اسیران ہنزہ کا کیس سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے بدنیتی اور قانون کی خلاف ورزی سے خراب کردیا، ظہور ایڈوکیٹ

ہنزہ(پ ر)پیپلزپارٹی ضلع ہنزہ کے صدر ظہور کریم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہنزہ کے 14اسیران کا کیس سابق چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ رانا شمیم کی بدنیتی قانون و آئین کی سنگین خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے۔ رانا شمیم ایک کرپٹ شخص ہے۔ ان کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عدالت عظمیٰ کی توقیر پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے اتوار کے روز ہنزہ میں اپنی لاء چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چیف جسٹس آف گلگت بلتستان جسٹس سید ارشاد حسین سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کیس کو دوبارہ کھول متاثرہ خاندانوں کا اپیل کرنے کا موقع فراہم کرے،کیوں کہ یہ ایک غیر قانونی کیس ہے اور اس میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس سپریم اپلیٹ کورٹ رانا شمیم نے 2016میں سانحہ علی آباد کے اسیران کے خلاف دئیے گئے فیصلے کے صفحہ نمبر 66پیرانمبر28میں واضح طور پر سانحہ علی آباد کے حوالے سے بننے والی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ و سابق جج چیف کورٹ جسٹس عالم  کو لعن طعن  کرکے اپنے ہی فیصلے کے خلاف بات کی ہے جبکہ سابق جسٹس عالم صاحب نے تمام سانحہ علی آباد کے اسیران کو رہا کیا تھا کیوں کہ ان کو معلوم تھا کہ اس کیس کے اصل حقائق کیا ہیں کیوں کہ موصوف خود سانحہ علی آباد کے حوالے سے بننے والی جوڈیشن کمیشن کے سربراہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کے دلوں کی جماعت ہے، جب کسی بھی چیز سے محبت دل سے ہوتا ہے تو اس کودنیاکی کوئی طاقت نہیں نکال سکتی ہے، اسی طرح گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی صوبائی قیادت بالخصوص امجد ایڈووکیٹ کی سربراہی میں عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کررہی ہے۔ عوام کا اور بالخصوص غریب اور پسے ہوئے طبقے کے ہر مشکل کھڑی میں پیپلزپارٹی ہی کھڑی رہی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہنزہ خنجراب بارڈر سے لے کر کراچی تک عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔کیوں کہ پیپلزپارٹی عوام کے کوئی الگ طبقے کی یا مخصوص طبقے و علاقے کی جماعت نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments