پاسپورٹ آفس ہنزہ کے ملازمین غائب، سائلین رُل گئے

تحریر: علی جان برچہ

 غیر ملکی سفر کیلے پاسپورٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کوئی بھی شہری کسی معاشی، سیاسی، مذہبی، تفریحی یا تعلیمی مقصد کے لئے بیرون ملک سفر کرنا چاہتا ہے ھے تو سب سے پہلے پاسپورٹ بنوانا پڑتا ہے۔

راقم کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلے بیرون ملک جاناہے۔ پاسپورٹ بنوانے کی غرض سے اس سلسلے میں آج پاسپورٹ آفس ہنزہ کا چکر لگانا پڑا۔ صبح 9 بجے آفس پہنچا لیکن آفس بند تھا اور عملہ موجود نہیں تھا۔ سوچا، ابھی آتے ہی ہونگے۔ آئیں گے اور دفتری امور شروع کرینگے۔ وقت پہ کام نمٹا لونگا۔

کافی ٹائم گزر گیا لیکن آفس کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہاتھا۔ اسی طرح انتظار کرتا رہا اور 11 بج گئے۔ گیٹ پہ سائلین کا رش بڑھتا گیا۔ کافی دیر بعد ایک ملازم آیا اور دفتر کھولا۔ کچھ ابتدائی اندراج کے بعد کہاگیا کہ بینک میں پیسے جمع کریں، بقایا کام اس کے بعد کیا جائے گا۔

فیس جمع کرنے بینک پہنچا تو وہاں بھی کافی رش تھا۔ وقت لگا۔ واپس پاسپورٹ آفس پہنچنے تک دن کے ایک بج گئے۔ گیٹ پہ پہنچ کے دیکھا تو کافی سائلین جمع تھے لیکن گیٹ پھر سے بند تھا۔

کہا گیا کہ ملازمین چھٹی کرکے چلے گئے ہیں۔

ملازمین نے مشکل سے تین گھنٹے کیلے دفتر کھولا اور پھر چھٹی کر کے چلے گئے۔ سائل ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ مجال ہے کوئی ان سے پوچھنے کی جرات کرسکے۔

ایسا صرف ایک دن نہیں ہوا ہے۔ سائلین نے کہا کہ ایسا روز کا معمول ہے۔

متعلقہ ادارے کے زمہ داران سے گزارش ھے کہ ان ملازمین کے خلاف ایکشن لیا جاۓ اور ان کو آپنے مقررہ وقت میں ان کی حاضری یقینی بنائی جائے۔ مقررہ ملازمین سے گزارش ھے کہ اپنے دفتری اوقات میں اپنی حاضری یقینی بنایا جائے اور اپنے بچوں کا شکم حرام سے بھرنے کے بجائے لقمہ حلال سے بھر دیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments