مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کا تعلق

تحریر: صاحب مدد شاہ
مودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو آنڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A میں ترمیم کر کے جموں و کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس جو 1947 میں تقسم ہند کے دوران مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے باہمی مشاورت سے دستخط ہو کر انڈیا سے الحاق ہوا تھا کو ایک صدارتی حکم نامے کے زریعے ختم کردیا, جو جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے بلکل منافی ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق انڈیا کا رشتہ جموں و کشمیر کے ساتھ آرٹیکل 370 کی وجہ سے جڈا ہوا تھا اب اس آرٹیکل کی معطلی کے بعد انڈیا کا رشتہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ  ختم ہو چکا ہے۔  مقبوضہ کشمیر کا انڈیا کے ساتھ الحاق  کے دوران مندرجہ ذیل نکات پر باہمی مشاورت کے بعد دستخط ہوئے تھے جن میں کچھ چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:  کشمیر کی مکمل آزادی تک انڈیا کے پاس خارجہ پالیسی، کرنسی اور دفاع  رہے گا  باقی تمام معاملات اور حکمرانی کا حق کشمیریوں کو ھوگا۔ دوسری بات جو بہت اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ انڈیا کے شہری کشمیر میں زمیں کی خرید و فروخت اور نوکری نہیں کر سکے گے  یہ اختیار صرف کشمیروں کو ہوگا ۔ اسی طرح سے تقریباً سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر انڈیا کے زیر انتظام چلا آرہا ہے۔
 دنیا میں  مسئلہ کشمیر اپنی نوعیت کا ایک اہم مسئلہ ہے دنیا کے ہر  کونے میں کشمیر کا نام سنتے ہی لوگ آبیدہ اور ، انڈین فوج کی طرف سے ڈھائے ہوئے مظالم کا بھرپور مزمت کرتے ہیں۔
جغرافیائی لحاظ سے کشمیر اب تین حصوں میں تقسیم ہے۔ تقریباً کشمیر کا 55 فیصد علاقہ انڈیا کے زیر انتظام ہے جو  جموں، کشمیر ویلی اور لداخ پر مشتمل ہے ، 30 فیصد علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہے جو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل ہے  اور 15 فیصد  چائینہ کے زیر انتظام ہے  جو 1970 کی دہائی میں پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے چائینہ کو   تحفے کے طور پر دیا گیا تھا۔
ریاست کشمیر کے ان تینوں اکائیوں پر مختلف طرز سے حکمرانی اور  انتظامی معاملات چلائے جاتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر جو انڈیا کے زیر انتظام ہے ستر سالوں سے سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال تھا جو کچھ دن پہلے  انڈین گورنمنٹ کی طرف سے معطل کردیا گیا ہے  ، آزاد کشمیر جو پاکستان کے زیر انتظام ہے اس میں بھی سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال ہے اپنی خودمختار اسمبلی ، صدر  وزیر اعظم  اور سپریم کورٹ موجود ہے  اور باقی معاملات خارجہ پالیسی، کرنسی اور دفاع پاکستان کے پاس ہے۔ ریاست کشمیر کی تیسری اکائی گلگت بلتستان جو پاکستان کے زیر انتظام ہے میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو 1970 کے اوئل میں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے معطل کرد کے غیر گلگت بلتستانیوں کو زمینوں کی خرید و فروخت اور نوکریوں کی بند بانٹ کر دی۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا بھی کوئی مستند دستاویز موجو نہیں ہے  1949 کو کراچی کے مقام پر ایک بند کمرے میں دو کشمیری نام نہاد سیاستدان سردار ابراھیم اور چودھری غلام حسین نے اس وقت کے سندھ اسمبلی کے رکن مشتاق گورمانی کے ساتھ ایک جعلی معاہدہ کر کے گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا ڈرامہ رچایا مگر اس معاہدے میں گلگت بلتستان کی شرکت داری نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے لوگ اس معاہدے کو نہیں مانتے ہیں۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے لیے محبت اور قربانیوں کی ایک طویل لسٹ ہے۔ پاکستان کی  سلامتی کے لیے ہزاروں جوانوں نے اپنی جان نچھاور کی ہیں اب بھی آگلے مورچوں پر سینہ تان  کر پاکستان کی حفاظت پر مامور ہیں۔ گلگت بلتستان کی بدولت پاکستان چائنہ کا ہمسایہ ملک ہے، سی پیک پاکستان اور چائینہ کے درمیان عربوں ڈالر کا معاشی منصوبہ گلگت بلتستان کی سرزمین کو چیر کر پاکستان کو چائینہ سے ملاتا ہے،  کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، تین بڑے پہاڈی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش گلگت بلتستان میں واقع ہیں جس پر پاکستان کو عالمی دنیا میں ناز ہے۔  دریائے سندھ جو آدھا پاکستان کو سیراب کرتا ہے گلگت بلتستان سے نکلتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر بھی اس خطے کے پاس ہے جو حوالدار لالک جان شہید کی پاکستان کی سالمیت کی خاطر شہادت کا عملی  ثبوت ہے۔ حسن سدپارہ, سمینہ بیگ اور نظیر صابر جو عالمی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر چکے ہیں اس خطہ بے آئین کے باسی ہیں۔ مگر افسوس کی بات  ابھی تک گلگت بلتستان کے باسی دوسرے درجے کے شہری کہلاتے ہیں ، متعدد بار گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستانی حکمران سے قومی دھارے میں شامل کرنے یا آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ کی ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ کردیا، مگر بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی ، آئینی حقوق کے مطالبہ پر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں  پر جھوٹے الزامات لگائے کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ 1947 سے پہلے گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات ریاست کشمیر کے پاس تھے اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت ایک ہے دونوں متنازع خطے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت کو مقبوضہ کشمیر کی شناخت مودی گورنمنٹ کی طرف سے مٹانے پر غم و غصہ ہے تو جناب اپنے اداؤں پر بھی زرا غور کریں گلگت بلتستان سے وہی شناخت آپ نے 1970 کے اوئل میں  چھین کر نہ تین نہ تیرہ میں رکھ کر آرڈرز پر انتظات چلارہے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments