رودادماہانہ مشاعرہ

تحریر:جمشید خان دکھی 

حلقہ ارباب ذوق (حاذ)گلگت کے زیر اہتمام ماہانہ شنا اردو مشاعرہ تین مئی 2019بروز جمعہ سہ پہر تین بجے ریویریاہوٹل میں منعقد ہوا۔ جس میں حاذ کے شعرا کے علاوہ سکردو کے معروف شاعر ذیشان مہدی نے بھی شرکت کی۔ارض گلگت بلتستان کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے احباب بھی بطور سامع ہماری خصوصی دعوت پر اس محفل میں شریک ہوئے جو گلگت پریس کلب اور محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کے اشتراک سے منعقدہونے والی ایک ورکشاپ میں شرکت کیلئے گلگت آئے ہوئے تھے۔

محفل مشاعرہ میں شرکت کرنے والے صحافیوں میں محترم قاسم بٹ صدر پریس کلب سکردو، عمران،علی رضا،وزیر مظفر،لطف اللہ نائب صدر استور پریس کلب،عبدالواہاب،شمس الرحمن،ظفر عباس آفریدی،شفیع اللہ پریس کلب چلاس، عبدالستار اور حسین احمد کے نام شامل ہیں۔جن شعرا کرام نے اس محفل مشاعرہ میں حصہ لیا ان میں پروفیسر محمد امین ضیاء،عبدالخالق تاج،ذیشان مہدی،یونس سروش،محمد نظیم دیا،اشتیاق احمدیاد، ظہیر سحر،عبدالبشیر بشر،سیف الرحمن آہی،غلام عباس صابر،نذیر حسین نذیر،فاروق قیصر،حسنین قاسمی،محمد صدیق مغل،عبدالحلیم اداسی اور جمشید خان دکھی کے نام شامل ہیں۔عبدالحفیظ شاکر،غلام عباس نسیم اور محمد سلیم سلیمی کی کمی محسوس کی گئی جو اس محفل میں شریک نہیں تھے۔غلام عباس نسیم مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے ایران گئے ہوئے ہیں جبکہ حفیظ شاکر پنڈی میں ہیں اور احمد سلیم سلیمی جوٹیال شفٹنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔نظامت کے فرائض حلقے کے سینئر شاعر محمد نظیم دیا نے انجام دیئے۔شناکے معروف شاعر نذیر حسین نذیر، عبدالحلیم اداسی،محمد صدیق مغل،غلام عباس صابر اور تاج صاحب نے اس موقع پر شنا کلام بھی سنایااور خوب داد حاصل کی۔صدر حاذ پروفیسر محمد امین ضیاء، سینئر نائب صدر عبدالخالق تاج،جناب قاسم بٹ،جناب ذیشان مہدی اور محترم نصرت صاحب ریٹائرڈ ڈی آئی جی پولیس سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔

اس موقع پر جناب عبدالخالق تاج کوان کی ہونہار صاحب زادی حنا خالق تاج جس نے حال ہی میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک سٹیڈیز میں پہلی پوزیشن اور گول میڈل حاصل کیا تھا،پر حاذ کی جانب سے خصوصی مبارکباد دی گئی۔پریس کلب سکردو کے صدر اور معروف صحافی قاسم بٹ صاحب نے اپنے خطاب میں حاذ کے احباب کا محفل میں شرکت کی دعوت پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب جہاں زندہ ہوتا ہے وہاں انسانیت زندہ ہوتی ہے اور جہاں ادب نہیں ہوتا وہاں پر قبرستان آباد ہوتے ہیں۔

مشاعرے کے بعد غیر رسمی گفتگو میں تاج صاحب نے قاسم بٹ صاحب کی مردانہ گفتگو اور جسامت سے متاثر ہوکر کہا کہ بٹ صاحب آپ کو دیکھ کر مجھے لاہور میں گاڑیاں توڑنے والا گلو بٹ یاد آتے ہیں۔لہذا ڈنڈا میں لاتاہوں گلو بٹ ہونے کا مظاہرہ آپ کریں۔اس پر بٹ صاحب بھی خوب محظوظ ہوئے۔ مشاعرے سے قبل پریس کلب گلگت میں عالمی یوم صحافت کے حوالے سے بھی ایک تقریب ہوئی جس میں گلگت بلتستان بھرکے صحافتی نمائندے شریک ہوئے۔میں اور تاج صاحب بھی اس میں موجود تھے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر بھی بٹ صاحب نے جس بے باکانہ انداز میں گفتگو کی اس سے قائد گلگت جناب جوہر علی خان کی یاد تازہ ہوئی۔ خیر سے جوہر صاحب خود بھی بٹ فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔وزیراعلیٰ صاحب نے پریس کلب میں اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ حاذ کے دفتر کیلئے بھی گلگت پریس کلب میں گنجائش پیدا کی جائے تاکہ شعرائے کرام بھی دفتر کی سہولت سے مستفید ہوسکیں۔

قبل ازیں 27اپریل 2019کو دیامر رائٹرز فورم کی دعوت پر حاذ کا قافلہ چلاس گیا اس قافلے میں پروفیسر محمد امین ضیاء، عبدالخالق تاج،یونس سروش،رحمان آہی،ظہیر سحر اور راقم جمشید خان دکھی شامل تھے۔رات کو قراقرم یونیورسٹی کیمپس دیامر کے حال میں مشاعرہ ہوا جس کی صدارت پروفیسر محمد امین ضیاء صدر حلقہ ارباب ذوق گلگت نے کی۔اگلے روز 28اپریل 2019کو ہم واپس گلگت لوٹے۔دوران سفر گینی کے مقام پر تازہ شہتوت سے لطف اندوز ہوئے۔جناب فیض اللہ فراق اور حلیم فیاضی نے ہمیں الوداع کہا۔4مئی 2019کے دن ایک بجے ”ریورویو اینڈ فیملی ریسٹورنٹ گواچی گور و“کی افتتاحی تقریب میں،میں،تاج صاحب اور نظیم دیا نے شرکت کی۔اس تقریب میں ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن،دیگر سیاسی پارٹیوں کے احباب،وکلاء صاحبان،ڈاکٹرز، انجینئرز،علمائے کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے اظہار خیال کیا اور میں اور تاج صاحب نے اپنا کلام سنایا جبکہ نظیم دیا نے اپنا کلام بھی سنایا اور نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے۔محترم سرتاج علی قیصر نے بر لب دریا گواچی کے مقام پر ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے جس کی لوکیشن بہت خوبصورت ہے۔ میری دعا ہے کہ خداوند کریم ان کے کاروبار میں برکت عطاء کرے۔آپ کی توجہ بار دیگر ماہانہ محفل مشاعرے کی طرف مبذول کرانے جارہا ہوں۔اس مشاعرے کیلئے کوئی طرح مصرع مقرر نہیں کیا گیا تھا اس لئے شعراء نے غیر طرحی کلام سنایا اور تناول ماحضر کے بعد یہ محفل اختتام پذیر ہوئی۔ذ یل میں شعرا ء کا نمونہ کلام نذر قارئین کیا جاتا ہے :۔

محمد امین ضیاء

انسان باکمال ہے اس کو پتہ نہیں

یکتا و بے مثال ہے اس کو پتہ نہیں

وہ امر لازوال ہے اس کو پتہ نہیں

مرنا تو انتقال ہے اس کو پتہ نہیں

ذیشان مہدی

ہم نے سب کو دیکھ لیا ہے ہم نے سب کو پرکھا ہے

جان گئے ہیں کو ن ہے پتھر کون چمکتا ہیرا ہے

عبدالخالق تاج

میں جاتا ہی نہیں ان محفلوں میں

جہاں ہوتا ہے یہ انسان تقسیم

نظیم دیا

حضورہوتے اگر تیرے کاروان کے ساتھ

ترے نثار ہم ہوتے ہر اک جوان کے ساتھ

یونس سروش

ہم محبت کی دھول تھے شائد

اس لئے ہجر کے سفر میں ہیں

اشتیاق یاد

تکبر ہوگیا دریا کا رسوا

کہ جب دریا سمندر میں گرا ہے

فاروق قیصر

کرب ایسا بدن میں اترا ہے

نیند بھی جاگتی ہے ساری رات

رحمان آہی

آدمی آدمی ہی ہوتا ہے

آدمی جانور نہیں ہوتا

ظہیر سحر

امیر شہر جو چاہے سزا دے

نہیں کرنی ہمیں فریاد صاحب

بشیر بشر

تم سے جیت جانا تو آج بھی نہیں ممکن

تم کو مات دینا کا حوصلہ نہیں ہوتا

جمشید دکھی

مجھ کو انساں بھی لگ رہا ایسے

جان جیسے کسی مشین میں ہے

جو خرابی ہے میرے ہم وطنو!

وہ مکاں میں نہیں مکین میں ہے

اگلے مشاعرے کیلئے بشیر بدر کے درج ذیل شعر کا پسِ مصرع بطور طرح دیا گیا جس میں ”کم“ قافیہ اور”کردو“ ردیف ہے۔

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑا دو شراب کم کردو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments