اسپیشل اولمپکس گیمز ابو ظہبی میں گولڈ اور سلور میڈلز

رپورٹ: حیدر بدخشانی

 اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ قدرت کے عطا کردہ ان نعمتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اگر انسان کو بہتر پرورش اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ مواقع بھی میسر ہوں تو ہر قدم پر کامیابی او ر نیک نامی نصیب ہوتی ہیں۔ کھیل کے میدان میں کامیابیوں کے سفر کو ممکن بنانے اور نو جوانوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو منظرِ عام پر لانے میں میں آغا خان یوتھ اینڈ سپورٹس بورڈ کی خدمات قابل تحسین ہے۔ کئی دہائیوں سے آغاخان یوتھ اینڈ سپورٹس بورڈ کی محنت اور کاوشوں سے چپورسن میں نوجوانوں کے لئے کھیل کود اور دیگر صحت افزا پروگرامز اور مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں ۔ جن کی بدولت نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے مواقع ملتے ہیں۔ اور یہ نوجوان آگے جاکر اپنے خاندان، ملک اور جماعت کا نام روشن کرتے ہیں۔

چپورسن گوجال ہنزہ سے تین ہونہار بیٹیوں نے ابوظہبی اور دبئی میں ہونے والے ورلڈ اسپیشل اولمپک گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار پرفارمنس پیش کی اور پاکستان کے لئے گولڈ اور سلور میڈلز حاصل کیے۔ فرزانہ رحمت علی بولنے اور سننے کی نعمت سے محروم ہے ۔ فرزانہ نے ابو ظہبی میں ہونے والے ورلڈ اسپیشل اولمپکس میں پاکستان کے لئے لانگ جمپ کیٹگری میں گولڈ میڈل، شاٹ پوٹ کیٹگری میں گولڈ میڈل اور دو سو میٹر ریس میں سلور میڈل حاصل کر کے ورلڈ سٹارہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ فرزانہ دنیا کی پہلی اسپیشل ایتھلیٹ ہے جس نے ایک ایونٹ Event)) میں تین میڈلز حاصل کی ہے۔ ورلڈ اسپیشل اولمپکس میں حصہ لینے سے قبل کراچی میں ہونے والے میراتھن ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ملک اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ اس سے قبل سال 2018 میں فرزانہ نے اسپیشل اولمپکس پاکستان میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور میں اسپیشل اولمپکس پاکستان میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے 200 meters ریس میں سلور اور ریلی ریس میں گولڈ میڈل کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

اس کے علاوہ چپورسن کی ایک اور ایتھلیٹ سبینہ اسلام نے اسپیشل اولمپک گیمز ابو ظہبی اور دبئی میں پاکستان کی طرف سے حصہ لیا اور 400 میٹر ریس میں سلور میڈل اپنے نام کیا۔

اس سے قبل 2018 میں سبینہ ا سلام نے اسپیشل اولمپکس پاکستان میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور پاکستان میں منعقد ہونے والے اسپیشل اولمپکس میں گولڈ اور سلور میڈلز حاصل کئے۔ انھوں نے 200 Meters میٹر ریس میں بہتر کارکردگی دکھا کر سلورمیڈل اور ریلی ریس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

نجیبہ زرین اور فرزانہ رحمت دونوں بہنیں ہیں ۔ نجیبہ زرین بھی گویائی اور سماعت کی نعمت سے محروم تھی لیکن دبئی میں اولمپکس گیمز کے دوران ڈاکٹر سے طبی معائنے کے بعد نجیبہ کے لئے آلہء سماعت لگادیا گیا اور اب وہ سُن سکتی ہے جس سے اس کی زندگی میں یک دم تبدیلی آگئی ہے۔ نجیبہ زرین اسپیشل اولمپکس ابوظہبی میں پاکستان باسکٹ بال ٹیم کا حصہ تھی اور پاکستان کی ٹیم نے اسپیشل اولمپکس میں چمپئین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی طرح نجیبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

اسپیشل اورلمپکس میں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد ان تینوں اتھلیٹس کا پاکستان آمد پر سرکاری نمائیندوں، سول سوسائٹی کے افراد اور پاکستان بھر سے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرا دنے شاندار استقبال کیا۔ گلگت بلتستان آمد پر حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ خان نے گلگت میں استقبال کیا اور حکومت کی طرف سے ان کو انعامات سے نوازا۔ اس کے علاوہ چیف سکریٹری گلگت بلتستان نے ان اتھلیٹس کو دعوت دیکر ان کو انعامات کے ساتھ گورنمنٹ آف گلگت بلتستان کی طرف سے اعزازی شیلڈ پیش کیا اور ان داد دیا۔ فورس کمانڈر گلگت بلتستانے بھی ان اتھلیٹس کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا اور پاکستان کا نام روشن کرنے پر ان کو انعامات سے نوازا۔

اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ ہنزہ نے بھی ان ہونہار اتھلیٹس کا والہانہ استقبال کیا۔ اسماعیلی ریجنل کونسل ہنزہ کے صدر اور دیگر ممبران نے بھی عالمی سطح پر ملک وقوم کا نام روشن کرنے پر ان اسپیشل اتھلیٹس کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ان کی ہمت کو داد دیا۔

ہنزہ سے لیکر چپورسن پہنچنے تک جگہ جگہ جماعت اور سول سوسائٹی نے ان ہونہار بیٹیوں کا شاندار استقبال کیا اور تحفہ تحائف پیش کئے۔

اپنے آبائی گاوں چپورسن آمد پر اہلیان چپورسن نے اسماعیلی لوکل کونسل کی قیادت میں ان کااستقبال کیا ۔ چپورسن میں ایک شاندار استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں علاقہ بھر سے ہزاروں افراد شامل تھے ۔ آغاخان گولڈن جوبلی بینڈ چپورسن نے خوبصورت دھنوں سے پروگرام خوشی کے رنگ بکھیر دیے۔ اس کے علاوہ مختلف رنگا رنگ پروگراموں کے ذریعے جماعت چپورسن نے اپنی ہونہار بیٹوں کو خوش آمدید کہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

ٓجماعت کے ان تین ہونہار ایتھلیٹس نے اسپیشل ہونے کے باوجود بھی اپنے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا بلکہ یہ باور کرایا کہ اگر یہ کسی بھی وجہ سے معذوری کے شکار ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیگر کئی صلاحیتیں عطا کئے ہیں اور یہ افراد کسی بھی طرح سے کم تر نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments