قراقرم نیشنل موومنٹ کےزیر اہتمام شہدا کی یاد میں تعزیتی کانفرنس منعقد

گلگت(خصوصی رپورٹر)قراقرم نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام شہدا کی یاد میں تعزیتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی چیئر مین قراقرم نیشنل موومنٹ محمد جاوید کررہے تھے ۔تقریب میں قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی اسیروں کو جلد رہا کیا جائے ۔شیڈول فور تھ اور ATAکو گلگت بلتستان سے ختم کیا جائے ۔گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر پورے جی بی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے اور گلگت بلتستان کی تاریخی راستوں کارگل سکردو روٹ ، شونٹر مظفر آباد روٹ ، چپورسن ، مسگر اور ایمت سے تاجکستان تک تمام راستے کھولے جائیں ۔قرار داد پاس کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں سی پیک منصوبے اور دیگر اہم منصوبوں کے آغاز سے قبل جی بی کی تمام قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان سے رائے لی جائے اور گلگت بلتستان کی قدرتی وسائل کی بندبانٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئر مین قراقرم نیشنل موومنٹ محمد جاوید نے کہا کہ جب تک گلگت بلتستان کی قوم پرست جماعتوں سے بات نہیں کی جاتی ہے تب تک سی پیک منصوبے کا حل نکلنا مشکل ہے کیوں کہ گلگت بلتستان کے قوم پرست جماعتیں جی بی کی اصل سٹیک ہولڈرز ہیں اور آج تک گلگت بلتستان جس طرح کی بھی سیٹ اپس یا نظام طرز حکومتیں ملی ہیں وہ جی بی کی قوم پرست جماعتوں کی مرحون منت ہے کیوں کہ جی بی کی قوم پرست جماعتیں ہی خطہ قراقرم کی حقیقی معنوں میں آواز بنی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سپر یم کورٹ آف پاکستان کے جی بی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد اس حوالے سے تمام وفاقی پارٹیوں کے منہ پہ تالے لگ گئے ہیں کیوں کہ سپریم کورٹ نے پہلی باری ایک سچ اور حقیقت پر مبنی فیصلہ سنایا تھا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق اے سی مشتاق احمد نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ کہنے والے غدار ہیں تو سب سے پہلے ثاقب نثار غدار ہیں کیوں کہ انہوں نے ایک اہم عہدے پر بیٹھ کر اس خطے کو متنازعہ قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں کسی کا وفادار نہیں ہوں نہ ہی کسی اور کا وفادار ہوسکتا ہوں میں اپنی مٹی کا وفادار ہوں اور رہوں گااور کوئی اور مجھے سے وفاداری کا توقع نہیں رکھے ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئر مین قراقرم نیشنل موومنٹ ممتاز نگری ،سماجی و سیاسی رہنماء حسنین رمل ،طاہر علی طاہر ، تعارف عباس،ذولفقار حسین ، تجمل مرحوم ،نصرت و دیگر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاسی و دیگر قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے جو کی اقوم متحدہ کی قرار دادوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔گلگت بلتستان کے مختلف جیلوں میں قید سیاسی رہنماء کامریڈ بابا جان ،افتخار اور دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ ظلم کے پہاڑ توٹے جارہے ہیں ،ان کے ساتھ انسانی سلوک نہیں کیا جارہا ہے اور ان کو علاج کی سہولت مہیانہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے آئے رو زگلگت بلتستان کے جیلوں میں سیاسی رہنماء بیمار پڑھ جاتے ہیں اور جیل سے نکلتے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔انہوں نے خدشوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے قیدیوں کو سلو پوائزن دی جارہی ہے جس کی وجہ سے حیدر شاہ ، کامریڈ اکبر حسین اور دیگر رہنماء شہید ہوگئے ہیں ۔تقریب میں گلگت بلتستان کے حق پرست و قوم پرس طلباء اور سماجی و سیاسی رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments