15 اکتوبر تک دیامر بھاشہ ڈیم کمیٹی کے مسائل حل نہیں‌ہوے تو احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا، پریس کانفرنس سے رہنماوں‌کا خطاب

چلاس ( ڈسٹرکٹ رپورٹر ) دیامر بھاشہ ڈیم کمیٹی کے اراکین نے کہا ہے کہ اگر 15 اکتوبر تک دیامر بھاشہ ڈیم کمیٹی کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو ضلعی سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس کی تمام تر زمہ داری وفاقی حکومت اور واپڈا پر عائد ہو گی مقامی ہوٹل میں ڈیم کمیٹی کے صدر عطاءاللہ ، مولانا صادق جمشید و دیگر نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے طے شدہ معاہدے میں ری سٹیلمنٹ کے حوالے سے ہر متاثر کو رہائشی ایک کنال زمین فری آف کاسٹ اور چھ کنال زرعی زمین ایک ہی جگہ میں دینا تھا مگر تاحال کسی قسم کا بندوبست نہیں کیا گیا ہے ہرپن داس میں ایک کنال زمین کے بجائے 18 مرلہ اور دس مرلے کے پلاٹ بنانے تھے مگر ہرہن داس میں زمءن کی کمی کی وجہ سے متاثرین کو ساڑھے تیرہ ارب روپے دینے کا معاہدہ کیا گیا تھا اس معاہدے کے نو مہینے ہو گئے ہیں اب تک متاثرین کے ساتھ دھوکہ دیتے رہے ۔نہ مختص شدہ رقم دی گئی اور نہ پیسہ ۔جسکی وجہ سے متاثرین میں سخت قسم کی بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوہر آباد نیا کے کے ایچ کا ایوارڈ ہونے کے باوجود معاوضے جبراً روکا گیا ہے جو کہ زیادتی اور ناانصافی کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ جو زمینیں ریزروائر ایریا میں پیمائش کے بغیر رہ گئی ہیں انکی فی الفور پیمائش کی جائے اور فوری معاوضے دیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سی بی ایم سکیموں تمام متاثرہ علاقوں میں اجتماعی نوعیت کی سکیمیں علاقائی سطح پر کمیٹیاں بنا کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ اگر دیامر بھاشہ ڈیم کی ضرورت نہیں ہے صرف متاثرین کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ ہے تو ڈیم کی تمام سرگرمیوں کو ختم کرکے کام بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ پندرہ اکتوبر تک ان مسائل کا حل نہیں نکالا گیا تو مکمل احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔۔۔۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments