دیوانوں کی باتیں ———فیس بُکی چوہے

تحریر شمس الحق قمر
چترال ، حال گلگت

“اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ  ہو کہ تم جہالت میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔‘‘ (سورہ الحجرات)

یہ آیت کریمہ جب نظرسے گزری تو میری سوچ آج کے اُن بے راہرو اور برائے نام صحافیوں کےغیر  مہذب کردار سےجا ٹکرائی جو صحافت کے مقدس نام پر بد نما داغ بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک معمول سا بنا ہے جن کو دو حروف انگریزی یا اُردو کے جوڑنے کی توفیق ہوئی تو انہوں نے اپنے  نام کے ساتھ صحافی کا پاکیزہ نام لگا کر قلم کے تقدس کو پامال کرنا شروع کیا ۔ ایسے تمام لکھاریوں کی خبروں کو حقیقی صحافت کی مہذب زبان میں ” زرد صحافت”  کتہے ہیں ۔ اگرچہ اس لفظ کے پیچھے امریکہ اور اسپین کی خون ریز لڑائی میں مختلف اخبارات میں انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف ایک دوسرے کی جان لینے کی حد تک برانگیختہ کرنے  کی خون اشام تاریخ مخفی ہے تاہم دوسری طرف  اصل صحافت اتنا معتبر اور مہذب پیشہ ہے کہ صحافتی دہشت گردی کو بھی مہذب انداز سے صرف  “زرد صحافت ” کہ کراپنے آپ کو محفوظ کیا  ۔ حالانکہ ہر وہ تحریر یا خبر جس سے کسی کی عزت کو بلاوجہ داغدار بنانے کی کوشش کی جائے ،  انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاز کھڑا کرنے کی شیطانی ترغیب دی جائے یا اپنی سستی شہرت کے لئے دوسروں کی زندگی تباہ برباد کرنے  کی کوشش کی جائے اُس کے لیے ” زرد صحافت”  نہیں بلکہ “دہشت گردی کا نام دیا جانا چاہئے ۔ میں صحافی نہیں ہوں  البتہ صحافت  کے حوالے سے چند ایک کتابیں ضرور پڑھ رکھی ہیں اور ہر پڑھی ہوئی کتاب سے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ حقیقی صحافت میں ہر ایک لفظ کو قلم کے حوالہ کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنے کی تلقین کی گئی  ہے ۔ ایک فاضل اور پڑھے لکھے صحافی کو اصول صحافت کا علم ہے اور وہ جاتنا /جانتی ہے کہ اُس کے قلم میں طاقت  تب پیدا ہو تی ہے جب اُس کے قلم کی نوک سے جدا ہونے والا ہر لفظ  صداقت پر مبنی ہو ۔جو تحریر یا تقریر صرف اور صرف سنسنی پھیلا نے کےلئے غیر مصدقہ خبروں یا معلومات پر مبنی ہو وہ دنیائے صحافت میں زرد صحافت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ لفظ ” زرد صحافت ” کا مطلب وہ صحافت ہے جسے عام الفاظ میں چوری ، ڈکیتی ، بد اخلاقی اور جرم کے  معنوں میں سمجھا جاتا ہے  اور جو اس جرم کا ارتکاب  کرتے ہیں وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فاسق کہلاتے ہیں ۔ ہم یہاں پر رجسٹرڈ  اور  زمہ دار جریدوں / روزناموں کی بات نہیں کرتے ہیں  اور نہ اُن صحافیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں جو کسی رجسٹرد اداے کے ساتھ منسلک ہیں بلکہ ہم اُن فیس بکی چوہوں کا ذکر کر رہے ہیں جو گھر میں بیوی کے ساتھ کسی ہلکی نا چاقی کو بھی فیس بک کی وال پر جھوٹے اکاؤنٹ کے سہارے اشاروں اور کنایوں میں اویزاں کرتے ہیں  لیکن اس سے بھی بڑی خطرناک بات یہ ہے کہ  فیس بک کے صارفین بنا کسی تصدیق کے فیس بک میں شائع ہونے والی ہر جھوٹی خبر کو درست سمجھ کر گھاؤنے اقدامات کا مرتکب ہوتے ہیں ۔ آج کل فیس بک پر سینکڑوں پیچ ایسے ہیں جن کا سا سر ہے نہ پیر ۔ لوگ جھوٹے اکاؤنٹس بنا کر جھوٹی خبریں پھیلا تے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ اگست 2016 ء میں قومی اسمبلی میں Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) کے نام سے ایک قانوں پاس ہوا تھا جس کے ایک شق میں اس قانوں کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی فرد یا افرد کسی شخص یا ادرے کے بارے میں غلط معلومات اپنی طرف سے کسی سوشل میڈیا میں چھاپنے کا مرتکب پائے جائیں تو تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کیے جا سکتے ہیں ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ فیس  بک میں کچھ ایسے گروپ یا پیج بھی موجود ہیں جو کہ ملک میں انتشار و بد امنی کا سبب بنے ہوئے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ  ہے کہ قومی اسمبلی میں پاس ہونے والا قانوں بے بس ہے ۔ ہمارا مشورہ  یہ  ہے کہ فیس بک میں جتنے بھی پیجیز  غیر زمہ دارانہ خربیں چھاپتے ہیں اُن سے پوچھ گچھ کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے  تاکہ کسی اور کو ہمت نہ ہو کہ وہ کسی کے خلاف کوئی غط خبر اپنی مرضی سے چھاپے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments