ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟

تحریر: صاحب مدد شاہ

صلاح الدین نے معصومانہ انداز میں وردی میں ملبوس سپاہی سے سوال کیا جناب مارو گے تو نہیں میں سچ سچ اپنی کہانی بیان کروگا ؟ صلاح الدین بظاہر زہنی مریض اور عقل و فہم سے عاری دیکھائی دیتا تھا مگر اس کے حرکات و سکنات جو ویڈیو میں دیکھائی دیتے ہیں سے پتا چلتا ہے کہ  اس کے مزاج میں کچھ تلخی اور معاشرے کا ستایا ہوا لگتا ہے  ۔ صلاح الدین اے ٹی ایم مشین سے پیسے چرانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے  اس نے جو کچھ بھی کیا سب کیمرے کی آنکھ نے  محفوظ کی ہے ۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑے گے کہ صلاح الدین چور تھا یا معصوم۔۔۔ اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا تھا، مگر پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی صلاح الدین کو مار مار کر ہڈی پسلی ایک کر کے ہلاک کر دیا۔

اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرم سے نفرت نہیں بلکہ مجرم سے نفرت ہے ان کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے مجرم کا قلع قمع کر سکے۔
 کراچی کا انتظار ہو یا   نقیب اللہ مسعود کا کیس، ساہیوال کا سانحہ ہو یا  صلاح الدین کا کیس  سب سانحات میں پولیس نے صحیح انوسٹیگیشن کے بجائے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، حلانکہ پولیس کو  عدالت میں مجرم کا چلان جمع کر کے عدالت کے زریعے سزا دلوانے کے بجائے مجرم کو مٹانے میں پہل کی ہے۔  شاہد پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو یہ لگا ہوگا کہ   پاکستان کے عدالتوں سے انصاف تاخیر سے ملتا ہے اور  عدم شواہد کی بنیاد پر مجرم باعزت بری بھی ہوتا ہے اس سے بہتر ہے کہ  صلاح الدین  کو قرار واقعی سزا اپنے ہاتھ سے ہی تجویز کر کے مکمل طور پر مجرم کا خاتمہ کیا جائے تاکہ دوسرا  مجرم  اس طرح کے جرم کا مرتکب نہ ہو سکے ۔
پنجاب پولیس کا دعویٰ ہے کہ صلاح الدین کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، مگر حیرت اس بات کی ہے کہ بڑے بڑے مجرموں کو منی لانڈرنگ اور پاکستان کو گرے لسٹ تک پہنچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے والے نواز شریف اور زرداری پچھلے  سال سے قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں ان کی صحت بھی کافی خراب اور عمر کی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ قید کی  تنہائی بھی  دل کا دورہ پڑنے کا موجد بن سکتی ہے  مگر ان کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا ہے اپنی مرضی کا کھانے کھاتے ہیں اور ہر قسم کے عشیاں کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں صلاح الدین ایک ہٹا کٹا نوجوان دو دن پولیس کی تحویل میں رہ کر دل کا دورہ کیسے پڑ سکا ہے؟  اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ صلاح الدین چور تھا؛ چور تو سخت جان ، لڑاکو، مضبوط جسامت اور  تگڑا ہوتا ہے۔ صلاح الدین کے لواحقین کی جانب سے جاری کردہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے نہیں بلکہ بدترین تشدد کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔
صلاح الدین کی مبینہ قتل اصل میں عوام کی قتل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ اس نظام عدل کی جال میں  صرف غریب عوام پھستی ہے بڑے بڑے مگرمچھ اس جال سے بھی آسانی سے نکل سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے  اس ملک میں دو طرح کے نظام چلتے ہیں  ایک صلاح الدین جیسے غریب اور دوسرا بڑے بڑے ایوانوں میں براجمان ہوئے بڑے بڑے صاحباں کے لیے،؛ ان کو معمولی سی  کھانسی یا زکام بھی ہوتا ہے تو  فوراً لندن کے ہسپتالوں کا رخ کرتے  ہیں۔
یہاں  جمہوریت کی بالادستی کے لیے نواز شریف، زرداری اور عمران خان کے جلسوں میں نعرے لگانے والوں سے کچھ  سوالات ہیں۔ پہلا سوال   کیا جمہوریت کو تب خطرہ پڑ  سکتا ہے جب نواز شریف کو جیل میں ائیر کنڈیشنر دستیاب نہ ہو یا زرداری کو منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی عدالت میں کھڑا کیا جائے، یا فریال تالپور اور مریم نواز کو کرپشن کے الزام میں جیل منتقل کیا جائے؟
اور دوسرا سوال کیا صلاح الدین کو پولیس تفتیش سے پہلے میڈیکل چیک اپ کرایا گیا تھا جیسا نواز شریف اور زرداری کا جیل میں روانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے؟ مجھے قویٰ یقین ہے کہ  صلاح الدین کو پولیس اپنے تحویل میں لینے کے بعد ہی تشدد شروع کی ہوگی تب ہی اس کے جسم پر بدترین تشدد عیاں تھا۔ حقیقی معنوں میں جمہوریت کی بقا اور اس کی بالادستی تب ممکن ہے جب  صلاح الدین جیسے غریبوں کے ساتھ بھی نواز شریف اور زرداری جیسا سلوک کیا جائے۔ صلاح الدین کا زہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس  کے گھر والوں نے احتیاطاً اس کے  بازو  پر اس کے گھر کا پتا، رابطہ نمبر اور ولدیت تک  نقش کیا تھا کئی راستہ بھڑکے تو کوئی سمجھدار اور  انسان دوست اس کے گھر والوں کو صلاح الدین کا اطلاع دی سکتے اس کے گھر والوں کو کیا معلوم تھا  اس دھرتی کے  محافظ ہی صلاح الدین کی زندگی کا چراغ گل کر دے گے، حلانکہ صلاح الدین پولیس اہلکار کے سامنے اصرار کر رہا ہے میں سچ سچ بتاؤ گا کیا آپ مجھے ماروا گے تو نہیں۔
 عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تب پنجاب پولیس اس کے نشانے پر تھی متعدد بار پنجاب پولیس کو مخاطب کرکے جلسوں میں للکارا کرتے تھے جب میں حکومت میں آؤ گا تب پنجاب پولیس تمھارے خیر نہیں ہے۔ عمران خان کو حکومت میں آئے اب تک تقریباً ایک سال کا عرصہ ہوچکا ہے پنجاب پولیس کی وردی کی تبدیلی ، ڈی پی اوز اور  آر پی اوز کی تبدیلی کے علاؤہ کچھ نہیں ہوا ہے۔ خان صاحب بھی شاید بھول رہے ہیں کہ چہرے نہیں نظام بدلو اس طرح سے تبدیلی کا نعرہ پھیکا رہ جائے گا آئے روز معصوم قتل ہوتے جائیں گے اور صلاح الدین جیسے پولیس اہلکاروں کے سامنے اپنی بے گناہی کا رونا رو کر پوچھے گے مارو گے تو نہیں، بدقسمتی سے یہاں سچ بتانے کی سزا موت ہے۔
صلاح الدین اگر آپ چور ڈاکو بھی ہیں تو زمانے کی نظر میں  آپ بے گناہ ثابت ہوئے خداوند آپ کی روح کو دائمی سکوں نصیب کرے۔ آمین!
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments