بابوسر گھٹی داس اور لولوسر جھیل پر مشتمل نیشنل پارک

تحریر عمر فاروق فاروقی

بابوسر گھٹی داس اور لولوسر جھیل کو نیشنل پارک بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت نے سیکریٹری کشمیر آفیئر طارق محمود پاشاہ کو ٹاسک سونپ دیاہے۔طارق محمود پاشا نے پیر کے روز بابوسر گھٹی داس اور لولوسر جھیل کا دورہ کیا اور دیامر کی ضلعی انتظامیہ اورآئی جی پی ثناء اللہ عباسی سے خصوصی میٹنگ کی۔اس موقع پر آئی جی پی اور ڈویژنل انتظامیہ نے طارق محمود پاشاہ کو بابوسر گھٹی داس اور لولوسر کے زمینی حقائق سے آگاہ کیا،اور ان سیاحتی مقامات پر بریفنگ دی۔

بابوسر گھٹی داس اور لولوسر کا علاقہ گزشتہ کئی عشروں سے ھزارہ اور دیامر کی عوام کے مابین متنازعہ ہے۔ان سیاحتی مقامات کی متنازعہ حثیت کی وجہ سے اب تک یہ علاقے سیاحتی اعتبار سے ترقی نہیں کرسکے ہیں،دیامر کی بڑی آبادی گرمیوں میں بابوسر گھٹی داس میں اپنے مال مویشیوں کیساتھ رہائش پذیر ہوتی ہے،جبکہ ھزارہ ڈویژن کے لوگ بھی لولوسر اور بہسر کے علاقوں میں مال مویشی کیساتھ رہنے کیلئے آیا کرتے ہیں۔گزشتہ دو سال سے ہزارہ اور دیامر کے مابین حدود تنازعہ پر کافی گرما گرمی دیکھائی دی ہے،اور حکومتی سطح پر بھی ان سیاحتی مقامات کو تنازعات سے پاک کرکے ان علاقوں کو سیاحتی زون بنانے پر غور کیا جارہا ہے،اس سلسلے میں گزشتہ سال سے وفاقی سطح پراور دونوں صؤبوں کی حکومتیں وقتا فوقتا مل بیٹھ رہی ہیں،لیکن اب تک کوئی لحہ عمل طے نہیں کر پائے ہیں۔ادھر ہزارہ اور دیامر کی عوام اب تک ان علاقوں پر اپنی اپنی ملکیت ثابت کرنے کیلئے نقولات اور تاریخی دستاویزات کیساتھ ہر فورم پراپنا حق جیتانے کیلئے کمر بستہ دیکھائی دے رہے ہیں۔

وفاق اور ان دونوں صؤبوں کی حکومتوں اور بیوروکریسی کو چاہے کہ وہ آپس میں میٹنگز کرنے کی بجائے ان علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعواہ کرنے والے لوگوں کیساتھ مل بیٹھیں اور کوئی مثبت حل نکالیں تاکہ دونوں علاقوں کے لوگ مطمئین ہوسکیں،بیوروکریسی سطح پر وقت سے پہلے آپسی میٹنگوں کی وجہ سے دونوں علاقوں کے لوگ ان سیاحتی مقامات پر گھتم گتھا ہونے کا خطرہ درپیش ہے،بابوسر گھٹی داس اور لولوسر کو نیشنل پارک کا درجہ دینے سے سیزنل آبادی بھی متاثر ہوگی،اس لیئے وفاقی حکومت کو چاہے کہ وہ ان علاقوں میں کسی بھی سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ سے پہلے یہاں کے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments