ضلع غذر کے نوجوانو! جاگ جائیں

ضلع غذر کی حدود گلا پور سے شروع ہو کر ایک طرف لاسپور ،داریل ،سوات اور دوسری طرف بروغل سے واخان تک پھیلی ہوئی ہے ۔ماضی میں یہ ضلع دو آذاد ریاستوں پر مشتمل تھا، جن میں ریاست پونیال اور ریاست ورشگوم شامل تھیں تاہم اشکومن ریاست ورشگوم کا ہی حصہ رہا ہے۔ تعلیم اور شعور کے فقدان کی وجہ سے یہ ریاستیں ہمیشہ آپس میں دست و گربیاں ہوتی تھیں۔ ایک دوسرے پر حملے اور قتل و غارت اور لوٹ مار کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تھا ،تاہم انیسویں صدی کے اوائل میں اہل یاسین نے اپنے مقبوضہ جات کو وسعت دینے کی پالیسی پر کاربند رہے ،پونیال، بونجی، اور گلگت تک کے علاقے ان کے زیر تصرف ا گئے۔پہلے پہل انہوں نے ریاست پونیال کو اپنے مقبوضہ جات میں شامل کیا، اور ورشگوم کی آخری حد پیارچی قرار پائی۔اِن عشروں میں ریاست روشگوم کی پائہ تخت مستوج تھا لیکن بعد کے ادوار میں یاسین کو مرکز بنا کر تمام سیاسی سرگرمیاں یہی سے چلائی جاتی تھی۔ان ادوار میں یہ پورا علاقہ تعلیمی پسماندگی کا شکار رہا۔
یہی نہیں بلکہ ڈوگرہ دور میں بھی ضلع غذر کے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی ، اِن ادوار میں کئی ایک پرائمری سکول تک بھی اِن علاقوں میں بنانا گوارہ نہیں کیا گیا۔ 1935  میں  گلگت ایجنسی کو پچاس سال کے لئے دہلی سرکار کو پھٹے پر دیا گیا ۔انگریزوں کے  عزائم بھی بدنیتی پر مبنی تھے، انہوں نے بھی اس علاقے کو غربت و افلاس کے کوہ میں دھکیلنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈی۔
تاہم 1947 کے بعد نجی اداروں نے یہاں پر انتہائی نا مساعد حالات میں تعلیمی ادارے قائم کئے ۔اِن نجی اداروں میں آغا خان ایجوکیشن سروسز کا نام صف اوّل  میں آتا ہے ۔زبان ،رنگ و نسل اور مسلکی تعصبات سے بالا تر ہو کر ان علاقوں سے جہالت کے اندھیرے  مٹانے میں ہر اوّل  دستے کا کردار ادا کرتے ائے ہیں۔ ایک طویل اور کٹھن سفر کے بعد آج بھی یہ ادارہ ہمالیہ سے بلند حوصلوں کے ساتھ  بہتر سے بہتر تعلیم کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ ضلع ہنزہ اور ضلع غذر میں اے کے ای ایس کی کوششوں اور محنت سے ہی شرح خواندگی کا تناسب باقی اضلاع سے بہتر ہے ۔گاہکوچ  AKHSS اور شیر قلعہ AKHSS نے ضلع غذر میں کوالٹی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
اِن اداروں سے فارغ التحصیل  طلبہ و طالبات نے زندگی کے ہر شعبے  میں اپنی خدمات اور قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔
نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الااقومی سطح پر بھی اپنی محنت و لگن اور قابلیت کے بل بوتے پر  قوم و ملت اور علاقے کا نام روشن کر رہیں ہیں اور نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں۔
تاہم قابل غور پہلو یہ ہے کہ اِن اداروں کے طلبہ و طالبات کا رجحان میڈیکل اور انجنیئرنگ کے شعبوں کی طرف زیادہ ہے۔اور دوران تعلیم انکی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کر سکے تاکہ نومینیشن کے زریعے یا پھر سکالر شب کے زریعے کسی میڈیکل  کالج یا کسی انجنیئرنگ کالج میں داخلہ مل سکے۔اور فکر معاش کے ہاتھوں مجبور ہو کر مختصر مدتی سوچ کے ساتھ ان کالجز سے فارغ ہو کر جلد ہی چھوٹے نوکریاں کرنے لگتے ہیں۔اس مختصر مدتی سوچ کے پس پشت جو قابل ذکر محرکات مجھے ذاتی طور پر نظر ا رہیں ہیں ، اِن میں ایک وجہ غربت بھی ہے ،کیونکہ ضلع غذر میں غربت زیادہ ہے ۔وہ والدین جو اپنے بچوں کو مشکل معاشی حالات  کے پیش نظر جب ہائیر اسکنڈری سکولوں  میں پانچ سال کے لئے بیجھتے ہیں تو اِن پانچ سالوں کے دوران  انکو کئی طرح کے معاشی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔غریب والدین اپنے پیٹ پر پھتر رکھ کر اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں ۔ اِن سکولوں  سے فارغ ہونے کے بعد کچھ غریب والدین اپنے بچوں کا مزید تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور زہین طلبہ و طالبات کرئیر گائیڈنس نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ملازمتیں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور انکا مستقبل داو پر لگ جاتا ہے۔ اِن کے برعکس وہ والدین جو آسودہ حال ہوتے ہیں وہ  اپنے بچوں کو شہروں کی طرف بیجھتے ہیں ۔
وہ تمام طلبہ و طالبات جو مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں اُن  کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ڈگری  کے حصول کے  بعد جتنی جلد ہوسکے نوکری مل سکے ،تاکہ گھر کے معاملات احسن طریقے سے چل سکے۔
حالیہ دنوں ہونے والے  سی ایس ایس کے امتحانات میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع سے طلبہ و طالبات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امتحان میں پاس ہو کر نہ صرف اپنے خاندان کا نام روشن کیا، بلکہ پورے گلگت بلتستان کے نیک نامی کا باعث بنے۔ضلع غذر اور ضلع ہنزہ سے کسی ایک بندے نے بھی سی ایس ایس کا  امتحان پاس کرنا تو درکنار اس میدان میں اترنے سے ہی کتراتے نظر ائے ہیں ،آج کے دور میں ہنزہ کے لوگ کاروبار کی طرف مائل ہیں ۔ تاہم صرف سوشل میڈیا پر اِن دو اضلاع کے نوجوان  یونیورسٹیوں میں داخلوں پر بغلیں بجاتے دیکھیں گئے ہیں۔ اُودھم مچا کر پھر مقابلے کے امتحانات میں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔
اس ناقص کارکردگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
پہلا سوال یہ کہ ایا بہترین تعلیمی اداروں کے ہوتے ہوئے کسی ایک بندے کا امتحان پاس نہ کرنا ، کیا یہ سوالیہ نشان نہیں ہے؟؟؟
اس میں قصور تعلیمی اداروں کا ہر گز نہیں ہے بلکہ قصور ان طلبہ و طالبات کا ہیں جو شعبے کی چناؤ میں غلطی کر جاتیں ہیں۔
دوسرا سوال! کیا یہاں کے طلبہ طالبات میں خوف کا عنصر موجود ہے ؟جو ان کو اس میدان میں اترنے کی ہمت ہی نہیں دیتا۔ اگر خوف کا عنصر موجود ہے تو اِس کے درپردہ کونسے محرکات کارفرما ہوسکتے ہیں؟؟؟
تیسرا سوال کیا طلبہ طالبات کو کریئر  گائیڈنس کی کمی ہے ؟؟
یہ چند وہ سوالات ہیں جو ہر ایک کے ذہين میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔
یہاں پر میں یہ واضح کرتا چلوں کہ غذر اور ہنزہ کے طلبہ و طالبات کو کیریئر  گائیڈنس کی کمی ہے ۔انے والے وقتوں میں اِن دو اضلاع کے ذہين  طلبہ و طالبات کو میڈیکل، انجنیئرنگ اور کامرس کے شعبوں کے بجائے سی ایس ایس اور ایف پی ایس سی کے امتحانات میں نماياں کارکردگی دیکھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ورنہ انتظامی معاملات ہاتھ سے نکل جاہینگے اور غیر مقامی بیوروکریسی  ہمارا استحصال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈیں گے۔ گلگت بلتستان کے کاروباری منڈیوں پر ویسا ہی غیر مقامی لوگوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہیں اب انتظامی معاملات بھی ہاتھ سے جاتے نظر ا رہیں ہیں۔
ضلع غذر کے تمام ذہين طلبہ و طالبات سی ایس ایس کی امتحان کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تاکہ انتظامی معاملات چلانے میں انکا پلہ بھاری رہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments