گاہکوچ: بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کا بحران

تحریر معراج علی عباسی

ڈسٹرکٹ غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ کے ابادی میں اضافہ کے ساتھ شہر میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا مسلہ روز بروز گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔ گاہکوچ شہر میں پینے کی صاف پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی تو بہت کم عرصے میں شہر میں پینے کے پانی کا بحران قابو سے باہر ہوگئی۔

غذر میں پانی کے ذخائر کی کوئی کمی نہیں۔ بہتے دریا ،نالے ،چشمے جھیلیں اور گلیشئرز کے شکل میں بڑے بڑے آبی ذخائر موجود ہے۔ حکومت غذر میں موجودآبی وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوے منظور شدہ منصوبوں کے ساتھ ساتھ مزید منصوبے شروع کرے۔

حکومت کی جانب سے اس اہم ایشو پر توجہ نہیں دی جاری ہے۔ گاہکوچ شہر کے نواحی گاؤں گمسنگ سے پندرہ سال قبل پیپلز پارٹی کے دور میں پینے کے صاف پانی گاہکوچ شہر کو فراہم کرنے کیلے40 کروڑکے اہم منصوبے کیلے بجٹ بھی مختص کررکھا تھا۔ تمام تر محکمانہکاروائی کے بعد ٹینڈر ہونے کی اطلاع بھی ہے مگر
کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔ حکومتی سطح پر گاہکوچ شہر کو پانی فراہم کرنے کےلیے اہم منصوبوں پر کئی بار اعلانات ہو چکے مگر ان اعلانات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اگر حکومتی اداروں کو عوامی نوعیت کے اس اہم منصوبے پر کام کرنے میں کوئی دقت درپیش ہے تو اس اہم منصوبے کو آغاخان ڈیو لپمنٹ نیٹ ورک کا ذیلی ادارہ واسپ کے سپرد کیا جائے جو کہ عوامی اشتراک سے کامیابی کے ساتھ اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ پینےکے لیے صاف پانی شہریوں کی بنیادی حق اور زندہ رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمداری ہے۔ گاہکوچ شہر کیلے پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ گمسنگ سے گاہکوچ شہر کیلے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لے تیار منصوبے پر بلاتاخیر کام شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت اور غذر انتظامیہ نے اس اہم منصوبے پر فوری کام شروع نہیں کیا تو بہت کم وقت میں ڈسٹرکٹ غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ میں پینے کے صاف پانی کا بہت بڑا مسلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments