اضلاع کا اعلان وزیراعلیٰ کے اختیار میں ہے؟

صفدرعلی صفدر

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے اقتدار کے آخری برس میں ایک مرتبہ پھر بین الاضلاعی دوروں کا آغاز کردیا ہے۔ اولین فرصت میں ضلع غذر کا دورہ کیا ۔ بعدازاں دیامر،استور اور پھرتادمِ تحریر ضلع ہنزہ کے دورے پرروانہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شنید ہے کہ دوروں کے اس سلسلے کو نگرسمیت بلتستان ڈویژن کے اضلاع تک بھی وسعت دینگے۔ان دوروں کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ علاقوں کے عوامی مطالبات اور حالات کے تقاضون کے تحت حسب روایت ماضی کے اعلانات کے فیوض وبرکات بیان کرتے ہوئے عوام کے روشن مستقبل کی خاطر متعددنئے اعلانات بھی کئے۔ مختلف مقامات پرمنعقدہ کھیل تماشوں سے لطف اندوز بھی ہوئے اور غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے ضلعی سطح کایہ کوئی پہلا دورہ نہیں تھا اور نہ آخری دورہ ہوسکتا ہے۔اس دوران اعلانات بھی کم وبیش ایسے ہی کئے جوماضی کے دوروں میں کرتے چلے آئے ہیں۔تاہم بعض جہگوں پر کچھ ایسے اعلانات کئے جوکہ ماضی میں کسی نہ کسی مجبوری کے سبب نہ ہو پائے تھے۔جن میں ضلع دیامر کے علاقے داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دینے کا اعلان قابل ذکر ہے۔ وزیراعلیٰ نے ان دوروں کا آغاز اور اعلانات کی برسات ایک ایسے وقت میں کیا جب گلگت بلتستان میں ہرطرح سے پاکستان مسلم لیگ نواز کی صوبائی حکومت کی چارسالہ کارکردگی کو مایوس کن قراردیکر شدید تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کے اندرحکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین تو روزِ اول سے ہی سیاسی دنگا فساد کا سماں رہا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ خود حکومتی ارکان اور صوبائی وزراء بھی اپنی ہی حکومتی کارکردگی پر عدم اطمینان کا شکار نظر آنے لگے۔ دیامر سے صوبائی وزیر حاجی جانباز کی جانب سے سرکاری ملازمتوں پر تقرریوں کا حکومتی ٹھیکہ دار این ٹی ایس نامی ادارے سے متعلق انکشافات اور ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں سست روی کے شکوے ماضی کے قصے ہی سہی۔ حالیہ دنوں بلتستان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرتعلیم ابراہیم ثنائی کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران سرکاری ملازمتوں پررشوت لیکرتقرریوں کا الزام بھی سلپ آف ٹنگ ہی سہی،دیامر سے تعلق رکھنے والے تین صوبائی وزراء کی مبینہ ناراضگی مسلم لیگ نواز کی صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی پالیسوں سے اظہار مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہی نہیں بلکہ ایک وقت پر خود مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے بعض ممبران اسمبلی کا اپوزیشن کے ساتھ ملکرقانون ساز اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے کی خبریں بھی گردش میں رہیں جوکہ سابق حکومت کی بدترین دورِ حکمرانی کے باوجود سننے کو نہیں ملی تھیں۔ اسی طرح کی صورتحال عوامی سطح پر بھی نظرآرہی ہے جہاں سوائے مسلم لیگ کے چند حواریوں کے کوئی بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آرہا ہے۔

خود وزیراعلیٰ کے حلقے کی حالت تو سب کے سامنے ہے۔ چار سال قبل شہر کی جوحالت تھی آج بھی وہی کی وہی ہے۔ اپریل میں بھی اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ،کھنڈرنما سڑکیں،پینے کے صاف پانی کا بحران، اسپتالوں میں ادویات کی قلت، سکولوں اور کالجوں کے مایوس کن نتائج، ترقیاتی منصوبوں پر کام میں ست روی اور سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن اور اقربا پروری کی داستانیں بدترین حکمرانی کی مثالیں ہیں۔جبکہ زمینی حقائق سے چشم پوش وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے وہ کام کئے جو علاقے کی سترسالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے۔

مان لیا کہ حاکم وقت کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے، توپھران گلہ شکوؤں اورمایوس کن خبروں کی بجائے آج ہر طرح سے دلوں کے دھڑکن نواز شریف یا حفیظ تیرے جانثار بے شمار بے شمار کے نعرے کیوں بلند نہیں ہوتے۔ یہ گروپ بندیاں، سیاسی جلسوں میں عدم شرکت اور اپنی بے بسی کا رونا آخر کیا ہے؟

بات یہ نہیں کہ صوبائی حکومت نے اپنے چار سالہ دورحکمرانی میں ایک پائی کا کام نہیں کیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جذبے اور دعوے کے تحت حافظ حفیظ الرحمن نے چار سال قبل اقتدار سنبھالا تھا اس مطابق عملی کام ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اتنا کچھ کام تو سابق صوبائی حکومت کے دورمیں بھی کیا گیا مگرحکومتی سطح پر کرپشن کے اسکینڈلزنے تھوڑے بہت اچھے کاموں کی بھی مٹی پلید کردی۔ چنانچہ حافظ حفیظ الرحمن کوبہترین طرزحکمرانی کے لئے ماضی کی حکومت سے سبق حاصل کرنا چاہیے تھا جس کا انہوں نے شاید زحمت گوارہ نہیں کیا۔نتیجاً ان کی حکومتی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔

آج اگراقتدار کے آخری سال میں بین الاضلاعی دوروں اور نت نئے اعلانات کی نوبت آرہی ہے تو وہ محض سیاسی وعوامی پریشرکے نتیجے کے سوا کچھ نہیں۔ ٹھیک ہے اعلانات کرنا کوئی غلط کام تو نہیں لیکن ان اعلانات پر بروقت عملدرآمدہی حکومت کی نیک نامی کا باعث بن سکتا ہے۔ ویسے سیاسی دکان چمکانے کی خاطر اعلانات تو مہدی شاہ نے بھی بے شمار کئے تھے جوکہ ان کے لئے باعث رحمت کی بجائے زحمت ثابت ہوئے۔ آج اگرحفیظ الرحمن صاحب داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع بنانے کا اعلان کررہے ہیں تو انہیں ماضی پر نظر دوڑانا چاہیے تھا کہ اس طرح کے بے تکی اعلانات تو مہدی شاہ نے بھی کئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قانون کے تحت وزیراعلیٰ کو اضلاع بنانے کا اختیار حاصل ہے؟ اگر ہے تو پھر حافظ حفیظ الرحمن کو کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ شگراور کھرمنگ ضلعے کا قیام مہدی شاہ کی مرہون منت تھی۔ اس وقت تو حفیظ صاحب یہ کہہ کر مہدی شاہ پر تنقید کررہے تھے کہ اضلاع بنانے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے یا اس کے لئے وفاق سے منظوری لازمی ہے۔ تو پھرانہیںآج یہ واضح کرنا ہوگا کہ راتوں رات ان کے پاس اضلاع بنانے کا یہ اختیار کہا سے منتقل ہوا۔ کیونکہ علاقے کے نامور وکلاء وقانونی ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ کو اضلاع بنانے کا یہ اختیارنہ تو امپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر2009 کے تحت حاصل ہے نہ ہی گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر2018میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔ اس کے باوجود اگروزیراعلیٰ کو کسی نہ کسی طریقے سے یہ اختیار حاصل تھاتو مرکزمیں پاکستان مسلم لیگ نواز کے دورحکومت میں ان اضلاع کا اعلان کیونکرنہیں کیا گیا اور اب ان اضلاع کے قیام کے لئے درکار بجٹ کا بندوبست کس آمدن سے کیا جائیگا۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت کے دور میں نہ صرف داریل تانگیر بلکہ شگر،کھرمنگ اور ہنزہ نگر کو الگ الگ اضلاع بنانے کے علاوہ گوجال،یاسین،چھورنٹ وغیرہ کو سب ڈویژنز کا درجہ دینے اور کریس گانچھے،شناکی ہنزہ اور منی مرگ استورکو تحصیل بنانے کا بھی اعلان کیا گیا تھا جہاں پر تاحال ان انتظامی ڈھانچوں کے مطابق لوازمات کا یکسرفقدان نظرآرہا ہے۔ اگر اسی طرح ایک ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر یا نائب تحصیلدار کی تعیناتی سے متعلقہ علاقوں کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں تو نوراً الانور ورنہ حقوق کے لئے شاہرہوں پر دھرنہ دینے کی دھمکیوں اور ’مجرم لیگ‘ جیسے طعنوں سے مرعوب ہوکر بھاگے بھاگے یہ اعلانات حکومتی نااہلی کے سوا کچھ نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments