بڑھتی سیاحت اور سیاحت دشمنی

بہرام خان

گلگت بلتستان کے ایک مخصوص علاقے میں سیاحت کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں کچھ ناآقبت اندیش افراد سوشل میڈیا کے ذریعےجھوٹے پروپیگنڈے کرذریعے پورے گلگت بلتستان میں سیاحت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ اکثر اتار چڑھاوکا شکار رہا، فرقہ ورانہ کشیدگی اور دہشتگردی کے باعث یہ سیکٹر متاثر رہا ہے۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کو سب سے بڑا دھچکا تب لگا جب امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں کمی ہوئی۔ پھر جب تھوڑی بہت بہتری آئی تو ملک میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات نےگلگت بلتستان سمیت پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات کوویران کر دیا۔

ایک اندازے کے مطابق صرف گلگت بلتستان میں ساڑھے پانچ ہزار سیاحت سے وابسطہ لوگ بے روزگار ہوگئے ۔

کئی سالوں بعد پاک فوج اور حکومت کی کوششوں سے اور قوم کی بے پناہ قربانیوں کی وجہ سے پاکستان میں پھر سےامن لوٹ آیا اور آہستہ آہستہ گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات پھر سے آباد ہونے لگیں۔

گلگت بلتستان کے مختلف علاقے ہنزہ، غذر،اسکردو،استور، نلتراور نگر ویلی پھر سے آباد ہوگئے۔

گلگت بلتستان میں پچھلے دو ادوار کی نسبت اس مرتبہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ ملنےکی اصل وجوہات کچھ یوں ہیں ۔

ویسے تو ہنزہ میں سیاحوں کو متوجہ کرنے والی کافی ایسے سیاحتی مقامات اور تاریخی عمارات کے علاوہ پاک چائینہ بارڈر اور حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی عطاآباد جھیل اور چائینہ انجینیئرنگ کا ایک شاہکار نمونہ عطاآباد ٹنل ہے ۔ ان کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان کا رخ کرتی ہے۔ ۔جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پھر سے روز گار کے مختلف مواقعے پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں۔

کافی عرصے سے ویران پڑے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز بحال ہونے لگے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے گلگت بلتستان حکومت امن و آمان کی صورتحال اور دیگر سیاحت کو فروغ دینے والے اقدامات کرے تاکہ سیاحت کو مزید فروغ مل سکے ۔

بہت سارے ممالک میں سیاحت کو فروغ دینے کے مخصوص فنڈ مختص کی جاتی ہے۔ جس میں صاف صفائی کا نظام، سڑکوں کی بحالی، سیاحوں کے لیے معلوماتی نظام، تاریخی عمارات کو محفوظ بنانے اور دیگر اقدامات شامل ہوتے ہیں۔

خدا کی قدرت ہے ان سب سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود پھر بھی روز بروز سیاحت کا شعبہ پھل پھول رہا ہے ۔اس سے نہ صرف اس علاقے کو فائدہ ہو رہا ہے۔بلکہ گلگت بلتستان اور پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ بیرونی ممالک سے آنے والے سیاح قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں ۔

مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان سے ہی تعلق رکھنے والے چند سوشل میڈیا کے نیم حکیم لکھاری ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ایک مخصوص علاقے کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ جھوٹے پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ جس میں سیاحوں کو مہنگی ایشیا بیجھنے اور ہوٹل رومز کی مقرر کردہ بل سے زیادہ پیسہ چارج کرنے کی افواہیں شامل ہیں۔

یہ سب ایک مخصوص علاقے کو ٹارگٹ کرنے کی سازش ہے۔ تاکہ سیاح اس علاقے کی طرف نہ جائیں بلکہ سیاحوں کو دیگر مقامات کی طرف متوجہ کیا جائے۔ ماضی میں مری میں بھی اسی طرح کا ہی مہم چلایا گیا تاکہ ایک مخصوص علاقے کو فائدہ پہنچایا جائے۔

پوری مری کا بائیکاٹ کیا گیا جس کا نقصان مری کے علاقے کو ہوا ۔ اسی طرح کچھ نادان یہی سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے حرکتوں سے دوسرے علاقے کو فائدہ پہنچائیں گے۔ گلگت بلتستان میں آنے والے تمام سیاح ایک مخصوص علاقے کو ذہن میں رکھ کر آتے بلکہ کئی مہینوں سے ہی پروگرام بناتے ہیں تا کہ گلگت بلتستان کے اس علاقے کی سیر وتفریح کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں کا بھی دورہ ہو۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کچھ علاقے اور وہاں کے باشندوں کا بھی اہم کردار ہے۔ اس امر سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ انہی علاقوں کے لوگوں کی قربانی اور خوش اخلاقی کے باعث گلگت بلتستان کے دیگر علاقے بھی سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments