہستپال ادویات اور سہولیات سے خالی ہے، سکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں، ٹھیکیدار حکومتی پشت پناہی میں عوامی فلاح کے منصوبے ناکام بنا رہے ہیں، اور لوگوں کو بنیادی انسانی فراہم نہیں ہورہی ہیں، تو کیا یہ حقائق لکھنا، ان حقائق کے بارے میں عوام کی رائے شائع کرنا، اور حکومت اور بیوروکریسی کو آئینہ دکھانا غلط ہے؟ اگر کسی نے یہ سب کیا تو کیا غلط کیا؟

محترم وزیراعلی صاحب، گلگت بلتستان کے صحافی پریس کلبوں کے حلف ناموں میں تبدیلی اور یورپین ممالک میں صحافیوں کے لئے رائج قوانین اپنانے کے لئے تیار ہیں۔ آئیں، صحافی،سیاستدان،بیوروکریسی ،ٹھیکیدار برادری اور بازار کمیٹی کے ممبران سمیت ہم سب سچ بولنے اور حق بات کہنے، ایماندار ہونے، رشوت اور کمیشن نہ لینے، اور عوام کو گمراہ نہ کرنے کا حلف لیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments